قرآني·Qurani
اردو

السلام

216 احادیث · #5646–5861

حدیث 5686 — صحيح مسلم 39:40
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجْلِسْ فِيهِ ‏.‏
عبد الا علیٰ نے معمر سے ، انھوں نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص اپنے بھا ئی کو اس جگہ سے نہ اٹھا ئےکہ پھر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے ۔ " ( سالم نے کہا ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ طریق تھا کہ کو ئی شخص ان کے لیے ( خود بھی ) اپنی جگہ سے اٹھتا تو وہ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے تھے ۔
حدیث 5687 — صحيح مسلم 39:41
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
عبد الرزاق نے کہا : معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
حدیث 5688 — صحيح مسلم 39:42
وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ لْيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ وَلَكِنْ يَقُولُ افْسَحُوا ‏"‏ ‏.‏
ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص جمعے کے دن اپنے بھا ئی کو کھڑا نہ کرے کہ پھر دوسری طرف سے آکر اس کی جگہ پر خود بیٹھ جائے ، بلکہ ( جوآئے وہ ) کہے " جگہ کشادہ کردو ۔
حدیث 5689 — صحيح مسلم 39:43
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَقَالَ، قُتَيْبَةُ أَيْضًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ‏"‏ مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابو عوانہ اور عبد العزیز بن محمد دونوں نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم میں سے کو ئی شخص کھڑا ہو " اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے " جب تم میں سے کو ئی شخص اپنی جگہ سے کھڑا ہو ۔ پھر اس جگہ لوٹ آئے تو وہی اس ( جگہ ) کا زیادہ حقدارہے ۔ ۔
حدیث 5690 — صحيح مسلم 39:44
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَيْضًا - وَاللَّفْظُ هَذَا - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ مُخَنَّثًا، كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلاَنَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ‏.‏ قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَدْخُلْ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ایک مخنث ان کے ہاں مو جو دتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھا ئی سے کہنے لگا : عبد اللہ بن ابی امیہ! اگر کل ( کلاں کو ) اللہ تعا لیٰ تم لو گوں کو طا ئف پر فتح عطا فر ما ئے تو میں تمھیں غیلا ن کی بیٹی ( بادیہ بنت غیلا ن ) کا پتہ بتا ؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے ( سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں ) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جا تی ہے ۔ ۔ ( انتہائی فربہ جسم کی ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فر ما یا : " یہ ( مخنث ) تمھا رے ہاں داخل نہ ہو ا کریں ۔
حدیث 5691 — صحيح مسلم 39:45
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ - قَالَ - فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَ أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَا هُنَا لاَ يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَحَجَبُوهُ ‏.‏
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسے جنسی معاملا ت سے بے بہر ہ سمجھا کرتی تھیں ۔ فرما یا : " ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا اور وہ آپ کی ایک اہلیہ کے ہاں بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کررہا تھا وہ کہنے لگا : جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے ۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ جو کچھ یہاں ہے اسے سب پتہ ہے ، یہ لوگ تمھا رے پاس نہ آیا کریں ۔ " " تو انھوں ( امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے اس سے پردہ کر لیا ۔
حدیث 5692 — صحيح مسلم 39:46
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلاَ مَمْلُوكٍ وَلاَ شَىْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ - قَالَتْ - فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ وَأَعْلِفُهُ وَأَسْتَقِي الْمَاءَ وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ وَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ - قَالَتْ - وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَأْسِي وَهْىَ عَلَى ثُلُثَىْ فَرْسَخٍ - قَالَتْ - فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِخْ إِخْ ‏"‏ ‏.‏ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ - قَالَتْ - فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ ‏.‏ قَالَتْ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي ‏.‏
ہشام کے والد ( عروہ ) نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے ( حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے نکا ح کیا تو ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوانہ کچھ مال تھا ، نہ غلام تھا ، نہ کو ئی اور چیز تھی ۔ ان کے گھوڑے کو میں ہی چارا ڈالتی تھی ان کی طرف سے اس کی ساری ذمہ داری میں سنبھا لتی ۔ اس کی نگہداشت کرتی ان کے پانی لا نے والے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیاں توڑتی اور اسے کھلا تی میں ہی ( اس پر ) پانی لا تی میں ہی ان کا پانی کا ڈول سیتی آٹا گوندھتی ، میں اچھی طرح روٹی نہیں بنا سکتی تھی تو انصار کی خواتین میں سے میری ہمسائیاں میرے لیے روٹی بنا دیتیں ، وہ سچی ( دوستی والی ) عورتیں تھیں ، انھوں نے ( اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زمین کا جو ٹکڑا عطا فرما یا تھا وہاں سے اپنے سر پر گٹھلیاں رکھ کر لا تی یہ ( زمین ) تقریباً دو تہائی فرسخ ( تقریباً 3.35کلو میٹر ) کی مسافت پر تھی ۔ کہا : ایک دن میں آرہی تھی گٹھلیاں میرے سر پر تھیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کچھ لو گ آپ کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا یا ، پھر آواز سے اونٹ کو بٹھا نے لگے تا کہ ( گٹھلیوں کا بوجھ درمیان میں رکھتے ہو ئے ) مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں ۔ انھوں نے ( حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کرتے ہو ئے ) کہا : مجھے شرم آئی مجھے تمھا ری غیرت بھی معلوم تھی تو انھوں ( زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اللہ جا نتا ہے کہ تمھارا اپنے سر پر گٹھلیوں کا بوجھ اٹھا نا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے ۔ کہا : ( یہی کیفیت رہی ) یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے پاس ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ حدیث : 5693 ۔ ) ایک کنیز بھجوادی اور اس نے مجھ سے گھوڑے کی ذمہ داری لے لی ۔ ( مجھے ایسے لگا ) جیسے انھوں نے مجھے ( غلا می سے ) آزاد کرا دیا ہے ۔
حدیث 5693 — صحيح مسلم 39:47
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ، قَالَتْ كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ وَكُنْتُ أَسُوسُهُ فَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْخِدْمَةِ شَىْءٌ أَشَدَّ عَلَىَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا جَاءَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَبْىٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا ‏.‏ قَالَتْ كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ فَجَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ ‏.‏ قَالَتْ إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَىَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ فَجَاءَ فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ ‏.‏ فَقَالَتْ مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلاَّ دَارِي فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلاً فَقِيرًا يَبِيعُ فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَىَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي ‏.‏ فَقَالَ هَبِيهَا لِي ‏.‏ قَالَتْ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا ‏.‏
ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں گھر کی خدمات سر انجام دےکر حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت کرتی تھی ، ان کا ایک گھوڑاتھا ، میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی ، میرے لیے گھر کی خدمات میں سے گھوڑے کی نگہداشت سے بڑھ کر کوئی اورخدمت زیادہ سخت نہ تھی ۔ میں اس کے لئے چارہ لاتی ، اس کی ہرضرورت کا خیال رکھتی اور اس کی نگہداشت کرتی ، کہا : پھر انھیں ایک خادمہ مل گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو آپ نے ان کے لئے ایک خادمہ عطا کردی ۔ کہا : اس نے مجھ سے گھوڑے کی نگہداشت ( کی ذمہ داری ) سنبھال لی اور مجھ سے بہت بڑا بوجھ ہٹا لیا ۔ میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہا : ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں : میرا دل چاہتاہے ہے کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں ( بیٹھ کرسودا ) بیچ لیاکروں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں نے تمھیں اجازت دے دی تو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انکار کردیں گے ۔ جب زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود ہوں تو ( اس وقت ) آکر مجھ سے اجازت مانگنا ، پھر وہ شخص ( حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں ) آیا اور کہا : ام عبداللہ! میں ایک فقیرآدمی ہوں اور چاہتاہوں کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں ( بیٹھ کر کچھ ) بیچ لیاکروں ، انھوں ( حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے جواب دیا : مدینے میں تمھارے لئے میرے گھر کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے ؟تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : تمھیں کیا ہوا ہے ، ایک فقیر آدمی کو سودا بیچنے سے روک رہی ہو؟وہ بیچنے لگا ، یہاں تک کہ اس نے کافی کمائی کرلی ، میں نے وہ خادمہ اسے بیچ دی ۔ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اند رآئے تو اس خادمہ کی قیمت میری گود میں پڑی تھی ، انھوں نے کہا ، یہ مجھے ہبہ کردو ۔ تو انھوں نے کہا : میں اس کو صدقہ کرچکی ہوں ۔
حدیث 5694 — صحيح مسلم 39:48
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ ثَلاَثَةٌ فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ ‏"‏ ‏.‏
مالک نےنافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تین شخص ( موجود ) ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آ پس میں سرگوشی نہ کریں ۔
حدیث 5695 — صحيح مسلم 39:49
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ ‏.‏
عبیداللہ ، لیث بن اسعد ، ایوب ( سختیانی ) اور ایوب بن موسیٰ ان سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔