قرآني·Qurani
اردو

الإيمان

441 احادیث · #93–533

حدیث 233 — صحيح مسلم 1:139
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَرَكَةٍ إِلاَّ أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ يُنْزِلُ اللَّهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ الْكَوْكَبُ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ وَفِي حَدِيثِ الْمُرَادِيِّ ‏"‏ بِكَوْكَبِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏
محمد بن سلمہ مرادی نے اپنی سند سے اور عمرو بن سواد نے اپنی سند سے عمرو بن حارث سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ آسمان سے برکت ( بارش ) نازل نہیں کرتا مگر لوگوں کا ایک گروہ ، اس کے سبب سے کافر ہو جاتا ہے ، بارش اللہ تعالیٰ اتارتا ہے ( لیکن ) یہ لوگ کہتے ہیں : فلاں فلاں ستارے کے باعث ( اتری ہے ۔ ) ‘ ‘ اور مرادی کی روایت کے یہ ا لفاظ ہیں : ’’فلاں فلاں ستارے کے باعث ( اتری ہے ۔)
حدیث 234 — صحيح مسلم 1:140
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ وَمِنْهُمْ كَافِرٌ قَالُوا هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ‏}‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ‏{‏}
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دور میں لوگوں کو بارش سے نوازا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں میں سے کچھ شکر گزار ہو گئے ہیں اور کچھ کافر ( ناشکرے ) ، ( بعض ) لوگوں نے کہا : یہ اللہ کی رحمت ہے اور بعض نے کہا : فلاں فلاں نوء ( ایک ستارے کا غروب اور اس کے سبب سے دوسرے کی بلندی ) سچی نکلی ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) فرماتے ہیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں ۔ ‘ ‘ ( سے لے کر ) اس آیت تک : ’’ اور تم اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ تم اس کی تکذیب کرتے ہو ۔ ‘ ‘
حدیث 235 — صحيح مسلم 1:141
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ آيَةُ الْمُنَافِقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ وَآيَةُ الْمُؤْمِنِ حُبُّ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏
انس ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌منافق ‌كی ‌نشانی ‌یہ ‌ہے ‌كہ ‌انصار ‌سے ‌دشمنی ‌ركھے ‌اور ‌مومن ‌كی ‌نشانی ‌یہ ‌ہے ‌كہ ‌انصار ‌سے ‌محبت ‌ركھے ‌. ‌
حدیث 236 — صحيح مسلم 1:142
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ حُبُّ الأَنْصَارِ آيَةُ الإِيمَانِ وَبُغْضُهُمْ آيَةُ النِّفَاقِ ‏"‏ ‏.‏
خالد بن حارث نے کا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انصار سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے او ران سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 237 — صحيح مسلم 1:143
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي الأَنْصَارِ ‏ "‏ لاَ يُحِبُّهُمْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يُبْغِضُهُمْ إِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِعَدِيٍّ سَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ قَالَ إِيَّاىَ حَدَّثَ ‏.‏
شعبہ نے عدی بن ثابت سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو نبی اکرم ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ نے انصار کے بارے میں فرمایا : ’’ ان سے محبت نہیں کرتا مگر وہی جو مومن ہےاور ان سے بغض نہیں رکھتا مگر وہی جو منافق ہے ۔ جس سے ان سے محبت کی ، اللہ اس سے محبت کرتا ہے او رجس نے ان سے بغض رکھا اللہ اس سے بغض رکھتا ہے ۔ ‘ ‘ شعبہ نے کہا : میں عدی سے پوچھا : کیا تم نے یہ روایت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنی ہے ؟ توانہوں نے جواب دیا : انہوں نے یہ حدیث مجھی کو سنائی تھی ۔
حدیث 238 — صحيح مسلم 1:144
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی ایسا آدمی انصار سے بغض نہیں رکھے گا جو اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 239 — صحيح مسلم 1:145
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا جو اللہ تعالیٰ اورآخرت کےدن پر ایمان رکھتا ہو
حدیث 240 — صحيح مسلم 1:146
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ أَنْ لاَ يُحِبَّنِي إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يُبْغِضَنِي إِلاَّ مُنَافِقٌ ‏.‏
حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑ اور روح کو تخلیق کیا ! نبی امی ﷺنے مجھے بتا دیا تھا کہ ’’ میرے ساتھ مومن کے سوا کوئی محبت نہیں کرے گا اور منافق کے سوا کوئی بغض نہیں رکھے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 241 — صحيح مسلم 1:147
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ الاِسْتِغْفَارَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ جَزْلَةٌ وَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ قَالَ ‏"‏ أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ مَا تُصَلِّي وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ ‏"‏ ‏.‏
لیث نے ابن ہادلیثی سے خبر دی کہ عبد اللہ بن دینار نےحضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’اے عورتوں کی جماعت ! تم صدقہ کیا کرو ، اور زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کرو ، کیونکہ میں نے دوزخیوں میں اکثریت تمہاری دیکھی ہے ۔ ‘ ‘ ان میں سے ایک دلیر اورسمجھ دار عورت نے کہا : اللہ کے رسول! ہمیں کیا ہے ، دوزخ میں جانے والوں کی اکثریت ہماری ( کیوں ) ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ تم لعنت بہت بھیجتی ہو اور خاوند کا کفران ( نعمت ) کرتی ہو ، میں نے عقل و دین میں کم ہونے کے باوجود ، عقل مند شخص پر غالب آنے میں تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا؟ اے اللہ کے رسول ! عقل و دین میں کمی کیا ہے ؟ آپ نےفرمایا : ’’ عقل میں کمی یہ ہے کہ دوعورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے ، یہ توہوئی عقل کی کمی اور وہ ( حیض کے دوران میں ) کئی راتیں ( اور دن ) گزارتی ہے کہ نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں بے روزہ رہتی ہے تویہ دین میں کمی ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 242 — صحيح مسلم 1:148
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
(لیث کے بجائے ) بکر بن مضر نے ابن ہاد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔