قرآني·Qurani
اردو

الزكاة

232 احادیث · #2263–2494

حدیث 2383 — صحيح مسلم 12:120
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا فَقَالَ ‏ "‏ أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا وَلِفُلاَنٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏
ابن فضیل نے عمارہ سے انھوں نے ابو زرعہ سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ اجر میں برا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " ہاں تمھا رے باپ کا بھلا ہو تمھیں اس بات سے آگا ہ کیا جا ئے گا وہ یہ کہ تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو فقر سے ڈرتے ہو اور لمبی زندگی کی امید رکھتے ہو اور ( خود کو ) اس قدر مہلت نہ دو کہ جب تمھا ری جان حلق تک پہنچ جا ئے تو پھر ( وصیت کرتے ہوئے ) کہو فلا ں کا اتنا ہے اور فلا ں کا اتنا ہے وہ تو فلا ں کا ہو ہی چکا ۔
حدیث 2384 — صحيح مسلم 12:121
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ‏.‏
عبد الو حد نے کہا : ہم سے عمارہ بن قعقاع نے ( باقی ماند ہ ) اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی البتہ کہا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟
حدیث 2385 — صحيح مسلم 12:122
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ ‏ "‏ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا جبکہ آپ منبر پر تھے اور صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے : " اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہا تھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے ۔
حدیث 2386 — صحيح مسلم 12:123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، - قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ - أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ - عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ‏"‏‏.‏
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سب سے افضل صدقہ ۔ ۔ ۔ یا سب سے اچھا صدقہ ۔ ۔ وہ ہے جس کے پیچھے ( دل کی ) تو نگری ہو اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے اور ( دینے کی ) ابتدا اس سے کرو جس کی تم کفا لت کرتے ہو ۔
حدیث 2387 — صحيح مسلم 12:124
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ‏"‏ ‏.‏
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ما نگا تو آپ نے مجھے عطا فر ما یا میں نے ( دوبارہ ) مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا میں نے پھر آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا پھر فر ما یا : " یہ ما ل شاداب ( آنکھوں کو لبھا نے والا ) اور شیریں ہے جو تو اسے حرص و طمع کے بغیر لے گا اس کے لیے اس میں برکت عطا کی جا ئے گی اور جو دل کے حرص سے لے گا ، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جا ئے گی ، وہ اس انسان کی طرح ہو گا جو کھا تا ہے لیکن سیر نہیں ہو تا اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے ۔
حدیث 2388 — صحيح مسلم 12:125
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ وَأَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ وَلاَ تُلاَمُ عَلَى كَفَافٍ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ‏"‏
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " آدم کے بیٹے!بے شک تو ( ضرورت سے ) زائد مال خرچ کر دے یہ تیرے لیے بہتر ہے اور تو اسے رو ک رکھے تو یہ تیرے لیے برا ہے اور گزر بسر جتنا رکھنے پر تمھیں کو ئی ملا مت نہیں کی جا ئے گی اور خرچ کا آغاز ان سے کرو جن کے ( کےخرچ ) تم ذمہ دار ہو اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے ۔
حدیث 2389 — صحيح مسلم 12:126
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ إِلاَّ حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ‏"‏ ‏.‏ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ ‏"‏ ‏.‏
عبد اللہ بن عامر یحصبی نے کہا میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا : تم اس حدیث کے سوا جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ( بیان کی جا تی ) تھی دوسری احادیث بیان کرنے سے بچو کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لو گوں کو ( روایا ت کے سلسلے میں بھی ) اللہ کا خوف دلا یا کرتےتھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے " اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلا ئی کرنا چا ہتا ہے اسے دین میں گہرا فہم عطا فر ما دیتا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے بھی سنا : " میں تو بس خزانچی ہوں جس کو میں خوش دلی سے دوں اس کے لیے اس میں برکت ڈا ل دی جا ئے گی اور جس کو میں مانگنے پر اور ( اس کے ) حرص کے سبب سے دو ں اس کی حا لت اس نسان جیسی ہو گی جو کھا تا ہے اور سیر نہیں ہو تا ۔
حدیث 2390 — صحيح مسلم 12:127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، هَمَّامٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ لاَ يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیا ن کی انھوں نے وہب بن منبہ سے انھوں نے اپنے بھا ئی ہمام سے اور انھوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مانگنے میں اصرار نہ کرو اللہ کی قسم !ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم میں سے کو ئی شخص مجھ سے کچھ مانگے میں اسے ناپسند کرتا ہوں پھر بھی اس کا سوال مجھ سے کچھ نکلوالے تو جو میں اس کو دوں اس میں بر کت ہو ۔
حدیث 2391 — صحيح مسلم 12:128
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ، مُنَبِّهٍ - وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي دَارِهِ بِصَنْعَاءَ فَأَطْعَمَنِي مِنْ جَوْزَةٍ فِي دَارِهِ - عَنْ أَخِيهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
ابن ابی عمر مکی نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو بن دینار سے حدیث سنا ئی کہا : مجھے وہب بن منبہ نے ۔ ۔ ۔ جب میں صنعاء میں ان کے پا س ان کے گھر گیا اور انھوں نے مجھے اپنے گھر کے درخت سے اخروٹ کھلا ئے ۔ ۔ ۔ اپنے بھا ئی سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے کہا : میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو یہ کہتے ہو ئے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( پچھلی ) حدیث کے مطا بق بیان کیا ۔
حدیث 2392 — صحيح مسلم 12:129
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف نے کہا : میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ خطبہ دیتے ہو ئے کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے اللہ جس کے ساتھ بھلا ئی کا ارادہ فر ما تا ہے اسے دین کا گہرا فہم عطا فر ما دیتا ہے اور میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔