یحییٰ قطا ن نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا : حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے ( اندر بنے ہو ئے مشہور ) گھر کے پاس ٹھہری ہو ئی تھیں ، مجھ سے پوچھا : کیا چا ند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی : نہیں ، انھوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی ، پھر کہا : بیٹے !کیا چاندغروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ انھوں نے کہا : مجھے لے چلو ۔ تو ہم روانہ ہو ئے حتی کہ انھوں نے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں ماریں پھر ( فجر کی ) نماز اپنی منزل میں ادا کی ۔ تو میں نے ان سے عرض کی : محترمہ !ہم را ت کے آخری پہر میں ( ہی ) روانہ ہو گئے ۔ انھوں نے کہا : بالکل نہیں ، میرے بیٹے !نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں کو ( پہلے روانہ ہو نے کی ) اجا زت دی تھی ۔
حدیث 3123 — صحيح مسلم 15:327
وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَتْ لاَ أَىْ بُنَىَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَذِنَ لِظُعُنِهِ .
عیسیٰ بن یو نس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے انھوں ( اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : نہیں میرے بیٹے ! نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی عورتوں ( اور بچوں ) کو اجا زت ی تھی ۔
ابن جریج سے روایت ہے ( کہا : ) مجھے عطاء نے خبر دی کہ انھیں ابن شوال نے خبردی کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پا س حا ضر ہو ئے انھوں نے ان کو بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ کے حوالے سے عمرو بن دینار سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے سالم بن شوال سے اور انھوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم ( خواتین ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبا رک میں یہی کرتی تھیں ( کہ ) ہم رات کے آخری پہر میں جمع ( مزدلفہ ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جا تی تھیں ۔
حماد بن زید نے ہمیں عبید اللہ بن ابی یزید سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزدلفہ سے ( اونٹوں پر لد ے ) بو جھ ۔ ۔ ۔ یا کہا : کمزور افرا د ۔ ۔ ۔ کے ساتھ را ت ہی روانہ کر دیا تھا ۔
حدیث 3127 — صحيح مسلم 15:331
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي، يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَنَا مِمَّنْ، قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ .
ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عبید اللہ بن ابی یزید نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں ان لوگوں میں سے تھا جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں ( شامل کرتے ہو ئے ) پہلے روانہ کر دیا تھا ۔
حدیث 3128 — صحيح مسلم 15:332
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ .
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ان لوگوں میں سے تھا جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں ( شامل کرتے ہو ئے ) پہلے روانہ کر دیا تھا ۔
حدیث 3129 — صحيح مسلم 15:333
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قُلْتُ أَبَلَغَكَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ بِي بِلَيْلٍ طَوِيلٍ قَالَ لاَ إِلاَّ كَذَلِكَ بِسَحَرٍ . قُلْتُ لَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ . وَأَيْنَ صَلَّى الْفَجْرَ قَالَ لاَ إِلاَّ كَذَلِكَ .
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے عطا ء نے بتا یا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سحر کے وقت مزدلفہ سے اونٹوں پر لدے بوجھ کے ساتھ ( جس میں کمزور افراد بھی شامل ہو تے ہیں ) روانہ کر دیا ( ابن جریج نے کہا : ) میں نے عطاء سے ) کہا : کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : آپ مجھے لمبی رات ( کے وقت ) روانہ کر دیا تھا؟انھوں نے کہا : نہیں صرف یہی ( کہا : ) کہ سحر کے وقت روانہ کیا ۔ میں نے ان سے کہا : ( کیا ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( یہ بھی ) کہا : ہم نے فجر سے پہلے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں؟ اور انھوں نے فجر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انھوں نے کہا : مہیں ( مجھ سے ) صرف یہی الفا ظ کہے ۔
(سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے ۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے ، اور جتنا میسر ہو تا اللہ کا ذکر کرتے ، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جا تے ۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز اداکرنے ) کے لیے منیٰ آجا تے اور کچھ اس کے بعد آتے ۔ پھر جب وہ ( سب لو گ منیٰ آجا تے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان ( کمزور لوگوں ) کو رخصت دی ہے ۔