ابو اسود دیلی نے بیان کیا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اس سے حدیث بیان کی کہ میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے ۔ میں پھر حاضر خدمت ہوا تو ( ابھی ) آپ سو رہے تھے ، میں پھر ( تیسری دفعہ ) آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے ۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ، آپ نے فرمایا : ’’ کوئی بندہ نہیں جس نے لا إله إلا الله کہا اور پھر اسی پر مرا مگر وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہواور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘ آپ نے جواب دیا : ’’اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘ میں نے پھر کہا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہواور چوری کی ہو ؟ آپ نے فرمایا : ’’اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کا ارتکاب کیا ہو ۔ ‘ ‘ آپ نے تین دفعہ یہی جواب دیا ، پھر چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا : ’’چاہے ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو ۔ ‘ ‘ ابو اسود نے کہا : ابو ذر ( آپ کی مجلس سے ) نکلے تو کہتے جاتے تھے : چاہے ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو ۔
ليث نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن عدی بن خیار کو خبر دی کہ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے کہ اگرکافروں میں سے کسی شخص سے میرا سامنا ہو ، وہ مجھے سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ تلوار کی ضرب لگائے اور اسے کاٹ ڈالے ، پھر مجھ سے بچاؤ کے لیے کسی درخت کی آڑ لے اور کہے : میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا تو اے اللہ کے رسول ! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں ؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اسے قتل نہ کرو ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ ک ےرسول ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا اور اسے کاٹ ڈالنے کے بعد یہ کلمہ کہے تو کیا میں اسے قتل کر دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے قتل نہ کرو ۔ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو گا جس پر تم اسے قتل کرنے سےپہلے تھے اور تم اس جگہ ہو گے جہاں وہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا ۔ ‘ ‘
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے معمر ، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کےساتھ زہری سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی ، اوزاعی اور ابن جریج کی روایت میں ( لیث کی ) سابقہ حدیث کی طرح أسلمت لله ’’میں اللہ کے لیے اسلام لے آیا ‘ ‘ کے الفاظ ہیں جبکہ معمر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’جب میں نے چاہا کہ اسے قتل کر دوں تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ ‘ ‘ ( دونوں کا حاصل ایک ہے ۔)
یونس نے ابن شہاب نے خبر دی ، انہوں نےکہا : مجھے عطاء بن یزید لیثی جندعی نے بیان کیا کہ عبید اللہ بن عدی بن خیار نے اسے خبر دی کہ حضرت مقداد بن عمرو ( ابن اسود ) کندی رضی اللہ عنہ نے ، جو بنو زہریہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( غزوہ ) بدر میں شرکت کی تھی ، عرض کی : اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر کافروں میں سے ایک آدمی سے میرا سامنا ہو جائے ..... آگے ایسے ہی ہے جیسے لیث کی ( روایت کردہ ) سابقہ حدیث ہے ۔
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے حدیث سنائی اور ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابو معاویہ سے اور ان دونوں ( ابو معاویہ اور ابو خالد ) نے اعمش سے ، انہوں نے ابو ظبیان سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( حدیث کے الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ) کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک چھوٹے لشکر میں ( جنگ کے لیے ) بھیجا ، ہم نے صبح صبح قبیلہ جہینہ کی شاخ حرقات پر حملہ کیا ، میں ایک آدمی پر قابو پا لیا تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا لیکن میں نے اسے نیزہ مار دیا ، اس بات سے میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا تو میں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا اس نے لا إله إلا الله کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس نے اسلحے کے ڈر سے کلمہ پڑھا ، آپ نے فرمایا : ’’ تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جاتا کہ اس نے ( دل سے ) کہا ہے یا نہیں ۔ ‘ ‘ پھر آپ میرے سامنے مسلسل یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نےتمنا کی کہ ( کاش ) میں آج ہی اسلام لایا ہوتا ( اور اسلام لانے کی وجہ سے اس کلمہ گو کے قتل کے عظیم گناہ سے بری ہو جاتا ۔ ) ابو ظبیان نے کہا : ( اس پر ) حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اور میں اللہ کی قسم ! کسی اسلام لانے والے کو قتل نہیں کروں گا جب تک ذوالبطین ، یعنی اسامہ اسے قتل کرنے پر تیار نہ ہوں ۔ ابو ظبیان نے کہا : اس پر ایک آدمی کہنے لگا : کیااللہ کا یہ فرمان نہیں : ’’ اور ان سے جنگ لڑو حتی کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارا اللہ کا ہو جائے ۔ ‘ ‘ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ہم فتنہ ختم کرنے کی خاطر جنگ لڑتے تھے جبکہ تم اور تمہارے ساتھی فتنہ برپا کرنے کی خاطر لڑنا چاہتے ہو ۔
حصین نے کہا : ہمیں ابو ظبیان نے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جہینہ کی شاخ ( یا آبادی ) حرقہ کی طرف بھیجا ، ہم نے ان لوگوں پر صبح کے وقت حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی ، جنگ دوران میں ایک انصاری اور میں ان میں سے ایک آدمی تک پہنچ گئے جب ہم نے اسے گھیر لیا ( اور وہ حملے کی زد میں آ گیا ) تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ انہوں نے کہا : انصاری اس پر حملہ کرنے سے رک گیا اور میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا ۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ جب ہم واپس آئے تویہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی ، اس پر آپ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے اسامہ ! کیا تو نے اس کے لا إله إلاالله کہنے کے بعد اسے قتل کر دیا؟ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! وہ تو ( اس کلمے کے ذریعے سے ) محض پناہ حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ کہا : تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا تو نے اسے لا إله إلا الله کہنے کے بعد قتل کر دیا ؟ ‘ ‘ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ بار بار یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی ( کاش ) میں آج کے دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا ۔
صفوان بن محرز نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فتنے کے زمانے میں جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا اور کہا : میرے لیے اپنے ساتھیوں میں ایک نفری ( نفرتیں سے دس تک کی جماعت ) جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں : چنانچہ عسعس نے اپنے ان ساتھیوں کی جانب ایک قاصد بھیجا جب و ہ جمع ہو گئے تو جندب ایک زرد رنگ کی لمبی ٹوپی پہنے ہوئےآئے اور کہا : جو باتیں تم کر رہے تھے ، وہ کرتے رہو ۔ یہاں تک کہ بات چیت کا دور چل پڑا ۔ جب بات ان تک پہنچی ( ان کے بولنے کی باری آئی ) تو انہوں نے اپنے سر سےلمبی ٹوپی اتار دی اور کہا : میں تمہارے پاس آیاتھا اور میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی سے کوئی حدیث سناؤں ( لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے ) رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کے آمنا سامنا ہوا ۔ مشرکوں کا ایک آدمی تھا ، وہ جب مسلمانوں کے کسی آدمی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس پر حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا ۔ اور مسلمانوں کا ایک آدمی تھا جو اس ( مشرک ) کی بے دھیانی کا متلاشی تھا ، ( جندب بن عبد اللہ نے ) کہا : ہم ایک دوسرےسے کہتے تھے کہ وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں ۔ جب ان کی تلوار مارنے کی باری آئی تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ فتح کی خوش خبری دینے والا نبی ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے ( حالات کے متعلق ) پوچھا ، اس نے آپ کو حالات بتائے حتی کہ اس آدمی ( حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ) کی خبر بھی دے دی کہ انہوں کیا کیا ۔ آپ نے انہیں بلا کر پوچھا اور فرمایا : ’’ تم نے اسے کیوں قتل کیا ؟ ‘ ‘ ا نہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی تھی اور فلاں فلاں کو قتل کیا تھا ، انہوں نے کچھ لوگوں کے نام گنوائے ، ( پھر کہا : ) میں اس پر حملہ کیا ، اس نے جب تلوار دیکھی تو لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ ‘ ‘ ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) کہا ، جی ہاں ! فرمایا : ’’قیامت کے دن جب لا إله إلا الله ( تمہارے سامنے ) آئے گا تو اس کا کیا کرو گے ؟ ‘ ‘ ( اسامہ رضی اللہ عنہ نے ) عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے لیے بخشش طلب کیجیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن ( تمہارے سامنے کلمہ ) لا إله إلاالله آئے گا تو اس کا کیا کرو گے ؟ ‘ ‘ ( جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ ﷺ ان سے مزید کوئی بات نہیں کر رہے تھے ، یہی کہہ رہے تھے : ’’قیامت کے دن لا إله إلا الله ( تمہارے سامنے ) آئے گا تو اس کیا کرو گے ؟ ‘ ‘
حدیث 280 — صحيح مسلم 1:186
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
عبید ا للہ اور امام مالک نےنافع سے اور انہو ں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1> </ہیڈنگ 1>