قرآني·Qurani
اردو

الحيض

158 احادیث · #679–836

حدیث 689 — صحيح مسلم 3:11
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ‏"‏ ‏.‏
اعمش نے ثابت بن عبید سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : رسول ا للہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’مجھے مسجد میں سے جائے نماز پکڑا دو ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہار ا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 690 — صحيح مسلم 3:12
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أُنَاوِلَهُ الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ تَنَاوَلِيهَا فَإِنَّ الْحَيْضَةَ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ‏"‏ ‏.‏
حجاج اور ابن ابی غنیہ نے ثابت سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجدسے آپ کو جائے نماز پکڑا دوں ، میں نےعرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’حیض تمہارےہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 691 — صحيح مسلم 3:13
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ‏"‏ فَنَاوَلَتْهُ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ﷺ سے روایت ہے ، انہو ں نے کہا : ایک بار رسول اللہ ﷺ مسجد میں موجود تھے تو آپ نے فرمایا : ’’اے عائشہ ! مجھے ( نماز کا ) کپڑا پکڑا دو ۔ ‘ ‘ تو انہوں نے کہا : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ انہوں نے آپ کو کپڑا پکڑا دیا ۔
حدیث 692 — صحيح مسلم 3:14
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فَيَشْرَبُ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں وکیع نے مسعر اور سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مقدام بن شریح سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں ایام مخصوصہ کے دوران میں پانی پی کر نبی اکرمﷺ کو پکڑا دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھ کر پانی پی لیتے ، اور میں دانتوں کےساتھ ہڈی سےگوشت نوچتی جبکہ میرے مخصوص ایام ہوتے ، پھر وہ ( ہڈی ) نبی ﷺ کو دیتی تو آپ میرے منہ والی جگہ پر اپنا منہ رکھتے ( اور بوٹی توڑتے ۔ ) زہیر نے فیشرب ( پانی پینے ) کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 693 — صحيح مسلم 3:15
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ‏.‏
صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں حیض کی حالت میں ہوتی تو رسول اللہ ﷺ میری گود کو تکیہ بناتے اور قرآن پڑھتے
حدیث 694 — صحيح مسلم 3:16
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْيَهُودَ، كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اصْنَعُوا كُلَّ شَىْءٍ إِلاَّ النِّكَاحَ ‏"‏ ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ فَقَالُوا مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلاَّ خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَلاَ نُجَامِعُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا ‏.‏
حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے کہ یہودی ، جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تو نہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ اس کے ساتھ گھر ہی میں اکٹھے رہتے ۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ کے صحابہ نے آپ سے اس بارے میں پوچھا ، اس پر اللہ تعالیٰ نےآیت تاری : ’’یہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ فرما دیجیے ، یہ اذیت ( کاوقت ) ہے ، اس لیے محیض ( مقام حیض ) میں عورتوں ( کے ساتھ مجامعت ) سے دور ہو ‘ ‘ آخر تک ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جماع کے سوا سب کچھ کرو ۔ ‘ ‘ یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو کہنے لگے : یہ آدمی ہمارے دین کی ہر بات کی مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے ۔ ( یہ سن کر ) اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! یہود اس اس طرح کہتے ہیں تو یکا ہم ان ( عورتوں ) سے جماع بھی نہ کر لیا کریں ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا حتی کہ ہم نے سمجھا کہ آپ دونوں سے ناراض ہو گئے ہیں ۔ وہ دونوں نکل گئے ، آگے سے رسول اللہ ﷺ کے لیے دودھ کا ہدیہ آرہا تھا ، آپ نے کسی کو ان کے پیچھے بھیجا اور ان کو ( بلواکر ) دودھ پلایا ، وہ سمجھ گئے کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہوئے ۔
حدیث 695 — صحيح مسلم 3:17
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُشَيْمٌ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى، - وَيُكْنَى أَبَا يَعْلَى - عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ‏ "‏ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ ‏"‏ ‏.‏
وکیع ، ابو معاویہ اور ہشیم نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منذر بن یعلیٰ سے ( جن کی کنیت ابو یعلیٰ ہے ) انہوں نے ابن حنفیہ سے ، انہوں نے ( اپنے والد ) حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : مجھے مذی ( منی سے مختلف رطوبت جو اسی راستے سے خارج ہوتی ہے ) زیادہ آتی تھی اور میں آپ کی بیٹی کے ( ساتھ ) رشتے کی وجہ سے براہ راست نبی کریم ﷺ سے پوچھنے میں شرم محسوس کرتا تھا ۔ میں نے مقداد بن اسود سے کہا ، انہوں نےآپ سے پوچھا ، آپ نے فرمایا : ’’ ( اس میں متبلا آدمی ) اپنا عضو مخصوص دھوئے اور وضو کر لے ۔ ‘ ‘
حدیث 696 — صحيح مسلم 3:18
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، قَالَ سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ، النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَذْىِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ‏ "‏ مِنْهُ الْوُضُوءُ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے سلیمان اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں نے حضرت فاطمہ ؓ ( کے ساتھ رشتے ) کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ سے مذی کےبارے میں پوچھنے میں شرم محسوس کی تو میں نے مقداد کو کہا ، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا ، آپ نے فرمایا : ’’اس سے وضو ( کرنا پڑتا ) ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 697 — صحيح مسلم 3:19
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَرْسَلْنَا الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَذْىِ يَخْرُجُ مِنَ الإِنْسَانِ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : ہم نے مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا ، انہوں نے آپ سے مذی کے بارے میں پوچھا جو انسان ( کے عضو مخصوص ) سے خارج ہوتی ہے کہ وہ اس کا کیا کرے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’وضو کرو اور شرم گاہ کو دھو لو ۔ ‘ ‘ ( ترتیب میں پہلے دھونا ، پھر وضو کرنا ہے جس طرح حدیث : 695میں ہے ۔)
حدیث 698 — صحيح مسلم 3:20
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ ‏.‏
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ رات کو اٹھے ، قضائے حاجت کی ، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر سو گئے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔