قرآني·Qurani
اردو

الإيمان

441 احادیث · #93–533

حدیث 353 — صحيح مسلم 1:260
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، - قَالَ أَخْبَرَنَا الْعَلاَءُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى الْحُرَقَةِ - عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ‏"‏ ‏.‏
معبد بن کعب سلمی نے اپنے بھائی عبد اللہ بن کعب سے ، انہوں نے حضرت ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اپنی قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق مارا ، اللہ نے اس کے لیے آگ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام ٹھہرائی ۔ ‘ ‘ ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کی : اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’ چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو ۔ ‘ ‘
حدیث 354 — صحيح مسلم 1:261
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
محمد بن کعب سے روایت ہے ، انہوں نےاپنے بھائی عبد اللہ بن کعب سےسنا ، وہ بیان کر تے تھے کہ ابو امامہ حارثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی کی مانند حدیث سنی
حدیث 355 — صحيح مسلم 1:262
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا كَذَا وَكَذَا ‏.‏ قَالَ صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيَّ نَزَلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَيَمِينُهُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِذًا يَحْلِفُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
اعمش نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ جس نے مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کے لیے عدالت نے اسے پابند کیا اور وہ اس میں جھوٹا ہے ، وہ اللہ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ انہوں ( وائل ) نے کہا : اس موقع پر حضرت اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( مجلس میں ) داخل ہوئے اور کہا : ابو عبد ا لرحمن ( عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : اس اس طرح ( بیان کر رہے ہیں ۔ ) انہوں نےکہا : ابو عبد الرحمن نے سچ کہا ، یہ آیت میرے ہی معاملے میں نازل ہوئی ۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان یمن کی ایک زمین کا معاملہ تھا ۔ میں اس کے ساتھ جھگڑا نبی ﷺ کےہاں لے گیا تو آپ نے پوچھا : ’’کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ( یا ثبوت ) ہے ؟ میں نے عرض کی : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ تو پھر اس کی قسم ( پر فیصلہ ہو گا ۔ ) ‘ ‘ میں نے کہا : تب وہ قسم کھا لے گا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے کسی مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کا فیصلہ کرنے والے نے اس سےمطالبہ کیا تھا اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کےسامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ اس پر یہ آیت اتری : ’’بلاشبہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی قیمت پر کرتے ہیں ..... ‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔
حدیث 356 — صحيح مسلم 1:263
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الأَعْمَشِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ ‏"‏ ‏.‏
(اعمش کے بجائے ) منصور نے ابووائل سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ۔ حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : جو شخص ایسی قسم اٹھاتا ہے جس کی بنا پر وہ مال کا حق دار ٹھہرتا ہے او روہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کو اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا ، پھر اعمش کی طرح روایت بیان کی البتہ ( اس میں ) انہوں نے کہا : میرے اور ایک آدمی کے درمیان کنویں کے بارے میں جھگڑا تھا ۔ ہم ہی جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے دو گواہ ہوں یا اس کی قسم ( کے ساتھ فیصلہ ہو گا ) ۔ ‘ ‘
حدیث 357 — صحيح مسلم 1:264
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقِّهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ‏{‏ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
جامع بن ابی راشد اور عبد المالک بن اعین نے ( ابو وائل ) شقیق بن سلمہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس ن کسی مسلمان شخص کے مال پر ، حق نہ ہوتے ہوئے ، قسم کھائی ، وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ عبد اللہ نے کہا : پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے کتاب اللہ سے اس کا مصداق ( جس سے بات کی تصدیق ہو جائے ) پڑھا : ’’ بلاشبہ جو لوگ اللہ کےساتھ کیے گئے عہد ( میثاق ) اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی سی قیمت پر کرتے ہیں ...... ‘ آخر آیت تک ۔
حدیث 358 — صحيح مسلم 1:265
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَأَبُو عَاصِمٍ الْحَنَفِيُّ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لأَبِي ‏.‏ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْحَضْرَمِيِّ ‏"‏ أَلَكَ بَيِّنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلَكَ يَمِينُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لاَ يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَىْءٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلاَّ ذَلِكَ ‏"‏ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَدْبَرَ ‏"‏ أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ ‏"‏ ‏.‏
سماک نے علقمہ بن وائل سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی ﷺ کے پاس آیا ۔ حضرمی ( حضر موت کے باشندے ) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ میری زمین پر قبضہ کیے بیٹھا ہے جومیرے باپ کی تھی ۔ اور کندی نے کہا : یہ میری زمین ہے ، میرے قبضے میں ہے ، میں اسے کاشت کرتا ہوں ، اس کا اس ( زمین ) میں کوئی حق نہیں ۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے حضرمی سے کہا : ’’کیا تمہاری کوئی دلیل ( گواہی وغیرہ ) ہے ؟ ‘ ‘ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ پھر تمہارے لیے اس کی قسم ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ یہ آدمی بدکردار ہے ، اسے کوئی پرواہ نہیں کہ کس چیز پر قسم کھاتا ہے او ریہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہیں اس سے اس ( قسم ) کے سوا کچھ نہیں مل سکتا ۔ ‘ ‘ وہ قسم کھانے چلا اور جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بات یہ ہے کہ اگر اس نے ظلم اور زیادتی سے اس شخص کا مال کھانے کے لیے قسم کھائی تو بلاشبہ یہ شخص اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ نے اس سے اپنا رخ پھیر لیا ہو گا ۔ ‘ ‘
حدیث 359 — صحيح مسلم 1:266
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلاَنِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ - قَالَ ‏"‏ بَيِّنَتُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَمِينُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِذًا يَذْهَبُ بِهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ لَكَ إِلاَّ ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ ‏.‏
زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم دونوں نے ابو ولید سے حدیث سنائی ( زہیر نے عن أبى الولید کے بجائے حدثنا هشام بن عبد الملك ہمیں ہشام بن عبدالملک نے حدیث سنائی ، کہا ) ہشام بن عبد الملک نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے عبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے علقمہ بن وائل سے اور انہوں نے ( اپنے والد ) حضرت وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا ، آپ کے پاس دو آدمی ( ایک قطعہ ) زمین پرجھگڑتے آئے ، دونوں میں ایک نے کہا : اے اللہ کےرسول ! اس نے دور جاہلیت میں میر ی زمین پر قبضہ کیا تھا ، وہ امرؤ القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( سب سے پہلے ) تمہارا ثبوت ( شہادت ۔ ) ‘ ‘ اس نے کہا : میرے پاس ثبوت نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( تب فیصلہ ) اس کی قسم ( پر ہو گا ) ‘ ‘ اس نے کہا : تب تو وہ زمین لے جائے گا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔ ‘ ‘ حضرت وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : جب وہ قسم کھانے کے لیے اٹھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے ظلم کرتے ہوئے کوئی زمین چھینی ، وہ اس حالت میں اللہ سے ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ اسحاق نے اپنی روایت میں ( دوسرے فریق کا نام ) ربیعہ بن عیدان ( باء کے بجائے یاءکے ساتھ ) بتایا ہے ۔
حدیث 360 — صحيح مسلم 1:267
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي قَالَ ‏"‏ فَلاَ تُعْطِهِ مَالَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي قَالَ ‏"‏ قَاتِلْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي قَالَ ‏"‏ فَأَنْتَ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ قَالَ ‏"‏ هُوَ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی آ کر میرا مال چھیننا چاہے ( تو میں کیا کروں؟ ) آپ نے فرمایا : ’’ اسے اپنا مال نہ دو ۔ ‘ ‘ اس ن کہا : آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو ؟ فرمایا : ’’ تم اس سے لڑائی کرو ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ مجھے قتل کر دے تو ؟ آپ نے فرمایا : ’’ تم شہید ہو گے ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اسے قتل کر دوں ؟ فرمایا : ’’ وہ دوزخی ہو گا ۔ ‘ ‘
حدیث 361 — صحيح مسلم 1:268
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏
عبد الرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے سلیمان احول نے خبر دی کہ عمر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام ثابت نے انہیں بتایا کہ عبد اللہ بن عمرو ( ابن عاص ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور عنبسہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے درمیان وہ ( جھگڑا ) ہوا جو ہوا تو وہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے ، اس وقت ( ان کے چچا ) خالد بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سوار ہو کر عبد اللہ بن عمرو ( بن عاص ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس گئے اور انہیں نصیحت کی ۔ عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : کیا آب کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ’’ جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کر دیا گیا ، وہ شہید ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 362 — صحيح مسلم 1:269
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
(ابن جریج کے دوسرے شاگردوں ) محمد بن بکر اور ابو عاصم نےاسی مذکورہ سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث ) کےمانند حدیث بیان کی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔