ولید بن کثیر نے کہا : مجھے بنو حارثہ کے مولیٰ بشیر بن یسار نے حدیث بیان کی کہ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ دونوں نے اسے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ، یعنی تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع سے منع فرمایا ، سوائے عرایا والوں کے کیونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک سے پوچھا : کیا آپ کو داود بن حصین نے ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابوسفیان ( وہب ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کو پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک اندازے سے بیچنے کی رخصت دی ہے؟ ۔ ۔ ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ) شک داود کو ہے کہ انہوں ( ابوسفیان ) نے پانچ وسق کہا یا پانچ وسق سے کم کہا ۔ ۔ تو انہوں ( امام مالک ) نے جواب دیا : ہاں
حدیث 3893 — صحيح مسلم 21:92
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلاً .
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ سے مراد ( کھجور کے تازہ ) پھل کو خشک کھجور کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض فروخت کرنا ہے
محمد بن بشیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور ( خوشیوں میں ) گندم کی کھیتی کو ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے
ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے ( تازہ ) پھل کو خشک کھجور کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض فروخت کیا جائے اور کسی بھی پھل کو اندازے کی بنیاد پر ( اسی طرح ) فروخت کرنے سے منع فرمایا
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر جو پھل لگا ہوا ہے اسے ماپ کی مقررہ مقدار کے ساتھ خشک کھجور کے عوض بیچا جائے کہ اگر بڑھ گیا تو میرا اور اگر کم ہو گیا تو اس کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہو گی
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ( مزابنہ یہ ہے ) کہ کوئی آدمی اپنے باغ کا پھل اگر کھجور ہو تو خشک کھجور کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر انگور ہو تو منقیٰ کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر کھیتی ہو تو غلے کے مقررہ ماپ کے عوض اسے فروخت کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب ( سودوں ) سے منع فرمایا ۔ قتیبہ کی روایت میں ( وان كان زرعا "" اور اگر کھیتی ہو "" کے بجائے ) "" یا کھیتی ہو "" کے الفاظ ہیں ۔