قرآني·Qurani
اردو

المساقاة

178 احادیث · #3962–4139

حدیث 3962 — صحيح مسلم 22:1
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ ‏.‏
یحییٰ قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے اس کی پیداوار کے نصف پر معاملہ کیا جو وہاں سے پھلوں اور کھیتی کی صورت میں حاصل ہو گی
حدیث 3963 — صحيح مسلم 22:2
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ - أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كَلَّ سَنَةٍ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ قَسَمَ خَيْبَرَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الأَرْضَ وَالْمَاءَ أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ فَاخْتَلَفْنَ فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الأَرْضَ وَالْمَاءَ وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ فَكَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنِ اخْتَارَتَا الأَرْضَ وَالْمَاءَ ‏.‏
علی بن مسہر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر ( کی زمین ) اس پیداوار کے آدھے حصے پر دی جو وہاں سے پھلوں اور کھیتی کی صورت میں حاصل ہو گی ۔ آپ اپنی ازواج کو ہر سال ایک سو وسق دیتے ، اسی ( 80 ) وسق کھجور کے اور بیس وسق جو کے ۔ بعد ازاں جب خیبر کی تقسیم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری میں آئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین اور پانی کا حصہ مقرر کر دیا جائے یا ان کو ہر سال ( مقررہ ) وسق مل جانے کی ضمانت دیں ۔ تو ان کا ( ان دونوں میں سے انتخاب کرنے میں ) باہم اختلاف ہو گیا ۔ ان میں سے کچھ نے زمین اور پانی کو منتخب کیا اور کچھ نے ہر سال ( مقررہ ) وسق لینے پسند کیے ۔ حضرت حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو چنا
حدیث 3964 — صحيح مسلم 22:3
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ أَوْ ثَمَرٍ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فَكَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنِ اخْتَارَتَا الأَرْضَ وَالْمَاءَ وَقَالَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الأَرْضَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَاءَ ‏.‏
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ وہاں کی کھیتی اور پھلوں کی پیداوار کے آدھے حصے پر معاملہ ( کھیتی باڑی کے کام کاج کا معاہدہ ) کیا ۔ ۔ ۔ آگے علی بن مسہر کی حدیث کی طرح بیان کیا اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنھن ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو انتخاب کیا ۔ اور کہا : انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین خاص کر دی جائے ۔ اور انہوں نے پانی کا ( بھی ) ذکر نہیں کیا
حدیث 3965 — صحيح مسلم 22:4
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى نِصْفِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَزَادَ فِيهِ وَكَانَ الثَّمَرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ فَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْخُمُسَ ‏.‏
اسامہ بن زید لیثی نے مجھے نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب خیبر فتح ہوا تو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ انہیں اس شرط پر وہیں دینے دیں کہ وہ لوگ وہاں سے حاصل ہونے والی پھلوں اور غلے کی پیداوار کے نصف حصے پر کام کریں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں تمہیں اس شرط پر جب تک ہم چاہیں گے رہنے دیتا ہوں ۔ " پھر عبیداللہ سے روایت کردہ ابن نمیر اور ابن مسہر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، اور اس میں یہ اضافہ کیا : خیبر کی پیداوار کے نصف پھلوں کو ( غنیمتوں کے ) حصوں کے مطابق تقسیم کیا جاتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس لیتے تھے
حدیث 3966 — صحيح مسلم 22:5
وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَطْرُ ثَمَرِهَا ‏.‏
محمد بن عبدالرحمٰن نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے خیبر کے نخلستان اور زمینیں اس شرط پر خیبر کے یہودیوں کے سپرد کیں کہ وہ اپنے اموال لگا کر اس ( کی زمینوں اور باغوں کی دیکھ بھال اور کھیتی باڑی ) کا کام کاج کریں گے اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا
حدیث 3967 — صحيح مسلم 22:6
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَكَانَتِ الأَرْضُ حِينَ ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلاَهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ ‏.‏
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہود اور نصاریٰ کو سرزمین حجاز سے جلا وطن کیا ، اور یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر غلبہ حاصل کیا تو آپ نے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پر غلبہ پا لینے کے بعد وہ زمین اللہ عزوجل ، اس کے رسول اور مسلمانوں کی تھی ۔ آپ نے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ انہیں اس شرط پر وہیں دینے دیں کہ وہ کام ( باغوں اور کھیتوں کی نگہداشت اور کاشت ) کی ذمہ داری لے لیں گے اور آدھا پھل ( پیداوار ) ان کا ہو گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " ہم جب تک چاہیں گے تمہیں وہاں رہنے دیں گے ۔ " پھر وہ وہیں رہے حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء ور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا
حدیث 3968 — صحيح مسلم 22:7
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلاَّ كَانَ مَا أُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا أَكَلَتِ الطَّيْرُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةً وَلاَ يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بھی مسلمان ( جو ) درخت لگاتا ہے ، اس میں سے جو بھی کھایا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ، اور اس میں سے جو چوری کیا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جنگلی جانور اس میں سے جو کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی اس میں ( کسی طرح کی ) کمی نہیں کرتا مگر وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے
حدیث 3969 — صحيح مسلم 22:8
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلاَ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلاَ دَابَّةٌ وَلاَ شَىْءٌ إِلاَّ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
لیث نے ہمیں ابوزبیر سے خبر دی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کے نخلستان میں تشریف لے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں ، کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ " انہوں نے عرض کی : بلکہ مسلمان نے ۔ تو آپ نے فرمایا : " جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کاشت کاری کرتا ہے ، پھر اس میں سے انسان ، چوپایہ یا کوئی بھی ( جانور ) کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے
حدیث 3970 — صحيح مسلم 22:9
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلاَ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ سَبُعٌ أَوْ طَائِرٌ أَوْ شَىْءٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ طَائِرٌ شَىْءٌ ‏.‏
محمد بن حاتم اور ابن ابی خلف نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں رَوح نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جو بھی مسلمان آدمی درخت لگاتا ہے اور کاشت کاری کرتا ہے ، پھر اس سے کوئی جنگلی جانور ، پرندہ یا کوئی بھی کھائے تو اس کے لیے اس میں اجر ہے ۔ " ابن ابی خلف نے ( یا کے بغیر ) " پرندہ کوئی چیز " کہا
حدیث 3971 — صحيح مسلم 22:10
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُمِّ مَعْبَدٍ حَائِطًا فَقَالَ ‏"‏ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلاَ دَابَّةٌ وَلاَ طَيْرٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام معبد رضی اللہ عنہا ( خلیدہ ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ، ان کی دوسری کنیت ام مبشر بھی تھی ) کے پاس باغ میں تشریف لے گئے تو آپ نے پوچھا : " ام معبد! یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں ، کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ " انہوں نے عرض کی : بلکہ مسلمان نے ۔ آپ نے فرمایا : " جو بھی مسلمان درخت لگاتا ہے ، پھر اس میں سے کوئی انسان ، چوپایہ اور پرندہ نہیں کھاتا مگر وہ اس کے لیے قیامت کے دن تک صدقہ ہوتا ہے
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔