ابو زرعہ ( ہرم بن عمرو بن جریر بن عبد ا للہ البجلی ) نے اپنے دادا حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ نبی اکرمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا : ’’ لوگوں کو چپ کراؤ ۔ ‘ ‘ اس کے بعد آپ نے فرمایا : ’’ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔ ‘ ‘
حدیث 224 — صحيح مسلم 1:130
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
معاذ بن معاذ نے شعبہ سے ، انہوں نے واقد بن محمد سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، ا نہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سابقہ حدیث کے مطابق روایت کی ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے واقد بن محمد بن زید سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے تھے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا : ’’ تم پر افسوس ہوتا ہے ( یا فرمایا : تمہارے لیے تباہی ہو گی ) تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔ ‘ ‘
حدیث 226 — صحيح مسلم 1:132
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ وَاقِدٍ .
عبد اللہ بن وہب نے کہا : ہمیں عمر بن محمد نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح شعبہ نے واقد سے بیان کی ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں میں دو باتیں ہیں ، وہ دونوں ان میں کفر ( کی بقیہ عادتیں ) ہیں : ( کسی کے ) نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا ۔ ‘ ‘
منصور بن عبدالرحمٰن نے شعبی سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں جریر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : ’’ جو غلام اپنے مالکوں سے بھاگ گیا ، اس نےکفر کا ارتکاب کیا یہاں تک کہ ان کی طرف لوٹ آئے ۔ ‘ ‘ ( نہ یہ کہ دوبارہ مسلمان ہو ۔ ) منصور نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ حدیث نبی اکرمﷺ سے روایت کی گئی ہے لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ یہاں ( بصرہ میں ) مجھ سےیہ ( اس طرح مرفوعاً ) روایت کی جائے ۔ ( کیونکہ بصرہ کےخارجی اس سے مطلق کفر کا استدلال کریں گے ۔)
حدیث 229 — صحيح مسلم 1:135
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ " .
داؤد نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو غلام بھگوڑا ہو گیا تو اس ( کے تحفظ ) سے ( اسلامی معاشرے اور حکومت کی ) ذمہ داری ختم ہو گئی ۔ ‘ ‘
حدیث 230 — صحيح مسلم 1:136
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ " .
مغیرہ نے شعبی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کیا کرتے تھے : ’’ جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ ‘ ‘ ( جس طرح حرام کھانے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔)
حضرت زید بن جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر رات کو ہونے والی بارش کے بعد ، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ ‘ ‘ انہوں نےجواب دیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( آج ) میرے بندوں میں سے کوئی مجھ پر ایمان لانےو الا اور ( کوئی میرےساتھ ) کفر کرنے والا ہو گیا ۔ جس نے یہ کہا ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کےفضل اور رحمت سےبارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے ( کےغروب و طلوع ہونے ) کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نےحدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےکہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے رب عز وجل نے کیا فرمایا ؟ اس نے فرمایا : جو نعمت بھی میں بندوں کو دیتا ہوں تو ان میں سے ایک گروہ ( سے تعلق رکھنے والے لوگ ) اس ( نعمت ) کے سبب سے کفرکرنے والےہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں : فلاں ستارے ( نے یہ نعمت دی ہے ) یا فلاں فلاں ستاروں کے سبب سے ( ملی ہے ۔ ) ‘ ‘