قرآني·Qurani
اردو

الزكاة

232 احادیث · #2263–2494

حدیث 2463 — صحيح مسلم 12:200
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي، بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏
عیسیٰ بن یو نس اور سفیان دو نوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث 2464 — صحيح مسلم 12:201
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا ‏ "‏ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏
اعمش سے جریر اور ابو معاویہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ان دو نوں کی حدیث میں " دین میں سے تیز رفتاری کے ساتھ یوں نکلیں گے جس طرح تیر نشانہ لگے شکار سے تیزی سے نکل جاتا ہے کے الفا ظ نہیں ہیں ۔
حدیث 2465 — صحيح مسلم 12:202
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ ذَكَرَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ - أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ - لَوْلاَ أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ‏.‏
ایو ب نے محمد سے انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے خوارج کا ذکر کیا اور کہا : ان میں ایک آدمی ناقص چھوٹے یا زیادہ اور ہلتے ہو ئے گو شت کے ( جیسے ) ہاتھ والا ہو گا اگر تمھا رے اترا نے کا ڈر نہ ہو تا تو جو کچھ اللہ تعا لیٰ نے انھیں قتل کرنے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وعدہ فر ما یا ہے وہ میں تمھیں بتا تا ۔ ( عبیدہ نے ) کہا میں نے عرض کی : کیا آپ نے یہ ( وعدہ برا راست ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ انھوں نے کہا : رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ قسم !ہاں رب کعبہ کی قسم !ہاں
حدیث 2466 — صحيح مسلم 12:203
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، قَالَ لاَ أُحَدِّثُكُمْ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ، ‏.‏ فَذَكَرَ عَنْ عَلِيٍّ، نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا ‏.‏
ابن عون نے محمد سے اور انھوں نے عبیدہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں تمھیں صرف وہی بیان کروں گا جو میں نے ان ( علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا ہے پھر انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایو ب کی حدیث کی طرح مرفو ع حدیث بیان کی ۔
حدیث 2467 — صحيح مسلم 12:204
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ - رضى الله عنه - الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ فَقَالَ عَلِيٌّ رضى الله عنه أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَىْءٍ وَلاَ صَلاَتُكُمْ إِلَى صَلاَتِهِمْ بِشَىْءٍ وَلاَ صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَىْءٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ لاَ تُجَاوِزُ صَلاَتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏ لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صلى الله عليه وسلم لاَتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلاً لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى رَأْسِ عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْىِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلاَءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلاَءِ الْقَوْمَ فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلاً حَتَّى قَالَ مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ فَقَالَ لَهُمْ أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ ‏.‏ فَرَجَعُوا فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَسَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ - قَالَ - وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ رَجُلاَنِ فَقَالَ عَلِيٌّ رضى الله عنه الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ ‏.‏ فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَامَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى نَاسًا قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ قَالَ أَخِّرُوهُمْ ‏.‏ فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الأَرْضَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ - قَالَ - فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِي وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ ‏.‏ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلاَثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ ‏.‏
سلمہ بن کہیل نے کہا : مجھے زید بن وہب جہنی ؒ نے حدیث سنا ئی کہ وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا ( اور ) خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لو گو !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : "" میری امت سے کچھ لو گ نکلیں گے وہ ( اس طرح ) قرآن پڑھیں گے کہ تمھا ری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمھا ری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کو ئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمھا رے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کو ئی حیثیت ہو گی ۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حا لا نکہ وہ ان کے خلا ف ہو گا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیزرفتا ری کے ساتھ اسلام سے نکل جا ئیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکا ر کے اندر سے نکل جا تا ہے ۔ : "" اگر وہ لشکر جو ان کو جا لے گا جا ن لے کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے ( بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر ) بھروسا کر لیں ۔ اس ( گروہ ) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہو گا جس کا عضد ( بازو ، کندھے سے لے کر کہنی تک کا حصہ ) ہو گا کلا ئی نہیں ہو گی اس کے بازو کے سر ے پر پستان کی نو ک کی طرح ( کا نشان ) ہو گا جس پر سفید بال ہوں گے تو لو گ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اہل شام کی طرف جا رہے ہو اور ان ( لوگوں ) کو چھوڑرہے ہو جو تمھا رے بعد تمھا رے بچوں اور اموال پر آپڑیں گے اللہ کی قسم!مجھے امید ہے کہ وہی قوم ہے کیونکہ انھوں نے ( مسلمانوں کا ) حرمت والا خون بہا یا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر غارت گر ی کی ہے اللہ کا نا م لے کر ( ان کی طرف ) چلو ۔ سلمہ بن کہیل نے کہا : مجھے زید بن وہب نے ( ایک ایک ) منزل میں اتارا ( ہر منزل کے بارے میں تفصیل سے ) بتا یا حتیٰ کے بتا یا : ہم ایک پل پر سے گزرے پھر جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس روز خوارج کا سپہ سالار عبد اللہ بن وہب راسی تھا اس نے ان سے کہا : اپنے نیزے پھنیک دو اور اپنی تلواریں نیا موں سے نکا ل لو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمھا رے سامنے ( صلح کے لیے اللہ کا نا م ) پکا ریں گے جس طرح انھوں نے خروراء کے دن تمھا رے سامنے پکا را تھا تو انھوں نے لوٹ کر اپنے نیزے دو ر پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں تو لو گ انھی نیزوں کے ساتھ ان پر پل پڑے اور وہ ایک دوسرے پر قتل ہو ئے ( ایک کے بعد دوسرا آتا اور قتل ہو کر پہلو ں پر گرتا ) اور اس روز ( علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دینے والے ) لو گوں میں سے دو کے سوا کو ئی اور قتل نہ ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ان میں ادھورے ہاتھ والے کو تلا ش کرو لو گوں نے بہت ڈھونڈا لیکن اس کو نہ پا سکے اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود اٹھے اور ان لو گوں کے پاس آئے جو قتل ہو کر ایک دوسرے پر گرے ہو ئے تھے آپ نے فر ما یا : ان کو ہٹاؤ تو انھوں نے اسے ( لا شوں کے نیچے ) زمین سے لگا ہوا پا یا ۔ آپ نے اللہ اکبر کہا پھر کہا : اللہ نے سچ فر ما یا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسی طرح ہم تک ) پہنچا دیا ۔ ( زید بن وہب نے ) کہا عبیدہ سلمانی کھڑے ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہو ئے اور کہا اے امیر المومنین ! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کو ئی عبادت کے لا ئق نہیں !آپ نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ تو انھوں نے کہا : ہاں اس اللہ کی قسم جس کے سوا کو ئی عبادت کے لا ئق نہیں !حتیٰ کہ اس نے آپ سے تین دفعہ قسم لی اور آپ اس کے سامنے حلف اٹھاتے رہے ۔
حدیث 2468 — صحيح مسلم 12:205
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - قَالُوا لاَ حُكْمَ إِلاَّ لِلَّهِ ‏.‏ قَالَ عَلِيٌّ كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلاَءِ ‏ "‏ يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لاَ يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ - وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ - مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ طُبْىُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْىٍ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - قَالَ انْظُرُوا ‏.‏ فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا فَقَالَ ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلاَ كُذِبْتُ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ ‏.‏ وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ زَادَ يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ بُكَيْرٌ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنِ ابْنِ حُنَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الأَسْوَدَ ‏.‏
ابو طا ہر اور یو نس بن عبد الاعلی دو نوں نے کہا ہمیں عبد اللہ بن وہب نے خبر دی انھوں نے کہا مجھے عمرو بن حارث نے بکیر اشج سے خبردی انھوں نے بسر بن سعید سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلا م حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے عبید اللہ سے روایت کی کہ جب حروریہ نے خروج کیا اور وہ ( عبیدہ اللہ ) حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا تو انھوں نے کہا حکومت اللہ کے سوا کسی کی نہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ کلمہ حق ہے جس سے با طل مراد لیا گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لو گوں کی صفات بیان کیں میں ان لو گو ں میں ان صفات کو خوب پہچا نتا ہوں ( آپ نے فر ما یا ) : "" وہ اپنی زبانوں سے حق بات کہیں گے اور وہ ( حق ) ان کی اس جگہ ۔ ۔ ۔ آپ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ ۔ سے آگے نہیں بڑھے گا یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے ہا ں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہیں ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہو گا اس کا ایک ہا تھ بکرکے تھن یا نوک پستان کی طرح ہو گا جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو قتل کیا ڈھونڈو ۔ لو گوں نے ڈھونڈا تو انھیں کچھ نہ ملا فر ما یا دوبارہ تلاش کرو اللہ کی قسم! میں نے جھوٹ نہیں بو لا اور نہ مجھے جھوٹ بتا یا گیا دو یا تین دفعہ ( یہی فقرہ ) کہا پھر انھوں نے اسے ایک کھنڈر میں پالیا تو وہ اسے لے آئے یہاں تک کہ اسے آپ کے سامنے رکھ دیا ۔ عبید اللہ نے کہا : میں بے ان کے اس معاملے میں اور ان کے متعلق حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات کے وقت حاضر تھا ۔ یو نس نے اپنی روا یت میں اضافہ کیا : بکیر نے کہا مجھے ( عبد اللہ ) بن حنین ( ہاشمی ) سے ایک آدمی نے حدیث بیان کی اس نے کہا میں نے بھی اس کا لے کو دیکھا تھا ۔
حدیث 2469 — صحيح مسلم 12:206
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي - أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي - قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَلاَقِيمَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لاَ يَعُودُونَ فِيهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ الصَّامِتِ فَلَقِيتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ أَخَا الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ قُلْتُ مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ كَذَا وَكَذَا فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عبد اللہ بن صامت نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا بلا شبہ میرے بعد میری امت سے ۔ ۔ ۔ یا عنقریب میرے بعد میری امت سے ۔ ۔ ۔ ایک قوم ہو گی جو قرآن پڑھیں گے وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جا تا ہے پھر اس میں واپس نہیں آئیں گے ۔ وہ انسانوں اور مخلو قات میں بد ترین ہوں گے ۔ ابن صامت نے کہا : میں حکم غفا ری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا ، میں نے کہا : ( یہ ) کیا حدیث ہے جو میں نے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح سنی ہے؟ اس کے بعد میں نے یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے کہا میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔
حدیث 2470 — صحيح مسلم 12:207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ، عَمْرٍو قَالَ سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ‏ "‏ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لاَ يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏
علی بن مسہر نے ( ابو اسحاق شیبانی سے اور انھوں نے یسر بن عمرو سے روایت کی انھوں نے کہا میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کا تذکرہکرتے ہو ئے سنا؟ انھوں نے کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تھا ۔ ۔ ۔ اور آپ نے اپنے ہا تھ سے مشرق کی جا نب اشارہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ ایک قوم ہو گی جو اپنی زبانوں سے قرآن مجید کی تلا وت کریں گے لیکن وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے آگے نہیں جا ئے گا وہ دین سے اس طرح تیزی سے نکل جا ئیں گے جس طرح تیر شکا ر میں سے نکل جا تا ہے ۔)
حدیث 2471 — صحيح مسلم 12:208
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ يَخْرُجُ مِنْهُ أَقْوَامٌ ‏.‏
عبد الو حد نے کہا : ہمیں ( ابو اسحاق ) سلیما ن شیبانی نے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ ) حدیث بیان کی اور کہا " اس ( جا نب ) سے کچھ قومیں نکلیں گی ۔
حدیث 2472 — صحيح مسلم 12:209
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، - عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَتِيهُ قَوْمٌ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ ‏"‏ ‏.‏
اعوام بن حو شب سے روایت ہے کہا ابو اسحاق شیبا نی نے سہیل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کی فر ما یا : " ایک قوم مشرق کی طرف سر گرداں پھر ے گی ان کے سر منڈھے ہو ئے ہوں گے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔