قرآني·Qurani
اردو

السلام

216 احادیث · #5646–5861

حدیث 5806 — صحيح مسلم 39:158
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ، إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الشُّؤْمِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ لاَ يَذْكُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ الْعَدْوَى وَالْطِّيَرَةَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ‏.‏
سفیان ، صالح ، عقیل ، بن خا لد ، عبد الرحمٰن بن اسحٰق اور شعیب ، ان سب نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( ابن معر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے انھوں نے ناموافقت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا ، یو نس بن یزید کے علاوہ ان میں سے کسی نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں "" کسی بیماری کے خو د بخود کسی دوسرے کو لگ جا نے اور بد شگونی "" کا ذکر نہیں کیا ۔ حدیث نمبر 5807 ۔ محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمر بن محمد بن یزید سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اگر کسی چیز میں کسی ناموافقت کا ہو نا بر حق ہو سکتا ہے تو وہ گھوڑے عورت اور مکان میں ہے ۔
حدیث 5807 — صحيح مسلم 39:159
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنْ يَكُنْ مِنَ الشُّؤْمِ شَىْءٌ حَقٌّ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمر بن محمد بن یزید سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر کسی چیز میں کسی ناموافقت کا ہو نا بر حق ہو سکتا ہے تو وہ گھوڑے عورت اور مکان میں ہے ۔
حدیث 5808 — صحيح مسلم 39:160
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ ‏ "‏ حَقٌّ ‏"‏ ‏.‏
روح بن عبادہ نے کہا : شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی لیکن انوھں نے " برحق " نہیں کہا : ( امکان یہی ہے کہ وہ حدیث روایت بالمعنی ہے ،)
حدیث 5809 — صحيح مسلم 39:161
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَىْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ وَالْمَرْأَةِ ‏"‏ ‏.‏
حمزہ بن عبد اللہ بن عمر نے اپنے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر کسی چیز میں عدم موافقت ہو تو گھوڑے ، مکان اور عورت میں ہو گی ۔
حدیث 5810 — صحيح مسلم 39:162
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ، سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ كَانَ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الشُّؤْمَ ‏.‏
امام مالک نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر یہ بات ہو تو عورت ، گھوڑے اور گھر میں ہو گی ۔ " آپ کی مراد عدم موافقت سے تھی ۔
حدیث 5811 — صحيح مسلم 39:163
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
ہشام بن سعد نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند حدیث روایت کی ۔
حدیث 5812 — صحيح مسلم 39:164
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ فَفِي الرَّبْعِ وَالْخَادِمِ وَالْفَرَسِ ‏"‏ ‏.‏
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبردے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر کسی چیز میں یہ بات ہو گی تو گھر ، کادم اور گھوڑےمیں ہو گی ۔
حدیث 5813 — صحيح مسلم 39:165
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَأْتُوا الْكُهَّانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ كُنَّا نَتَطَيَّرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ شَىْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلاَ يَصُدَّنَّكُمْ ‏"‏ ‏.‏
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف سے ، انھوں نے حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کچھ کا م ایسے تھے جو ہم زمانے جاہلیت میں کیا کرتے تھے ہم کا ہنوں کے پاس جا تے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " تم کا ہنوں کے پاس نہ جا یا کرو ۔ " میں نے عرض کی : ہم بد شگونی لیتے تھے ، آپ نے فر ما یا : " یہ ( بدشگونی ) محض ایک خیال ہے جو کو ئی انسان اپنے دل میں محسوس کرتا ہے ، یہ تمھیں ( کسی کام سے ) نہ روکے ۔
حدیث 5814 — صحيح مسلم 39:166
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا فِي حَدِيثِهِ ذَكَرَ الطِّيَرَةَ وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْكُهَّانِ ‏.‏
عقیل معمر ، ابن ابی ذئب اور مالک ، ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یو نس کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ، مگر مالک نے اپنی حدیث میں بدشگونی کا نام لیا ہے ، اس میں کا ہنوں کا ذکر نہیں ۔
حدیث 5815 — صحيح مسلم 39:167
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ، يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ ‏ "‏ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ ‏"‏ ‏.‏
حجاج صواف اور اوزاعی ، دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے ، انھوں نے عطا ء بن یسار سے ، انھوں نے معاویہ بن حکم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زہری کی ابو سلمہ سے اور ان کی معاویہ سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی ، اور یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں یہ الفا ظ زائد بیان کیے ، کہا : میں نے عرض کی : ہم میں ایسے لو گ ہیں جو ( مستقبل کا حال بتا نے کے لیے ) لکیریں کھینچتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچتے تھے ، جو ان کی لکیروں سے موافقت کرگیا تو وہ ٹھیک ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔