قرآني·Qurani
اردو

الحيض

158 احادیث · #679–836

حدیث 739 — صحيح مسلم 3:61
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ - صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حُجْرٍ أَوْ قَالَ وَيُطَهِّرُهُ الْمُدُّ ‏.‏ وَقَالَ وَقَدْ كَانَ كَبِرَ وَمَا كُنْتُ أَثِقُ بِحَدِيثِهِ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اورعلی بن حجر نے اسماعیل بن علیہ سے ، انہوں نے ابو ریحانہ سے ، انہوں نےحضرت سفینہؓ سے ( ابو بکر نےکہا : ) رسول اللہ ﷺ کے صحابی ( حضرت سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، انہوں نےکہا : رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے غسل فرماتے اور ایک مد پانی سے وضو فرمالیتے ۔ ( علی ) ابن حجر کی روایت میں ہے کہ یا ( ابو ریحانہ نے ایک مد سے وضو فرما لیتے تھے کے بجائے ) ’’ایک مدپانی سے آپ کا وضو ہو جاتاتھا ‘ ‘ کہا ۔ ابو ریحانہ نے کہا : سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ عمر رسیدہ ہو گئے تھے ، اس لیے مجھے ان کی حدیث پر اعتماد و وثوق نہیں ہے ۔
حدیث 740 — صحيح مسلم 3:62
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أَغْسِلُ رَأْسِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثَ أَكُفٍّ ‏"‏ ‏.‏
ابو احوص نے ابو اسحاق سے ، انہو ں نے سلیمان بن صرد سے ، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس غسل کےمتعلق ایک دوسرے سے تکرار کی ، چنانچہ بعضوں نے کہا : لیکن میں ، میں تو سر کو اتنا اور اتنا دھو تا ہوں ۔ تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’لیکن میں تو اپنے سر پر تین ہتھلیاں بھر کر ( پانی ) ڈالتاہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 741 — صحيح مسلم 3:63
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ ‏ "‏ أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے ابو ا سحاق سے ، انہوں نے سلیمان بن صرد سے ، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’ لیکن میں ، میں تو اپنے سر پر تین بار پانی بہاتا ہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 742 — صحيح مسلم 3:64
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ وَفْدَ، ثَقِيفٍ سَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَكَيْفَ بِالْغُسْلِ فَقَالَ ‏ "‏ أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ سَالِمٍ فِي رِوَايَتِهِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ وَقَالَ إِنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ اور اسماعیل بن سالم نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی ، انہوں نے ابو بشر سے ، انہوں نے ابو سفیان سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ ثقیف کے وفد نے بنی ﷺ سے پوچھا ، او رکہا : ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے تو غسل کیسے ہو؟ آپ نے فرمایا : ’’لیکن میں ، میں تو اپنے سر پر تین بارپانی بہاتا ہوں ۔ ‘ ‘ ابن سالم نے اپنی روایت میں کہا : ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انہوں ابو بشر نے بتایااور کہا : بلاشبہ ثقیف کے وفد نے ( سوال پوچھتے ہوئے آپﷺ کو مخاطب کر کے ) کہا : اے اللہ کے رسول
حدیث 743 — صحيح مسلم 3:65
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ مِنْ مَاءٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لَهُ يَا ابْنَ أَخِي كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ ‏.‏
امام جعفر کےوالد امام محمد باقر بن علی بن حسین پ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو سر پر پانی کی تین لپیں ڈالتے ، چنانچہ حسن بن محمد نے ان سے کہا : میرے بال تو زیادہ ہیں ۔ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو میں نے اس سے کہا : اے بھتیجے! رسول اللہ ﷺ کے بال تمہارے بالوں سےزیادہ اور عمدہ تھے ۔
حدیث 744 — صحيح مسلم 3:66
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ قَالَ ‏ "‏ لاَ إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلاَثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے ایوب بن موسیٰ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبیری سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ کے مولیٰ عبداللہ بن ابی رافع سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ کس کر سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو ، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤں گی ۔ ‘ ‘
حدیث 745 — صحيح مسلم 3:67
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالاَ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَأَنْقُضُهُ لِلْحَيْضَةِ وَالْجَنَابَةِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ ‏"‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے کہا : ہمیں اسی سند کے ساتھ سفیان ثوری نے ایوب بن موسیٰ کے حوالے سے خبر دی ۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : کیا میں حیض اور جنابت ( کے غسل ) کے لیے اس کو کھولوں؟ تو آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی ( روایت ) بیان کی ۔
حدیث 746 — صحيح مسلم 3:68
وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ أَفَأَحُلُّهُ فَأَغْسِلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَيْضَةَ ‏.‏
ایوب بن موسیٰ سے ( سفیان ثوری کے بجائے ) روح بن قاسم نے اسی ( سابقہ سند ) کے ساتھ روایت کی کہ انہوں ( ام سلمہ ؓ ) نے کہا : کیا میں چوٹی کو کھول کر غسل جنابت کروں؟ ...... انہوں ( روح بن قاسم ) نے حیض کا تذکرہ نہیں کیا ۔
حدیث 747 — صحيح مسلم 3:69
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ فَقَالَتْ يَا عَجَبًا لاِبْنِ عَمْرٍو هَذَا يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ أَفَلاَ يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَلاَ أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثَ إِفْرَاغَاتٍ ‏.‏
عبید اللہ بن عمیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمروؓ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کرتے وقت سر کے بال کھولا کرین ۔ تو انہوں نے کہا : اس ابن عمرو پر تعجب ہے ، عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ جب غسل کریں تو سر کے بال کھولیں ، وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ وہ اپنے سر کے بال مونڈ لیں ، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اس سے زائد کچھ نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لیتی ۔
حدیث 748 — صحيح مسلم 3:70
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ مَنْصُورٍ ابْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْ حَيْضَتِهَا قَالَ فَذَكَرَتْ أَنَّهُ عَلَّمَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرُ بِهَا ‏.‏ قَالَتْ كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا قَالَ ‏ "‏ تَطَهَّرِي بِهَا ‏.‏ سُبْحَانَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَاسْتَتَرَ - وَأَشَارَ لَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ - قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاجْتَذَبْتُهَا إِلَىَّ وَعَرَفْتُ مَا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ فَقُلْتُ تَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ ‏.‏
عمرو بن محمد ناقد اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، عمرو نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے ، انہوں نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انۂں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نبی ﷺ سے پوچھا : وہ غسل حیض کیسے کرے ؟ کہا : پھر عائشہ ؓ نےبتایا کہ آپ نے اسے غسل کا طریقہ سکھایا ( اور فرمایا ) پھر وہ کستوری سے ( معطر ) کپڑے کا ایک ٹکڑالے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ عورت نے کہا : میں اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’ سبحان اللہ ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ اور آپ نے ( حیا سے ) چہرہ چھپا کر دکھایا ۔ صفیہ نےکہا : عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کیا ( کہنا ) چاہتے ہیں تو میں نےکہا : اس معطر ٹکڑے سے خون کے نشان صاف کرو ۔ ابن ابی عمرو نے اپنی روایت میں کہا : اس کو مل کر خون کے نشانات پر لگا کر صاف کرو ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔