وکیع نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا : " کیا آپ لوگوں کے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ " تو ہم نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو تب میں روزے سے ہوں ۔ " پھر ایک اور دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں حیس تحفے میں ملا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے کھلایئے ، میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا ۔
حدیث 2716 — صحيح مسلم 13:222
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
حدیث 2717 — صحيح مسلم 13:223
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رضى الله عنها هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ وَلاَ أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ .
سعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےدریافت کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے سوا کسی متعین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم! رمضان کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی متعین مہینے کے ( پورے ) روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ آپ آگے تشریف لے گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے روزے ترک کیے ، جب تک کہ اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیے ۔
حدیث 2718 — صحيح مسلم 13:224
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلاَّ رَمَضَانَ وَلاَ أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صلى الله عليه وسلم .
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا : میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مہینے کے روزے چھوڑے ۔ تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیتے ، یہاں تک کہ آپ اپنی ( دائمی منزل کی ) راہ پر تشریف لے گئے ۔
حماد نے ایوب اورہشام سے ، انھوں نے محمد سے ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ۔ حماد نے کہا : میرا خیال ہے ، ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا ۔ کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا توانھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے پر روزے رکھتےجارہے ہیں ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کردیتے ) حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل افطار کررہے ہیں ، کہا : جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ہیں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں ، ا س کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو ۔
قتیبہ نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں حماد نے ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوا کیا ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ، انھوں نے سند میں ہشام اور محمد کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 2721 — صحيح مسلم 13:227
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ . وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ . وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلاَّ رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ .
عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابو نضر نے ابو سلمہ بن عبدالرحمان ( بن عوف ) سے اور انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رویت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ، اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ( اور ) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے ۔
ابن ابی لبید نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بار ے میں پوچھا توانھوں نے بتایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ، اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی اور مہینے میں شعبان کےروزوں کی نسبت زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( گویا ) پورے شعبان کے ر وزے رکھتے تھے ، محض چند دن چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزے رکھتے تھے ۔
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں ، شعبان سے بڑھ کر ، روزے نہیں رکھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے : " اتنے ہی اعمال اپناؤ جتنوں کی تم طاقت رکھتے ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرگز نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم خود ہی ( عمل کرنے سے ) اکتا جاؤ گے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے : " اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل و ہ ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشہ قائم رہے چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ۔
ابو عوانہ نے ابو بشر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو اتنے روزے رکھتے کہ کہنے والا کہتا : نہیں ، اللہ کی قسم!آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑتے تو ( مسلسل ) چھوڑتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا : نہیں ، اللہ کی قسم!آپ روزے نہیں رکھیں گے ۔