زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد بن جبیر بن معطم سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قطع کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔ "" ابن ابی عمر نے بتایا کہ سفیان نے کہا : یعنی قطع رحمی کرنے والا ۔
امام مالک نے زہری سے روایت کی ، محمد بن جبیر بن معطم نے خبر دی کہ ان کے والد نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔
حدیث 6522 — صحيح مسلم 45:22
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ( اس میں ہے : حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس پر اس کا رزق کشادہ کیا جائے یا اس کے چھوڑے ہوئے کو مؤخر کیا جائے ( خود اس کی اور اس کی چھوڑی ہوئی اشیاء ، اعمال اور اولاد کی عمر لمبی ہو ) وہ صلہ رحمی کرے ۔
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص یہ چاہتا کہ اس کے لیے اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور جو اس نے چھوڑ جانا ہے اس کی مہلت لمبی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول! میرے ( بعض ) رشتہ دار ہیں ، میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں ، میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں ، میں بردباری کے ساتھ ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت کا سلوک کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا : " اگر تم ایسے ہی ہو جیسے تم نے کہا ہے تو تم ان کو جلتی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس روش پر رہو گے ، ان کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا ۔
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور اللہ کے بندے ( ایک دوسرے کے ) بھائی بن کر رہو ۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے تعلق ترک کیے رکھے ۔
حدیث 6527 — صحيح مسلم #6527
محمد بن ولید زبیدی اور یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حدیث 6528 — صحيح مسلم #6528
ابن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، نیز ابن عیینہ نے مزید یہ کہا : " اور ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو ۔
حدیث 6529 — صحيح مسلم #6529
یزید بن زریع اور عبدالرزاق ، دونوں نے معمر سے ، انہوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ معمر سے یزید کی روایت اسی طرح ہے جس طرح سفیان کی روایت زہری سے ہے ، انہوں نے چاروں خصلتیں بیان کی ہیں ، البتہ عبدالرزاق کی روایت اس طرح ہے : "" ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ( منہ نہ موڑو ۔)