قرآني·Qurani
اردو

الصيد والذبائح وما يؤكل

92 احادیث · #4972–5063

حدیث 5032 — صحيح مسلم 34:61
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ سَعْدٌ وَأُتُوا بِلَحْمِ ضَبٍّ فَنَادَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُوا فَإِنَّهُ حَلاَلٌ وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي ‏"‏ ‏.‏
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تھے ۔ ان میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ اتنے میں سانڈے کا گو شت لا یا گیا : اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے یہ آواز دی کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کھاؤ ، بلا شبہ حلال ہے لیکن یہ میرے کھانے میں ( شامل ) نہیں ۔
حدیث 5033 — صحيح مسلم 34:62
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَ قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَاعَدْتُ ابْنَ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةٍ وَنِصْفٍ فَلَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ هَذَا قَالَ كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ سَعْدٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ ‏.‏
محمدبن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : شعبی نے مجھ سے کہا : تم حسن ( بصری ) کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ ( مرسل ) حدیث دیکھی ( سنی اور لکھی ہو ئی دیکھی ، اور اس کے مرسل ہونے پر غور کیا؟ ) میں تو حضرت ابن معر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ڈیڑھ یا دوسال تک ( اٹھتا ) بیٹھتا رہا لیکن میں نے انھیں اس حدیث کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی اور حدیث روایت کرتے ہو ئے نہیں سنا ۔ انھوں نے ( اس طرح ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے بہت سے لو گ ( مو جودتھے ) ان میں سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے ۔ معاذ کی حدیث کے مانند ۔
حدیث 5034 — صحيح مسلم 34:63
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ ‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ ‏.‏
امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، اتنے میں ایک بھنا ہوا سانڈا لا یا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کا قصد کیا ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر جو عورتیں تھیں ۔ ان میں سے کسی نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز کھانے لگے ہیں وہ آپ کو بتا دو ، ( یہ سنتے ہی ) آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حرا م ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ ( جا نور ) میری قوم کی سر زمین میں نہیں ہو تا ، اس لیے میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پاتا ہوں ۔ "" حضرت خالد ( بن ولید ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔
حدیث 5035 — صحيح مسلم 34:64
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدَّمُ إِلَيْهِ طَعَامٌ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ ‏.‏ قُلْنَ هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِي ‏.‏
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنھیں سیف اللہ کہا جا تا ہے ، انھیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گئے وہ ان ( حضرت خالد ) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ تھیں ۔ ان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھنا ہوا سانڈا دیکھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ۔ انھوں نے وہ سانڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، ایسا کم ہو تا کہ آپ کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا تے یہاں تک کہ آپ کو اس کے بارے میں بتا یا جا تا اور آپ کے سامنے اس کا نام لیا جا تا ۔ ( اس روز ) آپ نے سانڈے کی طرف ہاتھ بڑھانا چا ہا تو وہاں مو جود خواتین میں سے ایک خاتون نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ آپ لوگوں نے انھیں کیا پیش کیا ہے ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سانڈا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہا تھ اوپر کر لیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہو تا ، میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پا تا ہوں ۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے منع نہیں فر ما یا ۔
حدیث 5036 — صحيح مسلم 34:65
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي، أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهْىَ خَالَتُهُ فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَحْمُ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَحَدَّثَهُ ابْنُ الأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا ‏.‏
صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے ان سے بیان کیا کہ انھیں خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ حضرت میمونہ بنت حا رث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہا ں گئے ، وہ ان کی خالہ تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈے کا گو شت پیش کیا گیا ، اسے ام حفید بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ، یہ نبو جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کو ئی چیز تناول نہ فر ما تے تھے ۔ جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے ۔ پھر انھوں نے یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث کے آخر میں اضا فہ کیا اور انھیں ( یزید ) ابن اصم نے ( بھی ) حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( یہی ) حدیث سنائی ، انھوں نے ان ( میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے ہاں پرورش پا ئی ۔ ( ان کی والدہ برزہ بنت حارث ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔)
حدیث 5037 — صحيح مسلم 34:66
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي، أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِيدَ بْنَ الأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ ‏.‏
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبھنے ہو ئے سانڈے پیش کیے گئے جبکہ ہم سب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں مو جو دتھے ان سب کی حدیث کے مانند انھوں نے ( معمر ) نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کردہ یزید بن اصم کی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 5038 — صحيح مسلم 34:67
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ، يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِلَحْمِ ضَبٍّ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
ابن منکدر سے روایت ہے کہ ابو امامہ بن سہل نے انھیں بتا یا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے کا گوشت لا یا گیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف فر ما تے اور ان کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مو جود تھے پھر زہری کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
حدیث 5039 — صحيح مسلم 34:68
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالأَقِطِ وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری خالہ ام حفید رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی پنیر اور سانڈے ہدیہ کیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تناول فر ما یا اور سانڈے کو کراہت محسوس کرتے ہو ئے چھوڑدیا ۔ یہ ( سانڈ ا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھا یا گیا ۔ اگر یہ حرام ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھا یا جا تا ۔
حدیث 5040 — صحيح مسلم 34:69
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ، الأَصَمِّ قَالَ دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِينَةِ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلاَثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَآكِلٌ وَتَارِكٌ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أَنْهَى عَنْهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِئْسَ مَا قُلْتُمْ مَا بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مُحِلاًّ وَمُحَرِّمًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ أُخْرَى إِذْ قُرِّبَ إِلَيْهِمْ خِوَانٌ عَلَيْهِ لَحْمٌ فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْكُلَ قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ ‏.‏ فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ ‏"‏ هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ كُلُوا ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ مِنْهُ الْفَضْلُ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْمَرْأَةُ ‏.‏ وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ لاَ آكُلُ مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ شَىْءٌ يَأْكُلُ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
شیبانی نے یزید بن اصم سے روایت کی ، کہا : مدینہ منورہ میں ایک دلھا نے ہماری دعوت کی اور ہمیں تیرہ عدد ( بھنے ہو ئے ) سانڈے پیش کیے ۔ کو ئی ( اس کو ) کھا نے والا تھا کو ئی نہ کھا نے والا ۔ دوسرے دن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور میں نے ان کو یہ بات بتا ئی ۔ ان کے اردگرد مو جود لوگوں نے بہت سی باتیں کیں حتی کہ کسی نے یہ بھی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : " میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ روکتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ " اس پر حضرت ابن عباس نے کہا : تم لو گوں نے جو کہا ناروا ہے ۔ اللہ تعا لیٰ نے جو نبی بھیجا وہ حلال کرنے والا اور حرام کرنے والا تھا ( حلت و حرمت کے حکم کو واضح کرنے والا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم سمجھ رہے ہو ۔ غیر واضح بات نہیں کرتے تھے ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے اور آپ کے قریب فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ایک اور خاتون بھی مو جود تھی تو ان کے سامنے دسترخوان لا یا گیا جس پر گوشت تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : یہ سانڈے کا گو شت ہے آپ نے ہاتھ روک لیا اور فر ما یا : " یہ ایسا گو شت ہے جو میں نے کبھی نہیں کھا یا ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فر ما یا : " کھاؤ ۔ سو اس گوشت میں سے فضل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس خاتون نے کھا یا ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں تو صرف اس کھا نے میں سے کھا ؤں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھا ئیں گے ۔
حدیث 5041 — صحيح مسلم 34:70
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ ‏"‏ ‏.‏
ابو زبیر نے حضرت جا بت بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈ الا یا گیا ۔ آپ نے اسے کھا نے سے انکا ر کیا اور فرما یا : " میں نہیں جا نتا کہ شاید یہ ( سانڈا بھی ) ان قوموں میں سے ہو جن میں مسخ ہوا تھا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔