قرآني·Qurani
اردو

البر والصلة والآداب

223 احادیث · #6500–6722

حدیث 6700 — صحيح مسلم 45:197
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ وَزَادَا جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر اور معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت کی اور دونوں نے شعبہ سے ( روایت کرتے ہوئے ) مزید یہ کہا : عبدالرحمن بن اصبہانی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے ابوحازم سے سنا ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تین بچے جو بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے ۔
حدیث 6701 — صحيح مسلم #6701
ہمیں سوید بن سعید اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی ۔ ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں معتمر ( بن سلیمان تیمی ) نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے ابوسلیل سے اور انہوں نے ابوحسان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : میرے وہ بچے فوت ہو گئے ہیں ، آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی حدیث سنا سکتے ہیں جس سے آپ ہمیں ہمارے فوت ہونے والوں کے متعلق ہمارے دلوں کی تسلی دلا سکیں؟ ( ابوحسان نے ) کہا : ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہاں ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " چھوٹے بچے جنت کے پانی کے کیڑے ہیں ( وہ جنت کے اندر ہی رہتے ہیں ) ان میں سے کوئی اپنے باپ ۔ ۔ یا فرمایا : اپنے ماں باپ ۔ ۔ کو ملے گا تو وہ اسے اس کے کپڑے سے پکڑ لے گا ۔ ۔ یا کہا : اس کے ہاتھ سے ۔ ۔ جس طرح میں نے تمہارے اس کپڑے کے کنارے سے پکڑا ہوا ہے ، پھر اس وقت تک نہیں ہٹے گا ۔ ۔ یا کہا : نہیں رکے گا ۔ ۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ " اور سوید کی روایت میں ( ابوسلیل سے روایت ہے کے بجائے یوں ) ہے : ہمیں ابوسلیل نے حدیث سنائی ۔
حدیث 6702 — صحيح مسلم #6702
یحییٰ بن سعید نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جس سے آپ ہمارے فوت ہو جانے والوں کے حوالے سے ہمارے دلوں کو تسلی دلا سکیں؟ ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہاں ۔
حدیث 6703 — صحيح مسلم 45:199
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ، بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّهِ، طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً قَالَ ‏"‏ دَفَنْتِ ثَلاَثَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ مِنْ بَيْنِهِمْ عَنْ جَدِّهِ ‏.‏ وَقَالَ الْبَاقُونَ عَنْ طَلْقٍ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْجَدَّ ‏.‏
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابوبکر کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں عمر بن حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ۔ انہوں نے کہا؛ ہمیں میرے والد نے اپنے دادا طلق بن معاویہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہا : اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیے ، میں تین بچے دفن کر چکی ہوں ۔ آپ نے فرمایا : "" تم نے تین ( بچوں ) کو دفن کیا ہے؟ "" اس نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : "" تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے ایک مضبوط باڑ لگا دی ہے ۔ "" عمر ( بن حفص ) نے کہا : انہوں نے اپنے دادا ( طلق ) سے روایت کی اور باقیوں نے کہا : طلق سے روایت ہے اور دادا کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 6704 — صحيح مسلم 45:200
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَشْتَكِي وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ عَنْ طَلْقٍ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكُنْيَةَ ‏.‏
قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے طلق بن معاویہ نخعی ابوغیاث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی تو اس نے کہا : اللہ کے رسول! یہ بیمار ہے اور میں اس کے بارے میں ( سخت ) خوف کا شکار ہوں ، میں ( اپنے ) تین بچے دفن کر چکی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے مضبوط باڑ بنا لی ہے ۔ "" زہیر نے کہا : طلق سے روایت ہے اور کنیت ( ابوغیاث ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 6705 — صحيح مسلم 45:201
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبَّهُ - قَالَ - فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ ‏.‏ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ - قَالَ - ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الأَرْضِ ‏.‏ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلاَنًا فَأَبْغِضْهُ - قَالَ - فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلاَنًا فَأَبْغِضُوهُ - قَالَ - فَيُبْغِضُونَهُ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے : میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو ، کہا : تو جبرئیل اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں ، کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتاہے ، تم بھی اس سے محبت کرو ، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں ، کہا : پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرئیل کو بُلا کر فرماتا ہے : میں فلاں شخص سے بغج رکھتا ہوں ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، تو جبرئیل اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ے ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، کہا : تو وہ ( سب ) اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر اس کے لیے زمین میں بھی بغض رکھ دیا جاتا ہے ۔
حدیث 6706 — صحيح مسلم 45:202
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ - كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ، الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْبُغْضِ ‏.‏
عبدالعزیز دراوردی ، علاء بن مسیب اور امام مالک بن انس سب نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، البتہ علاء بن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں ہے ( صرف محبت کرنے کی بات ہے ۔)
حدیث 6707 — صحيح مسلم 45:203
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ كُنَّا بِعَرَفَةَ فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لأَبِي يَا أَبَتِ إِنِّي أَرَى اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ‏.‏ قَالَ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ لِمَا لَهُ مِنَ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ ‏.‏ فَقَالَ بِأَبِيكَ أَنْتَ سَمِعْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُهَيْلٍ ‏.‏
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمی ماجثون نے سہیل سے ، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی ، کہا : ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وہاں سے گذر ہوا اور وہ حج کے امیر تھے ، لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے ، میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے ، انہوں نے پوچھا : اس کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا : اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پائی جاتی ہے ، انہوں ( ابوصالح ) نے کہا : تیرا باپ قربان ہو! تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے سہیل سے جریر کی روایت کردہ حدیث بیان کی ۔
حدیث 6708 — صحيح مسلم 45:204
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ ‏"‏ ‏.‏
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " روحیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں ۔ ان میں سے جو ایک دوسرے ( کی ایک جیسی صفات ) سے آگاہ ہو گئیں ان میں یکجائی ( الفت ) ہو گئی اور ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) جو ایک دوسرے سے گریزاں رہیں وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔
حدیث 6709 — صحيح مسلم 45:205
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِحَدِيثٍ يَرْفَعُهُ قَالَ ‏ "‏ النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا وَالأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا ایک حدیث بیان کی ، کہا : " لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح معدنیات کی کانیں ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اگر دین کو سمجھ لیں تو زمانہ اسلام میں بھی اچھے ہیں ۔ اور روحیں ایک ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں جو آپس میں ( ایک جیسی صفات کی بنا پر ) ایک دوسرے کو پہنچاننے لگیں ان میں یکجائی پیدا ہو گئی اور جو ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) ایک دوسرے سے گریزاں رہیں ، وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔