حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولاَنِ أَصَبْنَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اكْفَئُوا الْقُدُورَ .
عدی بن ثابت نے کہا : میں نے حضرت براء اورحضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ ہم نے گدھے پکڑے ۔ ان کو پکانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ( ان ) ہانڈیوں کو الٹ دو ۔
حدیث 5013 — صحيح مسلم 34:42
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ قَالَ الْبَرَاءُ أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ .
ابو اسحاق نے کہا : حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کے دن ہم نے گدھے پکڑ لیے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو ۔
ثابت بن عبید نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں پالتو گدھوں کے گوشت ( کھانے ) سے منع کردیا گیا ۔
حدیث 5015 — صحيح مسلم 34:44
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُلْقِيَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ نِيئَةً وَنَضِيجَةً ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ .
جریر نے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پالتو گدھوں کا گوشت پھینک دیں ، کچا ہو یا پکا ہوا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہمیں ان کو کھانے کی اجازت نہیں دی ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : مجھے پتہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( پالتو گدھوں کا گوشت کھانے ) سے اس بناء پر منع فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کے بوجھ اٹھانے والے ہیں اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بوجھ اٹھانے کا ذریعہ ختم ہوجائے یا آپ نے ( ویسے ہی ) جنگ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کوحرام قرار دیا ۔ ( یعنی ایسی کسی خاص مناسبت کے بغیر ، جب دیکھا کہ لوگ اسے کھانا چاہتے ہیں تو اس کی حرمت کا اعلان کرادیا ۔)
حدیث 5018 — صحيح مسلم 34:47
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ الْيَوْمَ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُوقِدُونَ " قَالُوا عَلَى لَحْمٍ . قَالَ " عَلَى أَىِّ لَحْمٍ " . قَالُوا عَلَى لَحْمِ حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ " أَوْ ذَاكَ " .
حاتم بن اسماعیل نے یزید بن ابی عبید سے ، انھوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے دن نکلے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے خیبر فتح کردیا ۔ جس دن فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے بہت آگ جلائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " یہ کیسی آگ ( جل رہی ) ہے؟تم کس چیز پر ( کیا پکانے کے لیے ) آگ جلارہے ہو؟ " لوگوں نے کہا : گوشت پر ۔ آپ نے پوچھا؛ " کون سے گوشت پر؟ " لوگوں نے کہا : پالتو گدھوں کے گوشت پر ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہانڈیاں الٹ دو اور ان کو توڑ دو ۔ " ایک شخص نے عرض کی : ( آپ اجازت دیں تو ) ہم ہانڈیاں انڈیل دیں اور انھیں دھولیں؟ آپ نے فرمایا : " یا اس طرح کرلو ۔
حماد بن مسعدہ ، صفوان بن عیسیٰ اور ابو عاصم نبیل سب نے یزید بن ابی عبید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
حدیث 5020 — صحيح مسلم 34:49
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَطَبَخْنَا مِنْهَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلاَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْهَا فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ . فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِمَا فِيهَا .
ایوب نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر فتح کر لیا تو ہم نے بستی سے باہر نکلنے والے گدھے پکڑ لیے اور ان کا گو شت پکا نے لگے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلا ن کر دیا : سنو!اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ان ( گدھوں کا گوشت پکا نے ، کھانے ) سے منع کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ نجس ہے اور شیطان کا عمل ہے ۔ پھر ہانڈیوں کو گوشت سمیت الٹ دیا گیا جبکہ وہ اس کے ساتھ ابل رہی تھیں ۔
۔ ہشا م بن حسان نے محمد بن سیرین سے انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جس دن خیبر کی جنگ ہو ئی ایک آنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !گدھے کھا لیے گئے ، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گدھے ختم کر دیے گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تم کو پالتو گدھوں کا گو شت کھا نے سے منع کرتے ہیں ۔ کیونکہ وہ پلید ہیں یا ( فرما یا ) ناپاک ہیں ۔ کہا : پھر ہانڈیاں اس سب کچھ سمیت جو ان میں تھا الٹ دی گئیں ۔