قرآني·Qurani
اردو

السلام

216 احادیث · #5646–5861

حدیث 5696 — صحيح مسلم 39:50
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ ‏"‏ ‏.‏
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم تین لوگ ( ایک ساتھ ) ہوتو ایک کو چھوڑ کردو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں ، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ ، کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ ( دوکی سرگوشی ) اسے غمزدہ کردے ۔
حدیث 5697 — صحيح مسلم 39:51
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم تین لوگ ہوتو اپنے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ چیز اس کو غم زدہ کردے گی ۔
حدیث 5698 — صحيح مسلم 39:52
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
عیسیٰ بن یونس اورسفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ( حدیث بیان کی ۔)
حدیث 5699 — صحيح مسلم 39:53
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ يُبْرِيكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ ‏.‏
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ کو دم کرتے ، وہ کہتے : " اللہ کے نام سے ، وہ آپ کو بچائے اور ہر بیماری سے شفا دے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے اورنظر لگانے والی ہر آنکھ کے شرسے ( آپ کومحفوظ رکھے ۔)
حدیث 5700 — صحيح مسلم 39:54
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ جِبْرِيلَ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ فَقَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ‏.‏
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اے محمد!کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کلمات کہے : " میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتاہوں ، ہر چیز سے ( حفاظت کے لئے ) جو آپ کو تکلیف دے ، ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے ، اللہ آپ کو شفا دے ، میں اللہ کے نام سے آ پ کو دم کر تا ہوں ۔
حدیث 5701 — صحيح مسلم 39:55
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْعَيْنُ حَقٌّ ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کیں ، انھوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نظر حق ( ثابت شدہ بات ) ہے ۔
حدیث 5702 — صحيح مسلم 39:56
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ، طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آ پ نے فرمایا : " نظر حق ( ثابت شدہ بات ) ہے ، اگر کوئی ایسی چیز ہوتی جو تقدیر پر سبقت لے جاسکتی تو نظرسبقت ہے جاتی ۔ اور جب ( نظر بد کے علاج کےلیے ) تم سے غسل کرنے کے لئے کہا جائے تو غسل کرلو ۔
حدیث 5703 — صحيح مسلم 39:57
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ - قَالَتْ - حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ جَاءَنِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ ‏.‏ فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَىَّ أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَىَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ ‏.‏ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ‏.‏ قَالَ فِي أَىِّ شَىْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ ‏.‏ قَالَ وَجُبِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ ‏.‏ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أَحْرَقْتَهُ قَالَ ‏"‏ لاَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ ‏"‏ ‏.‏
ابن نمیر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بنی زریق کے ایک یہودی لبید بن اعصم نے جادو کیا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آتا کہ میں یہ کام کر رہا ہوں حالانکہ وہ کام کرتے نہ تھے ۔ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، پھر دعا کی ، پھر فرمایا کہ اے عائشہ! تجھے معلوم ہوا کہ اللہ جل جلالہ نے مجھے وہ بتلا دیا جو میں نے اس سے پوچھا؟ ۔ میرے پاس دو آدمی آئے ، ایک میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا پاؤں کے پاس ( وہ دونوں فرشتے تھے ) جو سر کے پاس بیٹھا تھا ، اس نے دوسرے سے کہا جو پاؤں کے پاس بیٹھا تھا اس نے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ وہ بولا کہ اس پر جادو ہوا ہے ۔ اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ لبید بن اعصم نے ۔ پھر اس نے کہا کہ کس میں جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی سے جھڑے اور نر کھجور کے گابھے کے ریشے میں ۔ اس نے کہا کہ یہ کہاں رکھا ہے؟ وہ بولا کہ ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ کی قسم اس کنوئیں کا پانی ایسا تھا جیسے مہندی کا زلال اور وہاں کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے شیطانوں کے سر ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جلا کیوں نہیں دیا؟ ( یعنی وہ جو بال وغیرہ نکلے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تو اللہ نے ٹھیک کر دیا ، اب مجھے لوگوں میں فساد بھڑکانا برا معلوم ہوا ، پس میں نے حکم دیا اور وہ دفن کر دیا گیا ۔
حدیث 5704 — صحيح مسلم 39:58
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَقَالَ فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ ‏.‏ وَقَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْرِجْهُ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ أَفَلاَ أَحْرَقْتَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ ‏"‏ ‏.‏
ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، کہا ، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نےحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا ۔ اسکے بعد ابو کریب نے واقعے کی تفصیلات سمیت ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف تشریف لئے گئے ، اسے دیکھا ، اس کنویں پر کھجور کے درخت تھے ( جنھیں کسی زمانے میں کنویں کے پانی سےسیراب کیاجاتا ہوگا ) انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اسے نکالیں ( اور جلادیں ) ابو کریب نے : " آپ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟ " کے الفاظ نہیں کہے اور یہ الفاظ ( بھی ) بیان نہیں کیے؛ " میں نے اس کے بار ے میں حکم دیا تو اس کو پاٹ دیاگیا ۔
حدیث 5705 — صحيح مسلم 39:59
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ، بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أَرَدْتُ لأَقْتُلَكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَاكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَوْ قَالَ ‏"‏ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالُوا أَلاَ نَقْتُلُهَا قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود ( پکی ہوئی ) بکری لے کر آئی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ ( گوشت کھایا ) ( آپ کو اس کے زہر آلود ہونے کاپتہ چل گیا ) تو اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایاگیا ، آپ نے اس عورت سے اس ( زہر ) کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : ( نعوذ باللہ! ) میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ تمھیں اس بات پر تسلط ( اختیار ) دے دے ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نےکہا : یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( تمھیں ) مجھ پر ( تسلط دے دے ۔ ) " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " نہیں ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےدہن مبارک کے اندرونی حصے میں اسکے اثرات کو پہچانتاہوں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔