عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے سعید بن جبیر سے رجب میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا ، اور ہم ان دنوں رجب میں ہی تھے ، تو انھوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ۔
علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن حکیم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
حدیث 2728 — صحيح مسلم 13:234
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه ح. وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ . وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ .
زہیر بن حرب اورابو بکر بن نافع نے ۔ الفاظ انھی کے ہین ۔ دو الگ الگ سندوں کے ساتھ حماد سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ کہاجاتا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کردیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کردیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ کہا جاتا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے چھوڑ دیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزےرکھنے چھوڑ دیے ۔
حدیث 2729 — صحيح مسلم 13:235
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يَقُولُ لأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ " . فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رضى الله عنهما لأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلاَثَةَ الأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي .
ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ وہ ( عبداللہ ) کہتاہے : میں جب تک زندہ ہوں ( مسلسل ) رات کا قیام کروں گا اور دن کا روزہ رکھوں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم ہی ہو جو یہ باتیں کرتے ہو؟ "" میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !واقعی میں نے ہی یہ کہا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم یہ کام نہیں کرسکو گے ، لہذا روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو ۔ نیند بھی کرو اور قیام بھی کرو ، مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی ( کا اجر ) دس گنا ہے ۔ اس طرح یہ سارے وقت کے روزوں کی طرح ہے ۔ "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو ۔ "" کہا : "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اورایک دن نہ رکھو ۔ "" یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ اور یہ روزوں کا سب سے منصفانہ ( طریقہ ) ہے ۔ "" کہا : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس سے افضل کوئی صورت نہیں ۔ "" عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ بات مجھے اپنے اہل وعیال سے بھی زیاد عزیز ہے کہ میں ( مہینے میں ) تین دنوں کی بات تسلیم کرلیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی ۔
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی کہا : میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابو سلمہ کے پاس حاضری کے لیے ( اپنے گھروں سے ) روانہ ہوئے ۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لئے باہر نکل آئے ۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی ، کہا : ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آگئے ۔ انھوں نے کہا : اگر تم چاہو تو ( گھر میں ) داخل ہوجاؤ ۔ اور اگر چاہو تو یہیں ( مسجد میں ) بیٹھ جاؤ ۔ کہا : ہم نے کہا : نہیں ، ہم یہیں بیٹھیں گے ، آپ ہمیں احادیث سنائیں ۔ انھوں نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات ( قیام میں پورے ) قرآن کی قراءت کرتاتھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ ( ہرروز ) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات ( پورا ) قرآن پڑھتے ہو؟ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !کیوں نہیں ( یہ بات درست ہے ) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" ( آخر میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ "" فرمایا : "" قرآن کی قراءت ایک ماہ میں ( مکمل کیا ) کرو ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر دس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر سات دن میں پڑھ لیاکرو ۔ اس سے زیادہ نہ کرو تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" کہا : میں نے ( اپنے اوپر ) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" تم نہیں جانتے شاید تمھاری عمر طویل ہو ۔ "" کہا : میں اسی کی طرف آگیا جو مجھے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا ، جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں نے پسند کیا ( اور تمنا کی ) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کرلی ہوتی ۔
حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : "" ہر مہینے میں تین دن "" کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے : "" تمھارے لئے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس ( نیکیاں ) ہیں ۔ ، تو یہ سارے سال کے ( روزے ) ہیں ۔ "" اور ( اس ) حدیث میں کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیاتھا؟فرمایا : "" آدھا سال ۔ "" اورانھوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انھوں نے؛ "" تمھارے مہمانوں کا تم پر حق ہے "" کے الفاظ بیا ن نہیں کیے ، اس کی بجائے انھوں نے کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) "" اور تمھاری اولاد کا تم پرحق ہے ۔
شیبان نے یحییٰ سے ، انہوں نے بنو زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ۔ ( یحییٰ نے کہا : ) میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خود بھی یہ حدیث ابو سلمہ سے سنی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " قرآن مجید کی تلاوت مہینے میں ( مکمل ) کیاکرو ۔ " میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیس راتوں میں پڑھ لیا کرو ۔ " میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سات دنوں میں پڑھ لیا کرو ۔ " اور اس سے زیادہ ( قراءت ) مت کرنا ۔
اوزاعی نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے ( عمر ) بن حکم بن ثوبان سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عبداللہ!فلاں شخص کی طرح نہ ہوجانا وہ رات کوقیام کرتاتھا ، پھر اس نے رات کا قیام ترک کردیا ۔
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا وہ کہتے تھے کہ ابو عباس نے ان کوخبر دی کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں ، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتاہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہواور ( کوئی روزہ ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو؟تم ایسا نہ کرو کیونکہ ( تمھارے وقت میں سے ) تمھاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ۔ ( کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے ) اور تمھاری جان کا بھی حصہ ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے ۔ لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو ، نماز پڑو آرام بھی کرو ، اور ہردس دن میں سے ایک دن کاروزہ رکھو اور تمھیں ( باقی ) نو دنوں کا ( بھی ) اجر ملے گا ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " توپھر داودعلیہ السلام کے سے روزے رکھو ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !داودعلیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ایک دن افطار کرتے تھے اورجب ( دشمن سے ) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اس کی ضمانت کون دےگا ( کہ میری زندگی کا ہردن روزے سے شمار ہوگا؟ ) عطاء نے کہا : میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا ۔ تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ( وقفے کے بغیر ) ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔ " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔