قرآني·Qurani
اردو

الإيمان

441 احادیث · #93–533

حدیث 263 — صحيح مسلم 1:169
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ ‏"‏ ‏.‏
(یزید بن عبد اللہ ) ابن ہاد نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے حمید بن عبد الرحمان سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ آدمی کا اپنےوالدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘ ( صحابہ ) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ فرمایا : ’’ہاں! انسان کسی کے باپ کوگالی دیتا ہے تو وہ ا س کے باپ کو گالی دیتا ہے ۔ جب یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتاہے ۔ ‘ ‘
حدیث 264 — صحيح مسلم 1:170
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
شعبہ اور سفیان نے بھی سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے
حدیث 265 — صحيح مسلم 1:171
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، - أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن حماد نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابان بن تغلب سے حدیث سنائی ، انہوں نے فضیل بن عمرو فقیمی سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے علقمہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی کریمﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ، وہ جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ ایک آدمی نے کہا : انسان چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کے جوتے اچھے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ خود جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند فرماتا ہے ۔ تکبر ، حق کو قبول نہ کرنا اورلوگوں کو حقیر سمجھنا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 266 — صحيح مسلم 1:172
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، - قَالَ مِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرِيَاءَ ‏"‏ ‏.‏
اعمش نے ابراہیم نخعی سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر میں ایمان ہے ، آگ میں داخل نہ ہو گا اور کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہے ، جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘
حدیث 267 — صحيح مسلم 1:173
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ ‏"‏ ‏.‏
(یحییٰ کے بجائے ) شعبہ کے ایک اور شاگرد ابو داؤد نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایسا شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ۔ ‘ ‘
حدیث 268 — صحيح مسلم 1:174
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ وَكِيعٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏ وَقُلْتُ أَنَا وَمَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏.‏
عبد اللہ بن نمیر اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( وکیع نے کہا : عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اور عبد اللہ بن نمیر نے کہا : عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ) آپ فرما رہے تھے : ’’جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا ، وہ آگ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ اور میں ( عبد اللہ ) نے کہا : جو اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے شرک نہ کرتا تھا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
حدیث 269 — صحيح مسلم 1:175
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏
ابو سفیان نےحضرت جاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو ٹھہراتے ہوئے مرا ، و ہ دوزخ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ یعنی توحید جنت کو واجب کر دیتی ہے اور شرک دوزخ کو ۔
حدیث 270 — صحيح مسلم 1:176
وَحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ، سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏
ابو ایوب غیلانی سلیمان بن عبید اللہ او رحجاج بن شاعر نے کہا : ہمیں عبد الملک بن عمرو نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں قرہ نے ابو زبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو کوئی اس حالت میں اللہ سے ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حالت میں ملا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا ، وہ آگ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ ابو ایوب کی حدیث کے الفاظ میں : ابوزبیر نے ( حدثنا جابر’’ جابر نے ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ کے بجائے ) عن جابر ’’جابرسے روایت ہے ‘ ‘ کے الفاظ سے حدیث بیان کی ۔
حدیث 271 — صحيح مسلم 1:177
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
(قرہ کے بجائے ) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث سنائی : بے شک اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ...... ( آگے ) سابقہ روایت کے مانند ہے ۔
حدیث 272 — صحيح مسلم 1:178
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ‏"‏ ‏.‏
معرور بن سوید نےکہا : میں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میرے پاس جبرئیل آئے اور مجھے خوش خبری دی کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حالت میں مرے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ ‘ ‘ میں ( ابو ذر ) نے کہا : چاہے اس نے زنا کیاہو اور چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔