ابوبکر بن محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث 6551 — صحيح مسلم 45:49
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
سعید بن منصور اور ابوربیع زہرانی سے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواسماء سے ، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ ابو ربیع نے کہا : انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کیا ۔ ۔ اور سعید کی حدیث میں ہے : ( ثوبان رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے درمیان گزرنے والی روش پر ہوتا ہے ۔
حدیث 6552 — صحيح مسلم 45:50
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي، أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
ہشیم نے ہمیں خالد سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواسماء سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے وہ واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش پر رہتا ہے ۔
یزید بن زُرَیع نے کہا : ہمیں خالد نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابو اسماء رحبی سے ، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش میں موجود ہوتا ہے ۔
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں عاصم احول نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے خبر سنائی ، انہوں نے ابو اشعث سے ، انہوں نے ابو اسماء رحبی سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی وہ مسلسل جنت کی روش میں رہا ۔ " آپ سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ! جنت کی روش کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا : " اس کے پھل جنہیں وہ چنتا ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا : آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی ۔ وہ کہے گا : میرے رب! میں کیسے تیری عیادت کرتا جبکہ تو رب العالمین ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا ، تو نے اس کی عیادت نہ کی ۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا ، تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا ۔ وہ شخص کہے گا : اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا : تو نے اسے کھانا نہ کھلایا اگر تو اس کو کھلا دیتا تو تمہیں وہ ( کھانا ) میرے پاس مل جاتا ۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا ۔ وہ شخص کہے گا : میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہ پلایا ، اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو ( آج ) اس کو میرے پاس پا لیتا ۔
عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو ۔ عثمان کی روایت میں " سخت تکلیف کا سامنا " کے بجائے " جس کی تکلیف زیادہ سخت ہو " ہے ۔
شعبہ اور سفیان دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حدیث 6559 — صحيح مسلم 45:57
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ " . قَالَ فَقُلْتُ ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَجَلْ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي .
عثمان بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا؛ ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے حارث بن سوید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کو بخار چڑھ رہا تھا ، میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا اور عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کو تو بہت سخت بخار چڑھا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، مجھے اتنا بخار چڑھتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو بخار چڑھتا ہے ۔ "" میں نے عرض کی : یہ اس لیے کہ آپ کے لیے دہرا اجر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، ( یہی بات ہے ۔ ) "" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی مسلمان نہیں جسے کوئی تکلیف پہنچے ، مرض ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور تکلیف مگر اللہ اس کے سبب سے اس کی برائیاں ( گناہ ) جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے ۔ "" زہیر کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں : "" تو میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا ۔