یحییٰ بن محمد بن قیس ابو زکیر نے کہا : میں نے علاء بن عبدالرحمٰن کو اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : ’’ منافق کے علامات تین ہیں ، چاہے وہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے ۔ ‘ ‘
حماد بن سلمہ نے داؤد بن ابی ہندہ سے ، انہوں نے سعید بن مسیب کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو یحییٰ بن محمد کی علاء سے بیان کردہ روایت کے مطابق ہے اور اس میں بھی یہ الفاظ ہیں : ’’خواہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے ۔ ‘ ‘
نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اپنے بھائی کو کافر قرار دے تو دونوں میں سے ایک ( ضرور ) کفر کے ساتھ واپس لوٹے گا
عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اپنے بھائی سے کہا : اے کافر ! تو دونوں میں سے ایک ( کفرکی ) اس ( نسبت ) کے ساتھ لوٹے گا ۔ اگر وہ ایسا ہی ہے جس طرح اس نےکہا ( تو ٹھیک ) ورنہ یہ بات اسی ( کہنے والے ) پر لوٹ آئے گی ۔ ‘ ‘
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے سنا : ’’ جس شخص نے دانستہ اپنے والد کے بجائے کسی اور ( کابیٹا ہونے ) کا دعویٰ کیا تو اس نے کفر کیا اور جس نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا جواس کی نہیں ہے ، وہ ہم میں سے نہیں ، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔ اور جس شخص نے کسی کو کافر کہہ کر پکارا یا اللہ کا دشمن کہا ، حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ ( الزام ) اسی ( کہنے والے ) کی طرف لوٹ جائے گا ۔ ‘ ‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے آباء سے بے رغبتی نہ کرو ، چنانچہ جس شخص نے اپنے والد سے انحراف کیا تویہ ( عمل ) کفر ہے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 2> </ہیڈنگ 2>
حدیث 219 — صحيح مسلم 1:125
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ سَمِعَ أُذُنَاىَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ " مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الإِسْلاَمِ غَيْرَ أَبِيهِ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
خالد نے ابو عثمان سےنقل کیا کہ جب زیاد کی نسبت ( ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف ہونے ) کا دعویٰ کیا گیا تھا تو میں جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ سےملا اور پوچھا : یہ تم لوگوں نے کیا کیا ؟ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جس نے اسلام کی حالت میں اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کو باپ بنانے کادعویٰ کیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے ۔ ‘ ‘ اس پر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : خود میں نے بھی رسول اللہ رضی اللہ عنہ سےیہی سنا ہے ۔
عاصم نے ابو عثمان سے اور انہوں نے حضرت سعد اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ دونوں کہتے تھے : یہ بات میرے دونوں کانوں نے محمدﷺ سے سنی ( اورمیرے دل نے یاد رکھی ) کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے : ’’جس نے اپنے والد کے سوا کسی اور کو والد بنانے کا دعویٰ کیا ، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا والد نہیں ہے ، تو اس پر جنت حرام ہے ۔ ‘ ‘
محمد بن طلحہ ، سفیان اور شعبہ تینوں نے زبید سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔ ‘ ‘ زبید نے کہا : میں نے ابو وائل سے پوچھا : کیا آپ نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے خود سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ شعبہ کی روایت میں زبید کے ابو وائل سے پوچھنے کا ذکر نہیں ہے ۔