قرآني·Qurani
اردو

الحيض

158 احادیث · #679–836

حدیث 759 — صحيح مسلم 3:81
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيِبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّمِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلآنَ دَمًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
یزید بن ابی حبیب نے جعفر سے ، انہوں نے عراک سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی ، کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ ﷺ سے خون کے بارے میں سوال کیا ۔ حضرت عائشہؓ نے بتایا : میں نے اس کا ٹب خون سے بھرادیکھا تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺنے اس سے فرمایا : ’’تمہیں پہلے جتنا وقت حیض ( نماز سے ) روکتا تھا اتنا عرصہ رکی رہو ، پھر نہالو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
حدیث 760 — صحيح مسلم 3:82
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدَّمَ فَقَالَ لَهَا ‏ "‏ امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏
اسحاق کے والد بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے ، جو عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بیوی تھیں ، رسول اللہ ﷺ سے خون ( استحاضہ ) کی شکایت کی تو آپ نے ان سے فرمایا : ’’جتنے دن تمہیں حیض روکتا تھا اتنے دن توقف کرو ، پھر نہالو ۔ ‘ ‘ تو وہ ہر نماز کے لیے نہایا کرتی تھیں ۔
حدیث 761 — صحيح مسلم 3:83
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، ح وَحَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَتَقْضِي إِحْدَانَا الصَّلاَةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لاَ تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ ‏.‏
نے یزید رشک سے ، انہوں نے معاذہ سے روایت کی کہ ایک عورت نےحضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا ایک عورت ایام حیض کی نمازوں کی قضادے کی ؟ تو عائشہ ؓ نے پوچھا : کیا توحروریہ ( خوارج میں سے ) ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تھا تو اسے ( نمازوں کی ) قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔
حدیث 762 — صحيح مسلم 3:84
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَةَ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلاَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كُنَّ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحِضْنَ أَفَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَجْزِينَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ تَعْنِي يَقْضِينَ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے معاذہ سے سنا کہ انہوں نےحضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا : کیا حائضہ نماز کی قضادے؟ عائشہ ؓ نے کہا : کیا تو حروریہ ( خوارج میں سے ) ہے ؟ رسول اللہ ﷺ کی ازواج کو حیض آتا تھا تو کیاآپ نے انہیں ( فوت شدہ نمازوں کے ) بدلے میں ادا کرنے کاحکم دیا؟ محمد بن جعفرنے کہا : ان کا مطلب قضا دینے سے تھا ۔ <عربی> </عربی>
حدیث 763 — صحيح مسلم 3:85
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قُلْتُ لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ وَلَكِنِّي أَسْأَلُ ‏.‏ قَالَتْ كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلاَ نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلاَةِ ‏.‏
عاصم نے معاذہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عائشہ ؓ سے سوال کیا ، میں نے کہا : حائضہ عورت کا یہ حال کیوں ہے کہ وہ روزوں کی قضا دیتی ہے نماز کی نہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کیا تم حروریہ ہو ؟ میں نے عرض کی : میں حروریہ نہیں ، ( صرف ) پوچھنا چاہتی ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : ہمیں بھی حیض آتا تھا تو ہمیں روزوں کی قضا دینے کا حکم دیا جاتا تھا ، نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔
حدیث 764 — صحيح مسلم 3:86
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ ‏.‏ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ ‏.‏
ابونضر سے روایت ہے کہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی ؓ سے سنا ، وہ کہتی تھی کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی ، میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا ، آپ کی بیٹی فاطمہ ؓ نے ایک کپڑے کے ذریعے سے آپ ( کے آگے ) پردہ بنایا ہوا تھا ۔
حدیث 765 — صحيح مسلم 3:87
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ، لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ ‏.‏ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى غُسْلِهِ فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ ثُمَّ صَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ سُبْحَةَ الضُّحَى ‏.‏
یزید بن ابی حبیب نے سعید بن ابی ہند سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ ام ہانی بنت ابی طالبؓ نے انہیں بتایا کہ جس سال مکہ فتح ہوا وہ ےپ کے پاس حاضر ہوئیں ، آپ مکہ کے بالائی حصے میں تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نہانے کےلیے اٹھے تو فاطمہ ؓ نےآپ کے آگے پردہ تان دیا ، پھر ( غسل کے بعد ) آپ نے اپنا کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹا ، پھر آٹھ رکعتیں چاشت کی نفل پڑھیں ۔
حدیث 766 — صحيح مسلم 3:88
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَسَتَرَتْهُ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ سَجَدَاتٍ وَذَلِكَ ضُحًى ‏.‏
سعید بن ابی ہند کے ایک اور شاگرد ولید بن کثیر نے اسی سند سےحدیث بیان کی اور یہ الفاظ کہے : تو آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ نے آپ کے کپڑے کے ذریعے سے آپ کے لیے اوٹ بنا دی ۔ آپ جب غسل کے چکے تو وہی کپڑا لیا ، اسے اپنے گرد لپیٹا ، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعات نماز ادا کی ، یہ چاشت کا وقت تھا ۔
حدیث 767 — صحيح مسلم 3:89
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُوسَى الْقَارِئُ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاءً وَسَتَرْتُهُ فَاغْتَسَلَ ‏.‏
ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت میمونہ ؓ سے روایت کی ، انۂں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ ( کے غسل ) کے لیے پانی رکھا اور آپ کو پردہ مہیاکیا تو آپ نے غسل فرمایا ۔
حدیث 768 — صحيح مسلم 3:90
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلاَ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلاَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلاَ تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ‏"‏ ‏.‏
زید نےحباب نے ضحاک بن عثمان سے روایت کی ، کہا : مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مرد ، مردکا ستر نہ دیکھے اور عورت ، عورت کا ستر نہ دیکھے ۔ مرد ، مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو اور عورت ، عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔