ابن ابی عمر ، سفیان بن عینیہ ، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ میں روزے سے ہوں کہ جو چاہتا ہے کہ روزہ رکھ لے وہ رکھ لے اور مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور یونس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا باقی حصہ ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 2656 — صحيح مسلم 13:162
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ " . فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ .
یحییٰ بن یحییٰ ، ہشیم ابی بشر ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو لوگوں نے ان سے اس روزے کےبارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضر ت موسیٰ علیہ السلام کو اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا تو ہم اس دن کی عظمت کی وجہ سے روزہ رکھتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزے کا حکم فرمایا ۔
ابن بشار ، ابو بکر بن نافع ، محمد بن جعفر ، شعبہ ، ابی بشراس سندکے ساتھ حضرت ابی بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی ۔
حدیث 2658 — صحيح مسلم 13:164
وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ " . فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ " . فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ .
ابن ابی عمر ، سفیان ، ایوب ، عبداللہ بن سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس دن کی کیا وجہ ہے؟تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ عظیم دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کونجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق فرمایا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کاروزہ رکھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم زیادہ حق دار ہیں اور تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔
اسحاق بن ابراہیم ، عبدالرزاق ، معمر ، حضرت ایوب سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ابن سعید بن جبیر ہے نام ذکر نہیں کیاگیا ۔
حدیث 2660 — صحيح مسلم 13:166
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُومُوهُ أَنْتُمْ " .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابن نمیر ، ابو اسامہ ، ابی عمیس ، قیس بن سالم ، طارق بن شہاب ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ یہودی لوگ عاشورہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی اس دن کو روزہ رکھو ۔
احمد بن منذر ، حماد بن اسامہ ، ابو عمیس ، قیس ، صدقہ بن ابی عمران ، قیس بن سالم ، طارق بن شہاب ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے اور اپنی عورتوں کو زیور پہناتے اور بناؤ سنگھار کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی اس دن کو روزہ رکھو ۔ راوی : احمد بن منذر ، حماد بن اسامہ ، ابو عمیس ، قیس ، صدقہ بن ابی عمران ، قیس بن سالم ، طارق بن شہاب ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ابو بکر ابن شیبہ ، عمروناقد ، سفیان ، ابو بکر ، ابن عینیہ ، عبیداللہ ابن ابی یزید ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عاشورہ کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ا نہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عاشورہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن کی وجہ سے روزہ رکھا ہو اور نہ کسی مہینے میں سوائے اس مہینے یعنی رمضان کے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ ، وکیع بن جراح ، حاجب ابن عمر ، حضرت حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم ( کے قریب ) اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورے کے روزے کے بارے میں خبر دیجئے انہوں نے فرمایا کہ جب تو محرم کا چانددیکھے تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں