قرآني·Qurani
اردو

الصيام

285 احادیث · #2495–2779

حدیث 2665 — صحيح مسلم 13:171
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ ‏.‏
محمد بن حاتم ، یحییٰ بن سعید ، معاویہ بن عمرو ، حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس حال میں پوچھا کہ وہ زم زم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد اسی طرح حدیث مبارکہ ہے ۔
حدیث 2666 — صحيح مسلم 13:172
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، بْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَقُولُ حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حسن بن علی حلوانی ، ابن ابی مریم ، یحییٰ بن ایوب ، اسماعیل بن امیہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس دن تو یہودی اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ۔
حدیث 2667 — صحيح مسلم 13:173
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، - لَعَلَّهُ قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لأَصُومَنَّ التَّاسِعَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، وکیع ، ابن ابی ذئب ، قاسم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں آنے والے سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی ضرور روزہ رکھوں گا اور ابو بکر کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا عاشورہ کے دن کا روزہ ۔
حدیث 2668 — صحيح مسلم 13:174
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي، عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ ‏ "‏ مَنْ كَانَ لَمْ يَصُمْ فَلْيَصُمْ وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ إِلَى اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
قتیبہ بن سعید ، حاتم یعنی ابن اسماعیل ، یزید بن ابی عبید ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو عاشورہ کے دن بھیجا اور اسے حکم فرمایاکہ وہ لوگوں میں اعلان کردے کہ جس آدمی نے روزہ نہ رکھا ہووہ روزہ رکھ لے ۔ اور جس نے کھالیا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزے کو رات تک پورا کرلے ۔
حدیث 2669 — صحيح مسلم 13:175
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لاَحِقٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ، بْنُ ذَكْوَانَ عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ ‏ "‏ مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَكُنَّا بَعْدَ ذَلِكَ نَصُومُهُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الإِفْطَارِ ‏.‏
ابو بکر بن نافع ، بشر بن مفضل بن لاحق ، خالد بن ذکوان ، حضرت ربیع بنت معوذبن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کی صبح کو انصارکی اس بستی کی طرف جو مدینہ منورہ کے اردگرد تھی یہ پیغام بھجوادیا کہ جس آدمی نے صبح روزہ رکھا تو وہ اپنے روزے کو پور کرلے اور جس نے صبح کو افطار کرلیا ہوتو اسے چاہیے کہ باقی دن روزہ پورا کرلےاس کے بعد ہم ر وزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم انہیں مسجد کی طرف لے جاتے اور ہم ان کے لئے روئی کی گڑیاں بناتے اور جب ان بچوں میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتاتو ہم انہیں وہ گڑیا دے دیتے تاکہ وہ افطاری تک ان کے ساتھ کھیلتے رہیں ۔
حدیث 2670 — صحيح مسلم 13:176
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْعَطَّارُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ عَنْ صَوْمِ، عَاشُورَاءَ قَالَتْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رُسُلَهُ فِي قُرَى الأَنْصَارِ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَنَصْنَعُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ فَنَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ أَعْطَيْنَاهُمُ اللُّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ حَتَّى يُتِمُّوا صَوْمَهُمْ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو معشر ، عطار ، حضرت خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی بستی میں اپنا نمائندہ بھیجا پھر آکر بشر کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کے لئے روئی کی گڑیاں بناتے تاکہ وہ ان سے کھیلیں اور وہ ہمارے ساتھ مسجد میں جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیاں دے دیتے اور وہ ان سے کھیل میں لگ کر روزہ بھول جاتے یہاں تک کہ ان کا روزہ پورا ہوجاتا ۔
حدیث 2671 — صحيح مسلم 13:177
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ
یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ابن شہاب ، حضرت ابو عبید مولی بن ازہر سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ میں عید کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس موجود تھا تو آپ آئے اور نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہوکر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ یہ وہ دن ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے کہ جس دن تم افطار کرتے ہو اور دوسرا وہ دن ہے کہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو ۔
حدیث 2672 — صحيح مسلم 13:178
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ، محمد بن یحییٰ ابن حبان ، اعرج ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا ایک قربانی کے دن اور دوسرا فطر کے دن ۔
حدیث 2673 — صحيح مسلم 13:179
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، - وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ - عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ مِنْهُ، حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي فَقُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ أَسْمَعْ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَصْلُحُ الصِّيَامُ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمِ الأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏
قتیبہ بن سعید ، جریر ، عبدالملک ، ابن عمیر ، قزعہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک حدیث سنی جو مجھے بڑی عجیب لگی قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید سے کہا ۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کہ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ بات کہہ سکتاہوں جس کو میں نے آپ سے نہ سناہو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ دو د نوں میں روزہ رکھنا درست نہیں ایک قربانی کے دن دوسرے رمضان عید الفطر کے دن ۔
حدیث 2674 — صحيح مسلم 13:180
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ ‏.‏
ابو کامل جحدری ، عبدالعزیز بن مختار ، عمرو بن یحییٰ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک عید الفطر کےدن دوسرے عید الاضحیٰ یعنی قربانی کے دن ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔