عطاء نے ابو صالح الزیا ت سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ عزوجل نے فر ما یا : ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا ۔ اور روزہ ڈھال ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور وغل کرے ۔ اگر کو ئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے : میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے!قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گی ۔ اور روزہ دار کے لیے دوخوشی کے موقع ہیں وہ ان دونوں پر خوش ہو تا ہے : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہو تا ہے اور جب اپنے رب کو ملے گا تو اپنے روزے ( کی وجہ ) سے خوش ہو گا ۔
اعمش نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہاؒ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ؒابن آدم کا ہر عمل بڑھا یا جا تا ہے ۔ نیکی دس گنا سے ساتھ سو گنا تک ( بڑھا دی جا تی ہے ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سوائے روزے کے ( کیونکہ ) وہ ( خالصتاً ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھا نا پینا چوڑ دیتا ہے ۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے ( روزہ ) افطار کرنے کے وقت کی اور ( دوسری ) خوشی اپنے رب سے ملا قات کے وقت کی ۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند یدہ ہے ۔
محمد بن فضیل نے ابو سنان سے ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل فر ماتا ہے ۔ بلا شبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ بلا شبہ روزہ دار کے لیے دوخوشیاں ہیں : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے خوش ہو تا ہے ۔ اور جب وہ اللہ سے ملا قات کرے گا ۔ خوش ہو گا ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے !اللہ کے ہاں ، روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔
عبد العزیز بن مسلم نے کہا : ہمیں ضرار بن مرہ ( ابوسنان ) نے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے ما نند ) حدیث سنائی ، کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کو اجرو ثواب عطا کرے گا تو وہ خوش ہو گا ۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جنت میں ایک ( ایسا ) دروازہ ہے جسے " الریان " کہا جا تا ہے قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے ان کے ساتھ ان کے سوا کو ئی اور داخل نہیں ہوں گے ۔ جب ان میں سے آخری ( فرد ) داخل ہو جا ئے گا ۔ تو وہ ( دروازہ بند کر دیا جا ئے گا ، اس کے بعدکوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا ۔)
حدیث 2711 — صحيح مسلم 13:217
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ، أَبِي صَالِحٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
ابن ہاد نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے نعمان بن ابی عیاش سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کوئی شخص نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعا لیٰ اس دن ( کے روزے ) بدلے اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دورکردے گا ۔
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی سے سنا ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیثبیان کر رہے تھے ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا : " جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعا لیٰ اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے ۔
عبدالواحد بن زیاد نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، ( انھوں نے کہا : ) مجھے عائشہ بنت طلحۃ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث سنائی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عائشہ !کیا تمھارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ "" کہا : تو میں نے عرض کی!اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو ( پھر ) میں روزے سے ہوں ۔ "" اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس ہدیہ بھیجاگیا یا ہمارے پاس ملاقاتی ( جو ہدیہ لائے ) آگئے ۔ کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے ۔ یا ہمارے پاس مہمان آئے ۔ اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ محفوظ کرکے رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ کیا ہے؟ "" میں نے عرض کی : وہ حیس ( کھجور ، گھی اورپنیر سے بنا ہوا کھانا ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے لایئے "" تو میں اسے لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں نے ر وزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ "" طلحہ نے کہا : میں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انھوں نے کہا : یہ اس آدمی کی طرح ہے جو ا پنے مال سے صدقہ نکالتا ہے ، اگر وہ چاہے تو دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو روک لے ۔