امام مالک بن انس نے ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو ایک لشکر بھیجا اور اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا امیر بنایا ، ان کا زاد راہ ختم ہونے کو آیا توحضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کے زادراہ کو زادراہ والے ایک تھیلے میں جمع کیا اور ہم کو زندہ رہنے کی خوراک دیتے تھے ، یہاں تک کہ آخر میں روزانہ ایک کھجور ملتی تھی ۔
ولید بن کثیر نے کہا : میں نے وہب بن کیسان کو کہتے ہوئے سنا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل سمندر کی جانب ایک لشکر روانہ فرمایا ، میں بھی اس لشکر میں تھا ۔ جس طرح عمرو بن دینار اور ابو زبیر کی حدیث ہے ، البتہ وہب بن کیسان کی روایت میں ہے کہ لشکر نے اٹھارہ دن تک اس ( بڑی مچھلی ) کا گوشت کھایا ۔
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارض جہینہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو اس کا امیر بنایا ، اور ( اس کے بعد ) ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
امام مالک بن انس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے محمد بن علی ( ابن حنفیہ ) کے دو بیٹوں عبداللہ اورحسن سے ، ان دونوں نے اپنے والدسے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمادیا ۔
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت حرام کردیا ۔
حدیث 5008 — صحيح مسلم 34:37
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، وَسَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ .
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع اور سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانےسے منع فرمادیا ۔
ابن جریج اور امام مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کےدن پالتو گدھے کاگوشت کھانے سے منع فرمادیا ، حالانکہ لوگوں کو ( بھوک کے سبب ) اس کی ( سخت ) ضرورت تھی ۔
علی بن مسہر نے شیبانی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق دریافت کیا ، انھوں نے کہا : خیبر کے دن ہم بھوک کا شکار تھے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، ہمیں ان لوگوں ( یہودیوں ) کے گدھے شہر سے باہر نکلتے ہوئے مل گئے ۔ ہم نے ان کو ذبح کرلیا ، ہماری ہانڈیاں ( ان کے پکتے ہوئے گوشت سے ) ابل رہی تھیں کہ اچانک ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا : ہانڈیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت میں سے کوئی چیز نہ کھاؤ ۔ میں نے پوچھا : آپ نے ان کو کیسا حرام کیا تھا ( قطعی یاغیرقطعی؟ ) انھوں نے کہا : ( اس حوالے ) سے ہماری آپس میں بات چیت ہوتی تھی تو ہ ہم ( باہم یہی کہتے کہ آپ نے ان کو قطعی طور پر حرام کیا اور اس وجہ سے ( انھیں ہمیشہ کے لئے ) حرام کیاتھا کہ ان کے پانچ حصے نہیں کیے گئے تھے ( خمس الگ نہیں کیا گیا تھا)
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں سلیمانی شیبانی نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : جنگ خیبر کی راتوں میں ہم بھوک کاشکار ہوگئے ۔ جب خیبر کی جنگ کا دن آیا تو ہم پالتو گدھوں پر ٹوٹ پڑے جب ہماری ہانڈیاں ان کے گوشت ابلنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹ دو ، پالتو گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ۔ اس وقت بعض لوگوں ( صحابہ ) نے کہا کہ ان سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ ان کا خمس نہیں نکالا گیا اور بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قطعی طور پر منع کیا ہے ۔