قرآني·Qurani
اردو

الإيمان

441 احادیث · #93–533

حدیث 343 — صحيح مسلم 1:250
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
سفیان نے ہشام سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنےوالد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے ( فضول ) سوالات کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ سوال بھی ہو گا کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ جو شخص ایسی کوئی چیز دل میں پائے تو کہے : میں اللہ پر ایمان لایا ہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 344 — صحيح مسلم 1:251
وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ مَنْ خَلَقَ الأَرْضَ فَيَقُولُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ ‏"‏ وَرُسُلِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید مؤدب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے او رکہتا ہے : آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ ( جواب میں ) کہتا ہے اللہ نے ..... ‘ ‘ پھر اوپر والی روایت کی طرح بیان کی ’’اور اس کے رسولوں پر ( ایمان لایا ) ‘ ‘ کے الفاظ کا اضافہ کیا ۔
حدیث 345 — صحيح مسلم 1:252
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا حَتَّى يَقُولَ لَهُ مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ ‏"‏ ‏.‏
ابن شہاب کے بھتیجے ( محمد بن عبد اللہ بن مسلم ) نے اپنے چچا ( محمد بن مسلم زہری ) سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ اس سے کہتا ہے : تمہارےرب کو کس نے پیدا کیا ؟ جب بات یہاں تک پہنچے تو وہ اللہ سے پناہ مانگے او ر ( مزید سوچنے سے ) رک جائے ۔ ‘ ‘
حدیث 346 — صحيح مسلم 1:253
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ‏.‏
عقیل بن خالد نے کہاکہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بندے کے پاس شیطان آتا ہے او رکہتا ہے : فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا ؟ حتی کہ اس سے کہتا ہے : تیرے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ سوجب بات یہاں تک پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگے اور رک جائے ۔ ‘ ‘ ( یہ حدیث ) ابن شہاب کے بھتیجے کی بیان کردہ حدیث کے مانند ہے ۔
حدیث 347 — صحيح مسلم 1:254
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ ‏.‏ أَوْ قَالَ سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي ‏.‏
عبد الوارث بن عبد ا لصمد کے دادا عبد الوارث بن سعید نے ایوب سے ، انہوں نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نےحضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے : اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘ ابن سیرین نے کہا : اس وقت حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھے تو کہنے لگے : اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ۔ مجھ سے دو ( آدمیوں ) نے ( یہی ) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے ( یا کہا : ) مجھ سے ایک ( آدمی ) نے ( پہلے یہ ) سوال کیا تھا او ریہ دوسرا ہے ۔
حدیث 348 — صحيح مسلم 1:255
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏ "‏ لاَ يَزَالُ النَّاسُ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الإِسْنَادِ وَلَكِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏.‏
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انہوں نے محمد سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ’’ لوگ ہمیشہ سوال کرتے رہیں گے .... ‘ ‘ باقی حدیث عبد الوارث کی حدیث کی مانند ہے ۔ تاہم انہوں نے سند میں نبی کریمﷺ کا ذکر نہیں کیا ، لیکن آخر میں یہ کہا ہے : ’’ اللہ اور اس کے رسول سے سچ فرمایا ۔ ‘ ‘
حدیث 349 — صحيح مسلم 1:256
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزَالُونَ يَسْأَلُونَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ‏"‏ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَنِي نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَقَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَأَخَذَ حَصًى بِكَفِّهِ فَرَمَاهُمْ ثُمَّ قَالَ قُومُوا قُومُوا صَدَقَ خَلِيلِي ‏.‏
ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ابو ہریرہ ! لوگ ہمیشہ تم سے سوال کرتے رہیں گے حتی کہ کہیں گے : یہ ( ہر چیز کا خالق ) اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘ ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : پھر ( ایک دفعہ ) جب میں مسجد میں تھا تو میرے پاس کچھ بدو آئے اور کہنے لگے : اےابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ! یہ اللہ ہے ، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ( ابو سلمہ نے ) کہا : تب انہوں نے مٹھی میں کنکر پکڑے اور ان پر پھینکے اور کہا : اٹھو اٹھو ! ( یہاں سے جاؤ ) میرے خلیل ( نبی اکرم ﷺ ) نے بالکل سچ فرمایا تھا ۔
حدیث 350 — صحيح مسلم 1:257
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيَسْأَلَنَّكُمُ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى يَقُولُوا اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَمَنْ خَلَقَهُ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن اصم نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یقیناً لوگ تم سے ہر چیز کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ کہیں گے : اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا ، پھر اس کو کس نے پیدا کیا؟ ‘ ‘
حدیث 351 — صحيح مسلم 1:258
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ أُمَّتَكَ لاَ يَزَالُونَ يَقُولُونَ مَا كَذَا مَا كَذَا حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن فضیل نے مختار بن فلفل سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی ، آپ نے کہا : ’’ اللہ عز وجل نے فرمایا : ’’ آپ کی امت کے لوگ کہتے رہیں گے : یہ کیسے ہے ؟ وہ کیسے ہے؟ یہاں تک کہ کہیں گے : یہ اللہ ہے ، اس نے مخلوق کو پیدا کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘
حدیث 352 — صحيح مسلم 1:259
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ لَمْ يَذْكُرْ قَالَ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ إِنَّ أُمَّتَكَ ‏"‏ ‏.‏
اسحق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے خبر دی ، نیز ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حسن بن علی نے زائدہ سے حدیث سنائی اور ان دونوں ( جریر اور زائدہ ) نے مختار سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، تاہم اسحاق کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : بے شک آپ کی امت ....... ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔