قرآني·Qurani
اردو

السلام

216 احادیث · #5646–5861

حدیث 5816 — صحيح مسلم 39:168
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْكُهَّانَ كَانُوا يُحَدِّثُونَنَا بِالشَّىْءِ فَنَجِدُهُ حَقًّا قَالَ ‏ "‏ تِلْكَ الْكَلِمَةُ الْحَقُّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ وَيَزِيدُ فِيهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ‏"‏ ‏.‏
معمر نے زہر ی سے ، انھوں نے یحییٰ بن عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کا ہن کسی چیز کے بارے میں جو ہمیں بتا یا کرتے تھے ( ان میں سےکچھ ) ہم درست پاتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " وہ سچی بات ہو تی ہے جسے کو ئی جن اچک لیتا ہے اور وہ اس کو اپنے دوست ( کا ہن ) کے کا ن میں پھونک دیتا ہے اور اس ایک سچ میں سوجھوٹ ملا دیتا ہے ۔
حدیث 5817 — صحيح مسلم 39:169
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهْوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَيْسُوا بِشَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا الشَّىْءَ يَكُونُ حَقًّا ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ‏"‏ ‏.‏
معقل بن عبید اللہ نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے یحییٰ بن عروہ نے بتا یا کہ انھوں نے عروہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : لو گوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کا ہنوں کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" وہ کچھ نہیں ہیں ۔ "" صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ لو گ بعض اوقات ایسی چیز بتاتے ہیں جو سچ نکلتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : وہ جنوں کی بات ہو تی ہے ، ایک جن اسے ( آسمان کے نیچے سے ) اچک لیتا تھا پھر وہ اسے اپنے دوست ( کا ہن ) کے کان میں مرغی کی کٹ کٹ کی طرح کٹکٹاتا رہتا ہے ۔ اور وہ اس ( ایک ) بات میں سو زیادہ جھوٹ ملا دیتا ہے ۔
حدیث 5818 — صحيح مسلم 39:170
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْقِلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏.‏
ابن جریج نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ معقل کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی ۔
حدیث 5819 — صحيح مسلم 39:171
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، وَقَالَ، عَبْدٌ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنَّهَا لاَ يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ - قَالَ - فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ بِهِ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ ‏"‏ ‏.‏
صالح نے ابن شہا ب سے ، روایت کی : کہا مجھے علی بن حسین ( زین العابدین ) نے حدیث سنا ئی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک انصاری نے مجھے بتا یا کہ ایک بار وہ لو گ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہو ئے تھے ۔ کہ ایک ستا رے سے کسی چیز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ روشن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " جب جاہلیت میں اس طرح ستارے سے نشانہ لگا یا جا تا تھا ۔ تو تم لوگ کیا کہا کرتے تھے؟لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جا ننے والے ہیں ہم یہی کہا : کرتے تھے ۔ کہ آج رات کسی عظیم انسان کی ولادت ہو ئی ہے اور کو ئی عظیم انسان فوت ہوا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے کسی کی زندگی یا موت کی بنا پر نشانے کی طرف نہیں چھوڑا جا تا ، بلکہ ہمارا رب ، اس کا نام برکت والا اور اونچا ہے ، جب کسی کام کا فیصلہ فر ما تا ہے تو حاملین عرش ( زورسے ) تسبیح کرتے ہیں ، پھر ان سے نیچے والے آسمان کے فرشتے تسبیح کا ورد کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ تسبیح کا ورد ( دنیا کے ) اس آسمان تک پہنچ جا تا ہے ، پھر حاملین عرش کے قریب کے فرشتے حاملین عرش سے پو چھتے ہیں تمھا رے پروردیگا ر نے کیا فرمایا؟وہ انھیں بتا تے ہیں کہ اس نے کیا فر ما یا پھر ( مختلف ) آسمانوں والے ایک دوسرے سے پو چھتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ خبر دنیا کے اس آسمان تک پہنچ جا تی ہے تو جن بھی جلدی سے اس کی کچھ سماعت اچکتے ہیں اور اپنے دوستوں ( کا ہنوں ) تک دے چھینکتے ہیں ( اس خبر کو پہنچادیتے ہیں ) خبروہ صحیح طور پر لا تے ہیں وہ سچ تو ہو تی ہے لیکن وہ اس میں جھوٹ ملا تے اور اضافہ کردیتے ہیں ۔
حدیث 5820 — صحيح مسلم 39:172
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ، شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ - كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ، قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ مِنَ الأَنْصَارِ وَفِي حَدِيثِ الأَوْزَاعِيِّ ‏"‏ وَلَكِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ ‏"‏ وَلَكِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ وَقَالَ اللَّهُ ‏"‏ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ كَمَا قَالَ الأَوْزَاعِيُّ ‏"‏ وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ ‏"‏ ‏.‏
اوزاعی ، یونس اور معقل بن عبید اللہ سب نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر یونس نے کہا : عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : مجھے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے خبر دی اور اوزاعی کی حدیث میں ہے ۔ لیکن وہ اس میں جھوٹ ملا تے ہیں اور بڑھا تے ہیں ۔ " اور یونس کی حدیث میں ہے : " لیکن وہ اونچا لے جا تے ہیں ( مبا لغہ کرتے ہیں ) اور بڑھاتے ہیں ۔ " یونس کی حدیث میں مزید یہ ہے : اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا : یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے ہیبت اور ڈر کو ہٹا لیا جا تا ہے تو وہ کہتے ہیں ۔ تمھا رے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں ۔ حق کہا ۔ اور معقل کی حدیث میں اسی کی طرح ہے جس طرح اوزاعی نے کہا : " لیکن وہ اس میں جھوٹ ملا تے ہیں ۔ اور اضافہ کرتے ہیں ۔
حدیث 5821 — صحيح مسلم 39:173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَىْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ‏"‏ ‏.‏
۔ ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ ) صفیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فرما یا : " جو شخص کسی غیب کی خبر یں سنا نے والے کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو چالیس راتوں تک اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔
حدیث 5822 — صحيح مسلم 39:174
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِعْ ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن شرید نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ثقیف کے وفد میں کو ڑھ کا یک مریض بھی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیغام بھیجا : " ہم نے ( بالواسطہ ) تمھا ری بیعت لے لی ہے ، اس لیے تم ( اپنے گھر ) لوٹ جاؤ ۔
حدیث 5823 — صحيح مسلم 39:175
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ ‏.‏
عبد ہ بن سلیمان اور ابن نمیر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ پر دوسفید لکیروں والے سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ، کیونکہ وہ بصارت چھین لیتا ہے ۔ اور حمل کو نقصان پہنچاتا ہے ۔
حدیث 5824 — صحيح مسلم 39:176
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ الأَبْتَرُ وَذُو الطُّفْيَتَيْنِ ‏.‏
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اس سند کے ساتھ حدیث سنا ئی اور کہا : بے دم کا سانپ اور پشت پر دو سفیدلکیروں والا سانپ ( ماردیا جا ئے ۔)
حدیث 5825 — صحيح مسلم 39:177
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : "" سانپوں کو قتل کردو اور ( خصوصاً ) دو سفید لکیروں والے اور دم بریدہ کو ، کیونکہ یہ حمل گرا دیتے ہیں اور بصارت زائل کردیتے ہیں ۔ "" ( سالم نے ) کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار ڈالتے ، ایک بارابولبابہ بن عبدالمنذر یا زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے تو انھوں نے کہا : لمبی مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو ( فوری طور پر ) ماردینے سے منع کیا گیا ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔