حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ " .
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدترین انسانوں میں سے دو رخا شخص ( بھی ) ہوتا ہے ۔ وہ ان لوگوں سے ایک چہرے کے ساتھ ملتا ہے اور ان لوگوں سے دوسرے چہرے کے ساتھ ملتا ہے ۔
اعراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " لوگوں میں سے بدترین شخص دو چہروں والا ہوتا ہے ، جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرے سے آتا ہے اور اُن لوگوں کے پاس دوسرے چہرے سے آتا ہے ۔
حدیث 6632 — صحيح مسلم 45:129
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ " .
سعید بن مسیب اور ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں میں سے بدترین شخص اسے پاؤ گے جس کے دو چہرے ہیں ، ان کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور اُن کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے ۔
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے خبر دی کہ ان کی والدہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی ۔ انہوں نے اسے ( اپنے بیٹے کو ) خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے : "" وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں میں صلح کرائے اور اچھی بات کہے اور اچھی بات پہنچائے ۔ "" ابن شہاب نے کہا : لوگ جو جھوٹی باتیں کرتے ہیں ، میں نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کے بارے میں نہیں سنا کہ ان کی اجازت دی گئی ہے : جنگ اور جہاد میں ، لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے اور خاوند کا اپنی بیوی سے ( اسے راضی کرنے کی ) بات اور عورت کی اپنے خاوند سے ( اسے راضی کرنے کے لیے ) بات ۔
صالح نے کہا : ہمیں محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر صالح کی حدیث میں ہے : اور ( ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : میں نے آپ سے نہیں سنا کہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں آپ نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کی اجازت دی ہو ۔ ( آگے ) اسی کے مانند جس طرح یونس نے ابن شہاب کا قول بتایا ہے ۔
معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ آپ کے اس فرمان تک خبر دی : " اور اچھی بات پہنچائی " اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حدیث 6636 — صحيح مسلم 45:133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ " . وَإِنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا " .
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تم کو یہ نہ بتاؤں کہ بدترین حرام کیا ہے؟ یہ چغلی ہے جو لوگوں کی زبان پر رواں ہو جاتی ہے ۔ " اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انسان سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ ( اللہ تعالیٰ کے ہاں ) وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے حتی کہ اس کو کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔
جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابووائل ( شقیق ) سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سچ نیکی اور اچھائی کے راستے پر لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے ، ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور ( جہنم کی ) آگ کی طرف لے جاتا ہے اور ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔
حدیث 6638 — صحيح مسلم 45:135
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا " . قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہناد بن سری نے کہا : ہمیں ابواحوص نے منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور بندہ پوری کوشش سے سچ ہی کا قصد کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ کج روی ہے اور کج روی جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور بندہ جھوٹ بولنے کا قصد ہوتا رہتا ہے حتی کہ اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔ "" ابن ابی شیبہ کی روایت میں ( "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" کے بجائے ) "" نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے "" کے الفاظ ہیں ۔
ابومعاویہ اور وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق ( ابووائل ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم صدق پر قائم رہو کیونکہ صدق نیکی کے راستے پر چلاتا ہے اور نیکی جنت کے راستے پر چلاتی ہے ۔ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور کوشش سے سچ پر قائم رہتا ہے ، حتی کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ سے دور رہو کیونکہ جھوٹ کج روی کے راستے پر چلاتا ہے اور کج روی آگ کی طرف لے جاتی ہے ، انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے ۔