قرآني·Qurani
اردو

الحج

607 احادیث · #2791–3397

حدیث 3111 — صحيح مسلم 15:315
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّأَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ تَعَالَى ‏.‏
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں ، ان دونوں کے درمیان کوئی ( نفل ) نماز نہ تھی ۔ آپ نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مزدلفہ میں اسی طرح نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے ۔
حدیث 3112 — صحيح مسلم 15:316
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صَلَّى مِثْلَ ذَلِكَ وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم اور سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انھوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی اقامت سے اداکیں ، پھر انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے اسی طرح نماز ادا کی تھی ، اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا ۔
حدیث 3113 — صحيح مسلم 15:317
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ صَلاَّهُمَا بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ‏.‏
وکیع نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : آپ نے وہ دونوں نمازیں ایک ہی اقامت سے ادا کی تھیں ۔
حدیث 3114 — صحيح مسلم 15:318
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ‏.‏
۔ ( سفیان ) ثوری نے سلمہ بن کہیل سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اورعشاء کی نمازیں جمع کیں ، آپ نے ایک ہی اقامت سے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں اداکیں ۔
حدیث 3115 — صحيح مسلم 15:319
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي، خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَكَانِ ‏.‏
ابو اسحاق سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : سعید بن جبیر نے کہا : ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ( عرفہ سے ) روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آئے تو انھوں نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت سےپڑھائی ، پھر ( پیچھے کی طرف ) رخ موڑا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس مقام پر اسی طرح ( جمع وقصر پر عمل کرتے ہوئے ) نماز پڑھائی تھی ۔
حدیث 3116 — صحيح مسلم 15:320
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةً إِلاَّ لِمِيقَاتِهَا إِلاَّ صَلاَتَيْنِ صَلاَةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا ‏.‏
ابو معاویہ نے اعمش سے خبر دی ، انھوں نے عمارہ سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن یزید سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز اس کے وقت کے بغیر ادا کرتے نہیں دیکھا ، سوائے دو نمازوں کے ، مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ( جمع کیں ) اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اس کے ( معمول کے ) وقت سے پہلے ادا کی ۔
حدیث 3117 — صحيح مسلم 15:321
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ ‏.‏
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ، اور کہا : ( فجر کی نماز ) اس کے ( معمول کے ) وقت سے پہلے اندھیرے میں ( اداکی ۔)
حدیث 3118 — صحيح مسلم 15:322
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، - يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ - عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً - يَقُولُ الْقَاسِمُ وَالثَّبِطَةُ الثَّقِيلَةُ - قَالَ فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ وَلأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ ‏.‏
فلح ، یعنی ابن حمید نے قاسم سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مزدلفہ کی رات حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اور لوگوں کا اذدھام ہونے سے پہلے پہلے ( منیٰ ) چلی جائیں ۔ اور وہ تیزی سے حرکت نہ کرسکنے والی خاتون تھیں ۔ قاسم نے کہا : ثبطه بھاری جسم والی عورت کو کہتے ہیں ۔ کہا ، ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ) آپ نے انھیں اجازت دے دی ۔ وہ آپ کی روانگی سے پہلے ہی نکل پڑیں اور ہمیں آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ ہم نے ( وہیں ) صبح کی ، اور آپ کی روانگی کے ساتھ ہی ہم روانہ ہوئیں ۔ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجاز ت لے لیتی ، جیسے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی ۔ اور یہ کہ ( ہمیشہ ) آ پ کی اجازت سے ( جلد ) روانہ ہوتی تو یہ میرے لئے ہر خوش کرنے والی چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا ۔
حدیث 3119 — صحيح مسلم 15:323
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ وَكَانَتْ عَائِشَةُ لاَ تُفِيضُ إِلاَّ مَعَ الإِمَامِ ‏.‏
ایوب نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے قاسم سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بڑی ( اور ) بھاری جسم والی خاتون تھیں ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ ہوجایئں ، تو آپ نے انھیں اجازت دے دی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کاش جیسے سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( صبح کو باقی لوگوں کی طرح ) امیر ( حج ) کے ساتھ ہی واپس لوٹا کرتی تھیں ۔
حدیث 3120 — صحيح مسلم 15:324
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ ‏.‏ فَقِيلَ لِعَائِشَةَ فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ قَالَتْ نَعَمْ إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنَ لَهَا ‏.‏
عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قاسم سے ، اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی ، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیاکرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں مارلیتی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا گیا : ( کیا ) حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ وہ بھاری کم حرکت کرسکنے والی خاتون تھیں ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دے دی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔