ابو زبیر نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سانڈے کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے کہا : اسے مت کھاؤ ۔ اور اس سے اظہار کراہت کیا اور بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں کیا ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے ( بھی ) کو نفع پہنچاتا ہے ، یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید کہا : ) اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھا لیتا ۔
داود نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سانڈوں سے بھری ہوئی سرزمین میں رہتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟یا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ مجھے بتایاگیا کہ بنو اسرائیل کی ایک امت ( بڑی جماعت ) مسخ کر ( کے رینگنے والے جانوروں میں تبدیل کر ) دی گئی تھی ۔ "" ( اس کے بعد ) آپ نے نہ اجازت دی اور نہ منع فرمایا ۔ حضرت ابوسعید ( خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : پھر بعد کا عہد آیا توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ عزوجل اس کے ذریعے سے ایک سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے ۔ یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ، اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نامرغوب محسوس کیا تھا ۔ ( اسے حرام قرار نہیں دیا تھا ۔)
ابوعقیل دورقی نے کہا : ہمیں ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں سانڈوں سے بھرے ہوئے ایک نشیبی علاقے میں رہتا ہوں اور میرے گھر والوں کی عام غذا یہی ہے ۔ آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا ، ہم نے اس سے کہا : دوبارہ عرض کرو ، اس نے دوبارہ عرض کی ، مگر آپ نے تین بار ( دہرانے پر بھی ) کوئی جواب نہ دیا ، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا : " اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی گروہ پر لعنت کی یا غضب فرمایا اور ان کو زمین پر چلنے والے جانوروں کی شکل میں مسخ کردیا ۔ مجھے علم نہیں ، شاید یہ انھی جانوروں میں سے ہو ، ( جن کی شکل میں ان لوگوں کو مسخ کیا گیا تھا ) اس لیے نہ اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں ۔
حدیث 5045 — صحيح مسلم 34:74
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي أَوْفَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ .
ابو عوانہ نے ابو یعفور سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شامل ہوئے ( جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے رہے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ابن عینیہ سے ، انھوں نے ابو یعفور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی ۔ ابو بکر نے اپنی روایت میں "" سات جنگیں "" کہا ، اسحاق نے "" چھ "" اور ابن ابی عمر نے "" چھ یا سات "" کہا ۔
شعبہ نے ابو یعفور سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی اور انھوں نے " سات غزوات " کہا ۔
حدیث 5048 — صحيح مسلم 34:77
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَرْنَا فَاسْتَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهِ فَلَغَبُوا . قَالَ فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَبِلَهُ .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم جا رہے تھے کہ ( مقام ) مرالظہران میں ایک خرگوش دیکھا تو اس کا پیچھا کیا ۔ پہلے لوگ اس پر دوڑے لیکن تھک گئے پھر میں دوڑا تو میں نے پکڑ لیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا ۔ انہوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا پٹھ اور دونوں رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ۔ میں لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لے لیا ۔
یحییٰ بن یحییٰ اور خالد بن حارث دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، یحییٰ کی حدیث میں : " اس کا پچھلا حصہ یا اس کی دونوں رانوں " کے الفاظ ہیں ۔
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں کہمس نے ابن بریدہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکر سے ( کسی چیز کو ) نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو کہا : کنکر سے نشانہ مت بناؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے ۔ یا کہا ۔ کنکر مارنے سے منع فرماتے تھے ، کیونکہ اس کے ذریعے سے نہ کوئی شکار مارا جاسکتا ہے ۔ نہ دشمن کو ( پیچھے ) دھکیلا جاسکتاہےیہ ( صرف ) دانت توڑتاہے یا آنکھ پھوڑتا ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے اس شخص کو پھر کنکر مارتے دیکھا تو اس سے کہا : میں تمھیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے یا ( کہا : ) آپ اس سے منع فرماتے تھے ، پھر میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم کنکر مار رہے ہو!میں اتنا اتنا ( عرصہ ) تم سے ایک جملہ تک نہ کہوں گا ( بات تک نہ کروں گا)