سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا ، وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘
علاء نےاپنے والد عبدالرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے توآپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا ، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا : ’’ غلے کے مالک! یہ کیا ہے ؟ ‘ ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس پر بارش پڑ گئی تھی ۔ آپ نے فرمایا : ’’ توتم نے اسے ( بھیگے ہوئے غلے ) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لو گ اسے دیکھ لیتے ؟ جس نے دھوکا کیا ، وہ مجھ سے نہیں ۔ ‘ ‘ ( ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔)
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو معاویہ اور وکیع نے حدیث بیان کی ، نیز ( محمد بن عبد اللہ ) ابن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، ان سب ( ابو معاویہ ، وکیع اور ابن نمیر ) نے اعمش سے ، انہوں نے عبد اللہ بن مرہ سے ، انہو ں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کیا یا اہل جاہلیت کی طرح پکارا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘ یہ یحییٰ کی حدیث ہے ( جو انہوں نے ابو معاویہ کے واسطے سے بیان کی ۔ ) البتہ ( محمد ) ابن نمیر اور ابو بکر بن ابی شیبہ ( جنہوں نے ابو معاویہ او روکیع دونوں سے روایت کی ) نے ’’او ‘ ‘ کے بجائے الف کے بغیر ’و ‘ ( ’’یا ‘ ‘ کےبجاےئ’’اور ‘ ‘ ) کہا ہے ۔
جریر او رعیسیٰ نے اعمش سے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا : ’’ اور گریبان چاک کیا اور پکارا ۔ ‘ ‘
حدیث 287 — صحيح مسلم 1:193
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، قَالَ وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ .
قاسم بن مخیمرہ نے بیان کیا کہ مجھے ابو بردہ بن ابی موسیٰ ( اشعری ) نے بیان کیا ، انہوں نے فرمایا : ’’ حضرت ابو موسیٰ ( اشعری ) نے بیان کیا ، انہوں نے فرمایا : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ایسے شدید بیمار ہوئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی ، ا ن کا سر ان کے اہل خانہ میں سے ایک عورت کی گود میں تھا ، ( اس موقع پر ) ان کے اہل میں سے ایک عورت چیخنے لگی ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ( شدید کمزوری کی وجہ سے ) اسے کوی جواب نہ دے سکے ۔ جب افاقہ ہوا تو کہنے لکے : میں اس بات سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا اظہار فرمایا ۔ رسول اللہ ﷺ نے چلا کر ماتم کرنےوالی ، سر منڈانے و الی اور گریبان چاک کرنے والی ( عورتون ) سے لا تعلقی کا اظہار فرمایا تھا ۔
ابو صخرہ نے عبد الرحمن بن یزید اور ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے ( حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ) ذکر کیا ، ان دونوں نے کہا : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پرغشی طاری ہو ئی اور ان کی بیوی ام عبد اللہ چیختے ہوئے رونے کی آواز نکالتی آئیں ، کہا : پھر انہیں افاقہ ہوا تو اسے حدیث سناتے ہوئے بولے : کیا تو نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ میں اس سے بری ہوں جو ( غم کے اظہار کے لیے ) سرمونڈتے ، چیخے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۔ ‘ ‘
حدیث 289 — صحيح مسلم 1:195
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ، عَنِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ . غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ قَالَ " لَيْسَ مِنَّا " . وَلَمْ يَقُلْ " بَرِيءٌ " .
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے تین دیگر سندوں سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کی جن میں عیاض اشعری نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی زوجہ سے ، انہوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول ا للہ ﷺ سے روایت کی او رباقی دو سندوں میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صفوان بن محرز اور ربعی بن حراش ہیں جبکہ عیاض اشعری کی حدیث میں : ’’بری ہوں ‘ ‘ کے بجائے : ’’ ہم میں سے نہیں ‘ ‘ کےالفاظ ہیں ۔
ابووائل نےحضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی کہ ان کو پتہ چلا کہ ایک آدمی ( لوگوں کی باہمی ) بات چیت کی چغلی کھاتا ہے توحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے : ’’ چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا ۔
منصور نے ابراہیم سے اور انہوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی ( لوگوں کی ) باتیں حاکم تک پہنچاتا تھا ، ہم مسجد میں بیٹھے ہوئےتھے تو لوگوں نے کہا : یہ ان میں سے ہے جو باتیں حاکم تک پہنچاتے ہیں ۔ ( ہمام نے ) نےکہا : وہ شخص آیا اور ہمارے پاس بیٹھ گیا ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘
اعمش نے ابراہیم سے اور انہوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بتایا گیاکہ یہ شخص ( لوگوں کی ) باتیں حکمران تک پہنچاتا ہے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے سنانے کی غرض سے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے : ’’ چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘