عقیل بن خالد نے حدیث سنائی کہ ابن شہاب ( زہری ) نےکہا : مجھے ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ زانی زنا نہیں کرتا ..... ‘ ‘ پھر گزشتہ حدیث کی طرح بیان کیا جس میں لوٹ کا ذکر تو ہے ، لیکن ’’قدر و منزلت والی چیز ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ۔ ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح حدیث سنائی جس طرح ابوبکر کی روایت ہے لیکن اس میں ’’لوٹ ‘ ‘ کا ذکر نہیں ہے
اوزاعی نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن مسیب ، ابو سلمہ اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی جس طرح عقیل نےزہری سے حدیث بیان کی اور اس میں ’’لوٹ ‘ ‘ کا تذکرہ کیا لیکن ’’قدر وقیمت والی چیز ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
حدیث 205 — صحيح مسلم 1:112
وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
صفوان بن سلیم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے اور حمید بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہون نے نبی ﷺ سے یہ روایت بیان کی ۔
معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، ان سب ( صفوان ، علاء اور معمر ) کی روایات ( 205 ۔ 207 ) امام زہری کی روایت ( 204 ) کے مانند ہیں ، البتہ علاء اور صفوان کی بیان کردہ حدیث روایت ( 205 ، 206 ) میں ’’ جس کی طرف سے لوگ نظر اٹھاتے ہیں ‘ ‘ کے ا لفاظ موجود نہیں ۔ اور ہمام کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں : ’’مومن لوگ ( اس چیز کی قدر و قیمت کی بنا پر ) اس کی طرف سے اپنی نظریں اٹھاتے ہیں اور وہ ( لوٹتے وقت ) مومن نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ اور معمر نے یہ اضافہ بھی کیا ہے : اور تم میں سے کوئی خیانت نہیں کرتا کہ جب خیانت کررہا ہو تو وہ مومن ہو ، لہٰذا تم ( ان تمام کاموں سے ) بچو ، تم بچو
شعبہ نے سلیمان سے ، انہوں نے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تا ہے تو مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب وہ پی رہا ہو تو مومن ہو ۔ اور ( ان کو ) بعد میں توبہ کا موقع دیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 209 — صحيح مسلم #209
سفیان نے ( سلیمان ) اعمش کے حوالے سے خبر دی کہ ذکوان نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا ، فرمایا : ’’زانی زنا نہیں کرتا کہ جب وہ زنا کر رہا ہو ..... ‘ ‘ آگے ( سفیان نے ) شعبہ کی حدیث کے مانند بیان کیا
عبد اللہ بن نمیر اور سفیان نے اعمش سے ، انہوں نے نے عبد اللہ بن مرہ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ چار عادتیں ہیں جس میں وہ ( چاروں ) ہوں گی ، وہ خالص منافق ہو گا اور جس کسی میں ان میں سے ایک عادت ہو گی تو اس میں نفاق کی ایک عادت ہو گی یہاں تک کہ اس سے باز آ جائے ۔ ( وہ چار یہ ہیں : ) جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب معاہدہ کرے تو توڑ ڈالے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی دے ۔ ‘ ‘ البتہ سفیان کی روایت میں خلقة کے بجائے خصلةکا لفظ ہے ( معنی وہی ہیں ۔)
نافع بن مالک بن ابی عامر نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو ( اس کی ) خلاف ورزی کرے اور جب اسے ( کسی چیز کا ) امین بنایا جائے تو ( اس میں ) خیانت کرے ۔ ‘ ‘
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں حرقہ کے آزاد کردہ غلام علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب نے اپنے والد سے خبر دی اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور امین بنایا جائے تو خیانت کرے