حماد اور ابو معاویہ نےہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، انہوں نے ابو ایوب سے ، انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ سے اس مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے ، پھر اسے انزال نہیں ہوتا ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ بیوی سے اسے جو کچھ لگ جائے اس کو دھو ڈالے ، پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے ۔ ‘ ‘
شعبہ نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کےساتھ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺسے روایت کی کہ آپ نے اس مرد کے بارے میں جواپنی بیوی کے پاس جاتا ہے پھر اسے انزال نہیں ہوتا ، فرمایا : ’’ وہ اپنے عضو کو دھو لے اور وضو کرے ۔ ‘ ‘
ابو سلمہ نے عطاء بن یسار سے خبر دی کہ انہیں حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نےبیان کیا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سےپوچھا : آپ کی کیا رائے ہے ، جب کسی مرد نے اپنی بیوی سے مجامعت کی اور اس نے منی خارج نہ کی ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ( جواب میں ) کہا : نماز کے وضو کی طرح وضو کرے اور اپنےعضو کو دھولے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ۔
حدیث 782 — صحيح مسلم 3:104
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ يَحْيَى وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ذَلِكَ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
ابوسلمہ نے عطاء بن یسار کےبجائے عروہ بن زبیر سے اور انہوں نےابو ایوب رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ۔
زہیر بن حرب ، ابو غسان مسمعی ، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہم سے معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے قتادہ اور مطر نے حسن سے ، انہوں نے ابو رافع سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا : ’’ جب وہ ( مرد ) اس ( عورت ) کی چا شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر اس سے مجامعت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘ مطر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : ’’اگرچہ انزال نہ ہو ۔ ‘ ‘ اور امام مسلم کے اساتذہ میں سے ( صرف ) زہیر نے شعبہا کی جگہ أشعبها کہا ۔ ( دونوں ایک ہی لفظ شعبہ ( شاخ ) کی جمع ہیں ۔
شعبہ نے قتادہ سے باقی ماندہ اسی سند سے روایت کی ۔ فرق یہ ہے کہ شعبہ کی اس روایت میں ثم جهدها کی جگہ ثم اجتهد ( پھر سعی کی ) ہےت اور و إن لم ينزل ( اگرچہ انزال نہ ہو ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
دو مختلف سندوں کے ساتھ ابو بردہ کے حوالے سے ( ان کے والد ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ نے اختلاف کیا ۔ انصار نے کہا : غسل صرف ( منی کے ) زور سے نکلنے یا پانی ( کے انزال ) سے فرض ہوتا ہے او رمہاجرین نے کہا : بلکہ جب اختلاط ہو تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ( ابو بردہ نے ) کہا : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تمہیں اس مسئلے سے چھٹکارا دلاتا ہوں ، میں اٹھا اور حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی ، مجھے اجازت دے دی گئی تو میں نے کہا : میری ماں ، یا کہا : ام المؤمنین! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ھوں او رمجھے آپ سے شرم ( بھی ) آر ہی ہے ۔ تو انہوں نے کہا : جو بات تم اپنی اس ماں سے جس نے ( اپنے پیٹ سے ) تمہیں جنم دیا ، پوچھ سکتے تھے ، وہ مجھ سے پوچھناے میں شرم نہ کرو کیونکہ میں بھی تمہاری ماں ہوں ۔ میں نے کہا : تو کون سا ( کام ) غسل کو واجب کرتا ہے؟ انہوں نے کہا : تم ( اس مسئلے کے متعلق ) اس سے ملے ہو جو ( اس سے ) اچھی طرح باخبر ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب وہ ( مرد ) اس ( عورت ) کی چا رشاخوں کے درمیان بیٹھا اور ختنے کی جگہ ختنے کی جگہ سے مَس ہوئی تمو غسل واجب ہو گیا ۔ ‘ ‘
حدیث 786 — صحيح مسلم 3:108
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُكْسِلُ هَلْ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَفْعَلُ ذَلِكَ أَنَا وَهَذِهِ ثُمَّ نَغْتَسِلُ " .
ام کلثوم نے نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ سے ایسے مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے ، پھر انزال نہیں ہوتا ، کیا ان ( دونوں ) پر غسل ہے؟ اور ( اندر ) حضرت عائشہؓ بھی بیٹھی ہوئی تھیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’میں اور یہ ( ہم دونوں میاں بیوی ) یہ کرتے ہیں ، پھر ہم ( دونوں ) نہاتے ہیں ۔ ‘ ‘
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ایسی چیز ( کے کھانے ) س وضو ( لازم ہو جاتا ) ہے جسے آگ نے چھوا ہو ۔ ‘ ‘
۔ عبد اللہ بن ابراہیم بن قارظ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد میں وضو کرتے ہوئے پایا تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تو پنیر کے ٹکڑوں کی بنا پر وضو کر رہا ہوں جنہیں میں نے کھایا ہے کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ایسی چیز سے وضو کرو جسے آگ نے چھوا ہو ۔ ‘ ‘