قرآني·Qurani
اردو

الحج

607 احادیث · #2791–3397

حدیث 3131 — صحيح مسلم 15:335
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ رَمَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ‏.‏ قَالَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أُنَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ هَذَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابرا ہیم سے انھوں نے عبد الرحمان بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے سات کنکریوں کے ساتھ رمی کی وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ۔ ( عبد الرحمان نے ) کہا : ان سے کہا گیا : کچھ لوگ اسے ( جمرہ کو ) اس کی بالا ئی طرف سے کنکریاں مارتے ہیں تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !یہی اس ہستی کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہنازل کی گئی ۔
حدیث 3132 — صحيح مسلم 15:336
وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلِّفُوا الْقُرْآنَ كَمَا أَلَّفَهُ جِبْرِيلُ السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ ‏.‏ قَالَ فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِ فَسَبَّهُ وَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ فَاسْتَعْرَضَهَا فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ - قَالَ - فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا ‏.‏ فَقَالَ هَذَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏.‏
ابن مسہر نے مجھے اعمش سے خبر دی ( انھوں نے ) کہا : میں نے حجا ج بن یو سف سے سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہو ئے کہہ رہا تھا : قرآن کی وہی ترتیب رکھو جو جبریلؑ نے رکھی ( نیز سورہ بقرہ کہنے کے بجا ئے کہو ) وہ سورت جس میں بقر ہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ سورت جس میں نساء کا تذکرہ ہے وہ سورت جس میں آل عمران کا تذکرہ ہے ۔ ( اعمش نے ) کہا اس کے بعد میں ابر اہیم سے ملا ، میں نے انھیں اس کی بات سنائی تو انھوں نے اس پر سب وشتم کیا اور کہا : مجھ سے عبد الرحمٰن بن یزید نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔ ۔ وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے وادی کے اندر کھڑے ہو ئے اس ( جمرہ ) کو چوڑا ئی کے رخ اپنے سامنے رکھا اس کے بعد وادی کے اندر سے اس کو سات کنکریاں ماریں وہ ہر کنکریکے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے کہا : میں نے عرض کی : ابو عبد الرحمٰن کچھ لو گ اس کے اوپر ( کی طرف ) سے اسے کنکریاں مارتے ہیں انھوں نے کہا اس ذات کی قسم!جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !یہی اس ہستی کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جس پر سورہ بقرہ نازل ہو ئی ۔
حدیث 3133 — صحيح مسلم 15:337
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ لاَ تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏.‏ وَاقْتَصَّا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ ‏.‏
ابن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حجاج سے سنا ، کہہ رہا تھا : " سورہ بقرہ نہ کہو ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان دونوں نے ابن مسہر کی حدیث کی طرح حدیث بیا ن کی ،
حدیث 3134 — صحيح مسلم 15:338
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏.‏
ہمیں محمد بن جعفر غندرنے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انھوں نے ابرا ہیم سے اور انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ انھون نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) کی معیت میں حج کیا کہا : انھوں نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف اور منیٰ کو دائیں طرف رکھا اور کہا یہی ان کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔
حدیث 3135 — صحيح مسلم 15:339
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ‏.‏
ہمیں معاذ عنبری نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، البتہ انھوں نے کہا : جب وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے ۔
حدیث 3136 — صحيح مسلم 15:340
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ يَزِيدَ قَالَ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ - قَالَ - فَرَمَاهَا عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ قَالَ مِنْ هَا هُنَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَاهَا الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏.‏
سلمہ بن کہیل نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا : کچھ لو گ جمرہ عقبہ کو گھا ٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں ۔ کہا : تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وادی کے اندر سے اسے کنکریاں ماریں ۔ پھر کہا : یہیں سے اس ذات کی قسم جس کے سوا کو ئی حقیقی معبود نہیں ! اس ہستی نے کنکریاں ماریں جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔
حدیث 3137 — صحيح مسلم 15:341
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، - قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى، - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ ‏ "‏ لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر ( سوار ہو کر ) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے : تمھیں چا ہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو ، میں نہیں جا نتا شاید اس حج کے بعد میں ( دوبارہ ) حج نہ کر سکوں ۔
حدیث 3138 — صحيح مسلم 15:342
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي، أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ، حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَمَعَهُ بِلاَلٌ وَأُسَامَةُ أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الشَّمْسِ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْلاً كَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ - حَسِبْتُهَا قَالَتْ - أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ‏"‏ ‏.‏
معقل نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ( یحییٰ بن حصین نے ) کہا : میں نے ان سے سنا کہہ رہی تھیں حجۃالوداع کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی معیت میں حج کیا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس وقت دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے آپ اپنی سواری پر تھے اور بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے ایک آگے سے ( مہار پکڑ کر ) آپ کی سواری کو ہانک رہا تھا اور دوسرا دھوپ سے ( بچاؤ کے لیے ) اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سر مبارک پر تا نے ہو ئے تھا ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ( اس موقع پر ) بہت سی باتیں ارشاد فر ما ئیں ۔ پھر میں نے آپ سے سنا آپ فر ما رہے تھے : اگر کو ئی کٹے ہو ئے اعضا ء والا ۔ ۔ ۔ میرا خیال ہے انھوں ( ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : ۔ ۔ ۔ کا لا غلا م بھی تمھا را میرا بنا دیا جا ئے جو اللہ کی کتاب کے مطابق تمھا ری قیادت کرے تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا ۔
حدیث 3139 — صحيح مسلم 15:343
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ، بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ، جَدَّتِهِ قَالَتْ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلاَلاً وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ وَاسْمُ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ وَكِيعٌ وَحَجَّاجٌ الأَعْوَرُ ‏.‏
ابو عبد الرحیم نے زید بن ابی انیسہ سے انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ الوداعی حج کیا تو میں نے اسامہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی کی نکیل تھا مے ہو ئے تھا اور دوسرا کپڑے کو اٹھا ئے گرمی سے اوٹ کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں ۔ امام مسلم نے کہا : ابو عبد الرحیم کا نام خالد بن ابی یزید ہے اور وہ محمد بن سلمہ کے ماموں ہیں ان سے وکیع اور حجاج اعور نے ( حدیث ) روایت کی ،
حدیث 3140 — صحيح مسلم 15:344
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ ‏.‏
ابو زبیرنے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا ، وہ بیان کررہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے جمرہ عقبہ کو اتنی بڑی کنکریاں ماریں جتنی چٹکی ( دو انگلیوں ) سے ماری جانے والی کنکریاں ہوتی ہیں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔