محمد بن جعفر اور معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت کی اور دونوں نے شعبہ سے ( روایت کرتے ہوئے ) مزید یہ کہا : عبدالرحمن بن اصبہانی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے ابوحازم سے سنا ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تین بچے جو بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے ۔
حدیث 6701 — صحيح مسلم #6701
ہمیں سوید بن سعید اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی ۔ ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں معتمر ( بن سلیمان تیمی ) نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے ابوسلیل سے اور انہوں نے ابوحسان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : میرے وہ بچے فوت ہو گئے ہیں ، آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی حدیث سنا سکتے ہیں جس سے آپ ہمیں ہمارے فوت ہونے والوں کے متعلق ہمارے دلوں کی تسلی دلا سکیں؟ ( ابوحسان نے ) کہا : ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہاں ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " چھوٹے بچے جنت کے پانی کے کیڑے ہیں ( وہ جنت کے اندر ہی رہتے ہیں ) ان میں سے کوئی اپنے باپ ۔ ۔ یا فرمایا : اپنے ماں باپ ۔ ۔ کو ملے گا تو وہ اسے اس کے کپڑے سے پکڑ لے گا ۔ ۔ یا کہا : اس کے ہاتھ سے ۔ ۔ جس طرح میں نے تمہارے اس کپڑے کے کنارے سے پکڑا ہوا ہے ، پھر اس وقت تک نہیں ہٹے گا ۔ ۔ یا کہا : نہیں رکے گا ۔ ۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ " اور سوید کی روایت میں ( ابوسلیل سے روایت ہے کے بجائے یوں ) ہے : ہمیں ابوسلیل نے حدیث سنائی ۔
حدیث 6702 — صحيح مسلم #6702
یحییٰ بن سعید نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جس سے آپ ہمارے فوت ہو جانے والوں کے حوالے سے ہمارے دلوں کو تسلی دلا سکیں؟ ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہاں ۔
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابوبکر کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں عمر بن حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ۔ انہوں نے کہا؛ ہمیں میرے والد نے اپنے دادا طلق بن معاویہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہا : اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیے ، میں تین بچے دفن کر چکی ہوں ۔ آپ نے فرمایا : "" تم نے تین ( بچوں ) کو دفن کیا ہے؟ "" اس نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : "" تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے ایک مضبوط باڑ لگا دی ہے ۔ "" عمر ( بن حفص ) نے کہا : انہوں نے اپنے دادا ( طلق ) سے روایت کی اور باقیوں نے کہا : طلق سے روایت ہے اور دادا کا ذکر نہیں کیا ۔
قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے طلق بن معاویہ نخعی ابوغیاث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی تو اس نے کہا : اللہ کے رسول! یہ بیمار ہے اور میں اس کے بارے میں ( سخت ) خوف کا شکار ہوں ، میں ( اپنے ) تین بچے دفن کر چکی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے مضبوط باڑ بنا لی ہے ۔ "" زہیر نے کہا : طلق سے روایت ہے اور کنیت ( ابوغیاث ) کا ذکر نہیں کیا ۔
جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے : میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو ، کہا : تو جبرئیل اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں ، کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتاہے ، تم بھی اس سے محبت کرو ، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں ، کہا : پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرئیل کو بُلا کر فرماتا ہے : میں فلاں شخص سے بغج رکھتا ہوں ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، تو جبرئیل اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ے ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، کہا : تو وہ ( سب ) اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر اس کے لیے زمین میں بھی بغض رکھ دیا جاتا ہے ۔
عبدالعزیز دراوردی ، علاء بن مسیب اور امام مالک بن انس سب نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، البتہ علاء بن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں ہے ( صرف محبت کرنے کی بات ہے ۔)
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمی ماجثون نے سہیل سے ، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی ، کہا : ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وہاں سے گذر ہوا اور وہ حج کے امیر تھے ، لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے ، میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے ، انہوں نے پوچھا : اس کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا : اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پائی جاتی ہے ، انہوں ( ابوصالح ) نے کہا : تیرا باپ قربان ہو! تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے سہیل سے جریر کی روایت کردہ حدیث بیان کی ۔
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " روحیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں ۔ ان میں سے جو ایک دوسرے ( کی ایک جیسی صفات ) سے آگاہ ہو گئیں ان میں یکجائی ( الفت ) ہو گئی اور ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) جو ایک دوسرے سے گریزاں رہیں وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا ایک حدیث بیان کی ، کہا : " لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح معدنیات کی کانیں ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اگر دین کو سمجھ لیں تو زمانہ اسلام میں بھی اچھے ہیں ۔ اور روحیں ایک ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں جو آپس میں ( ایک جیسی صفات کی بنا پر ) ایک دوسرے کو پہنچاننے لگیں ان میں یکجائی پیدا ہو گئی اور جو ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) ایک دوسرے سے گریزاں رہیں ، وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔