ابو یعفور ( عبد الرحمان بن عبید بن نسطانس ) نے ولید بن عیزار کے حوالے سے ابو عمرو شیبانی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی !کون سا عمل جنت سے زیادہ قریب ( کردیتا ) ہے ؟ فرمایا : ’’نمازیں اپنے اپنے اوقات پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا : ’’ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا : ’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘
عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو عمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی ( اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا ) انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آ پ مجھے مزید بتاتے ۔)
شعبہ سے ان کے ایک شاگر د محمد بن جعفر نے اسی سند سے یہی روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا : ابو عمرو شیبانی نے عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا لیکن ہمارے سامنے ان کانام نہ لیا ۔
حدیث 256 — صحيح مسلم 1:162
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ - أَوِ الْعَمَلِ - الصَّلاَةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ " .
ابو عمرو شیبانی سے ان کے ایک شاگرد حسن بن عبید اللہ نے یہی روایت بیان کی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’سب سے افضل اعمال ( یاعمل ) وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا ہیں ۔ ‘ ‘
منصور نے ابو وائل سے ، انہوں نے عمروبن شرحبیل سےاور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : ’’اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ جبکہ تمہیں اسی ( اللہ ) نے پیدا کیا ہے ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : واقعی یہ بہت بڑا ( گناہ ) ہے ، کہا : میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ پھر یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو ۔ ‘ ‘
(منصور کے بجائے ) اعمش نے ابو وائل سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ م اللہ کے ساتھ کوئی شریک ( بنا کر ) پکارو ، حالانکہ اسی ( اللہ ) نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنی پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ ‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے اس ( بات ) کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی : ’’ جو لوگ اللہ کےساتھ کسی اور کو معبود ( بنا کر ) نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے ( قتل کرنا ) اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے ، حق کے بغیر قتل نیہں کرتے اور جو زنا نہیں کرتے ( وہی رحمٰن کے مومن بندےہیں ۔ ) اور جو ان ( کاموں ) کا ارتکاب کرے گا ، وہ سخت گنا ہ ( کی سزا ) سے دو چار ہو گا ۔ ‘ ‘
حدیث 259 — صحيح مسلم 1:165
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ - ثَلاَثًا - الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ " . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَمَازَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ .
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں ؟ ( آپ نے یہ تین بار کہا ) پھر فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا ( یافرمایا : جھوٹ بولنا ) ‘ ‘ رسول اللہﷺ ( پہلے ) ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے رہے حتی کہ ہم نے ( دل میں ) کہا : کاش! آپ مزید نہ دہرائیں ۔
خالد بن حارث نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ہمیں عبید اللہ بن ابی بکر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نےنبی ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں خبر دی ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو ( ناحق ) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ۔ ‘ ‘
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ سے عبید اللہ بن ابی بکر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا ( یاآپ سے بڑے گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا ) تو آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو ناحق قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ۔ ‘ ‘ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ ‘ ‘ فرمایا : ’’جھوٹ بولنا ( یا فرمایا : جھوٹی گواہی دینا ) ‘ ‘ شعبہ کاقول ہے : میرا ظن غالب یہ ہے کہ وہ ’’ جھوٹی گواہی ‘ ‘ ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ سات تباہ کن گناہوں سے بچو ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا ( بھاگ جانا ) اور پاک دامن ، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا ۔ ‘ ‘