اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ عز وجل نے فرمایا : جب میرا بندہ کسی برائی کا قصد کرے تو اس کو ( اس کے نامہ اعمال میں ) نہ لکھو ۔ اگر وہ اس کو کر گزرے تو اسے ایک برائی لکھو ۔ اور جب کسی نیکی کا قصد کرے تو اس کو ایک نیکی لکھ لو ، پھر اگر اس پر عمل کرے تو دس نیکیاں لکھو ۔ ‘ ‘
علاء کے والد عبد الرحمن بن یعقوب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے کہا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد کرے اور اس کو عمل میں نہ لائے تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھوں گا ، پھر اگر وہ اسے کر لے تو میں اس کو دس سے سات سو گنا برس تک لکھوں گا اور جب میرا بندہ کسی برائی کا قصدکرے اور اس کو عمل میں نہ لائے تو اس میں اس بندے کے خلاف نہیں لکھوں گا ، پھر اگر وہ اس پر عمل کرے تو میں ایک برائی لکھوں گا ۔ ‘ ‘
حدیث 336 — صحيح مسلم 1:243
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَهُ مَا لَمْ يَعْمَلْهَا فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ رَبِّ ذَاكَ عَبْدُكَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً - وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ - فَقَالَ ارْقُبُوهُ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا . وَإِنْ تَرَكَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً - إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرَّاىَ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلاَمَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ " .
ہمام بن منبہ نے روایت کرتے ہوئے کہا : یہ وہ حدیثیں ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ سے سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے ، کہا : رسو ل اللہ ﷺنے بتایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ ( دل میں ) یہ بات کرتا ہے کہ وہ نیکی کرے گا تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہوں ، جب تک عمل نہ کرے ، پھر اگر اس کوعمل میں لے آئے تو میں اسے دس گناہ لکھ لیتا ہوں اور جب ( دل میں ) برائی کرنے کی بات کرتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں جب تک اس پر عمل نہ کرے ۔ جب وہ اس کو عمل میں لے آئے تو میں اسے اس کے برابر ( ایک ہی برائی ) لکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ فرشتوں نے کہا : اے رب ! یہ تیرا بندہ ہے ، برائی کرنا چاہتا ہے او راللہ اس کو خوب دیکھ رہا ہوتا ہے ، اللہ فرماتا ہے : اس پر نظر رکھو ، پس اگر وہ برائی کرے تو اس کے برابر ( ایک برائی ) لکھ لو اور اگر اس کو چھوڑ دے تو اس کے لیے اسے ایک نیکی لکھو ( کیونکہ ) اس نے میری خاطر اسے چھوڑا ہے ۔ ‘ ‘ اوررسو ل اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے ایک انسان اپنے اسلام کو خالص کر لیتا ہے تو ہر نیکی جو وہ کرتا ہے ، دس گناہ سے لے کر سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور ہر برائی جو وہ کرتا ہے ، اسے اس کے لیے ایک ہی لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملتا ہے ۔ ‘ ‘
ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا ، پھر اس پر عمل نہیں کیا ، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے او رجس نے کسی نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کیا ، اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں او رجس نے کسی برائی کا ارادہ کیا لیکن اس کا ارتکاب نہیں کیا تو وہ نہیں لکھی جاتی اور اگر اس کا ارتکاب کیا تو وہ لکھی جاتی ہے ۔ ‘ ‘
عبدالوارث نے جعد ابو عثمان سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : ہمیں ابو رجاء عطاردی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی ( ان احادیث میں سے جنہیں وہ رسو ل اللہ ﷺ اپنے رب عزو جل سے روایت کرتے ہیں ) آپ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نیکیاں اوربرائیاں لکھی ہیں ، پھر ان کی تفصیل بتائی ہے کہ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا ، پھر وہ نیکی نہیں کی تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ دی ۔ اور اگر نیکی کا ارادہ کیا ، پھر وہ نیکی کر ڈالی تو اللہ عزوجل نے اسے اپنے ہاں دس سے سات سو گنا ( یا ) اس سے زیادہ گنا تک لکھ لیا ۔ اور اگر اس نے برائی کا ارادہ کیا ، پھر اس کا ارتکاب نہ کیا تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھی ۔ اور اگر اس نے ( برائی کا ) ارادہ کیا اور اس کو کر ڈالا تو اللہ نے ایک برائی لکھی ۔ ‘ ‘
جعفر بن سلیمان نے جعد ابوعثمان سے عبد الوارث کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور یہ اضافہ کیا : ’’یا اللہ نے اسے مٹا دیا او راللہ کے ہاں صرف وہی ہلاک ہوتا ہے جو ( خود ) ہلاک ہونے والا ہے ( کہ اللہ کے اس قدر فضل و کرم کے باوجود تباہی سے بچ سکا ۔ ‘ ‘)
سہیل نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا : ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے ، آپ نے پوچھا : ’’ کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے ؟ ‘ ‘ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ یہی صریح ایمان ہے ۔ ‘ ‘
اعمش نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے بنی ﷺ سے یہ حدیث روایت کی ۔
حدیث 342 — صحيح مسلم 1:249
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوَسْوَسَةِ قَالَ " تِلْكَ مَحْضُ الإِيمَانِ " .
حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ( رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ سے وسوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’یہی تو خالص ایمان ہے ۔)