بہز نے کہا : ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث 6651 — صحيح مسلم 45:148
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنِ أَبِي، الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ " .
مغیرہ حزامی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے ( مسلمان ) بھائی سے لڑے تو چہرے ( پر مارنے ) سے اجتناب کرے ۔
ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " جب تم میں سے کوئی ( دوسرے کو ) مارے ۔
حدیث 6653 — صحيح مسلم 45:150
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ " .
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے ( پر مارنے ) سے بچے ۔
حدیث 6654 — صحيح مسلم 45:151
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ أَبَا، أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلاَ يَلْطِمَنَّ الْوَجْهَ " .
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوایوب سے سنا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے چہرے پر طمانچہ نہ مارے ۔
حدیث 6655 — صحيح مسلم 45:152
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ، حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حَاتِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " .
نصر بن علی جبضمی نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں مثنیٰ ( بن سعید ) نے حدیث بیان کی ، نیز مجھے محمد بن حاتم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن مہدی نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ، آپ نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے آدم کو اس کی صورت پر بنایا ہے ۔
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے ابوایوب یحییٰ بن مالک مراغی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے ( پر مارنے ) سے اجتناب کرے ۔
حفص بن غیاث نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : شام میں ان کا کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا ہوا جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر زیتون کا تیل ڈالا کیا تھا ، انہوں نے پوچھا : یہ کیا ہو رہا ہے؟ بتایا گیا : ان کو خراج ( نہ دینے ) کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے تو ( حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنے کا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ۔
ابواسامہ نے ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ شام کے چند نبطیوں ( سامی قوم زمیندار لوگوں ) کے قریب سے گزرے ، انہوں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا ، انہوں نے پوچھا : ان کا معاملہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا : انہیں جزیے ( کی ادائیگی کے معاملے ) میں محبوس کیا گیا ہے ، تو حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ۔
وکیع ، ابومعاویہ اور جریر سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور جریر کی حدیث میں مزید یہ ہے ، کہا : اور فلسطین پر ان دنوں ان لوگوں کا امیر عمیر بن سعد ( انصاری ) تھا تو وہ ( ہشام رضی اللہ عنہ ) ان کے پاس گئے ، ان کو حدیث سنائی تو انہوں نے ان کے بارے میں حکم دیا ، چنانچہ ان کو چھوڑ دیا گیا ۔