سفیان نے ہشام سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنےوالد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے ( فضول ) سوالات کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ سوال بھی ہو گا کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ جو شخص ایسی کوئی چیز دل میں پائے تو کہے : میں اللہ پر ایمان لایا ہوں ۔ ‘ ‘
ابو سعید مؤدب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے او رکہتا ہے : آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ ( جواب میں ) کہتا ہے اللہ نے ..... ‘ ‘ پھر اوپر والی روایت کی طرح بیان کی ’’اور اس کے رسولوں پر ( ایمان لایا ) ‘ ‘ کے الفاظ کا اضافہ کیا ۔
ابن شہاب کے بھتیجے ( محمد بن عبد اللہ بن مسلم ) نے اپنے چچا ( محمد بن مسلم زہری ) سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ اس سے کہتا ہے : تمہارےرب کو کس نے پیدا کیا ؟ جب بات یہاں تک پہنچے تو وہ اللہ سے پناہ مانگے او ر ( مزید سوچنے سے ) رک جائے ۔ ‘ ‘
عقیل بن خالد نے کہاکہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بندے کے پاس شیطان آتا ہے او رکہتا ہے : فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا ؟ حتی کہ اس سے کہتا ہے : تیرے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ سوجب بات یہاں تک پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگے اور رک جائے ۔ ‘ ‘ ( یہ حدیث ) ابن شہاب کے بھتیجے کی بیان کردہ حدیث کے مانند ہے ۔
عبد الوارث بن عبد ا لصمد کے دادا عبد الوارث بن سعید نے ایوب سے ، انہوں نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے : اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘ ابن سیرین نے کہا : اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھے تو کہنے لگے : اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ۔ مجھ سے دو ( آدمیوں ) نے ( یہی ) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے ( یا کہا : ) مجھ سے ایک ( آدمی ) نے ( پہلے یہ ) سوال کیا تھا او ریہ دوسرا ہے ۔
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انہوں نے محمد سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’ لوگ ہمیشہ سوال کرتے رہیں گے .... ‘ ‘ باقی حدیث عبد الوارث کی حدیث کی مانند ہے ۔ تاہم انہوں نے سند میں نبی کریمﷺ کا ذکر نہیں کیا ، لیکن آخر میں یہ کہا ہے : ’’ اللہ اور اس کے رسول سے سچ فرمایا ۔ ‘ ‘
ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ابو ہریرہ ! لوگ ہمیشہ تم سے سوال کرتے رہیں گے حتی کہ کہیں گے : یہ ( ہر چیز کا خالق ) اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےکہا : پھر ( ایک دفعہ ) جب میں مسجد میں تھا تو میرے پاس کچھ بدو آئے اور کہنے لگے : اےابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! یہ اللہ ہے ، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ( ابو سلمہ نے ) کہا : تب انہوں نے مٹھی میں کنکر پکڑے اور ان پر پھینکے اور کہا : اٹھو اٹھو ! ( یہاں سے جاؤ ) میرے خلیل ( نبی اکرم ﷺ ) نے بالکل سچ فرمایا تھا ۔
یزید بن اصم نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یقیناً لوگ تم سے ہر چیز کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ کہیں گے : اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا ، پھر اس کو کس نے پیدا کیا؟ ‘ ‘
محمد بن فضیل نے مختار بن فلفل سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی ، آپ نے کہا : ’’ اللہ عز وجل نے فرمایا : ’’ آپ کی امت کے لوگ کہتے رہیں گے : یہ کیسے ہے ؟ وہ کیسے ہے؟ یہاں تک کہ کہیں گے : یہ اللہ ہے ، اس نے مخلوق کو پیدا کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘
اسحق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے خبر دی ، نیز ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حسن بن علی نے زائدہ سے حدیث سنائی اور ان دونوں ( جریر اور زائدہ ) نے مختار سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، تاہم اسحاق کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : بے شک آپ کی امت ....... ‘ ‘