وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي، عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ .
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راستے میں ) جا کر سامان تجارت لینے سے منع فرمایا
حدیث 3822 — صحيح مسلم 21:22
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ
ہُشَیم نے ہمیں ہشام سے خبر دی ، انہوں نے ابن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راستے میں ) جا کر باہر سے لائے جانے والے سامان تجارت کو حاصل کرنے سے منع فرمایا
ابن جریج نے کہا : مجھے ہشام قردوسی نے ابن سیرین سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سامانِ تجارت کو راستے میں جا کر حاصل نہ کرو ۔ جس نے باہر مل کر ان سے سامان خرید لیا ، تو جب اس کا مالک بازار میں آئے گا تو اسے ( بیع کو برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا ) اختیار ہو گا
حدیث 3824 — صحيح مسلم 21:24
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " . وَقَالَ زُهَيْرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زُہَیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ اس ( سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ، آپ نے فرمایا : "" کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے ۔ "" زہیر نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے
طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ باہر نکل کر قافلے والوں سے ملا جائے اور اس سے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ۔ ( طاوس نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ کے فرمان : " کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے ( بیع نہ کرے ) " کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اس کا دلال نہ بنے
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور احمد بن یونس نے کہا : ہمیں ابوخثیمہ زہیر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع نہ کرے ۔ لوگوں کو چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے رزق دیتا ہے ۔ " البتہ یحییٰ کی روایت میں ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " رزق دیا جاتا ہے
حدیث 3827 — صحيح مسلم 21:27
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابوزہیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ( 3828 ) یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
ابن عون نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے
موسیٰ بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی گئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو وہ اسے لے کر گھر واپس آئے اور اس کا دودھ نکالے ، اگر وہ اس کے ددھ دینے سے راضی ہو تو اسے رکھ لے ، ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے