محمد بن جعفر اورعبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے انھوں نے عقبہ بن صہیان سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ۔ ابن جعفر نے اپنی روایت میں یہ بیا ن کیا کہ آپ نے فرمایا؛ " یہ نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، نہ شکار مارتا ہے ، بس دانت توڑتا ہے اورآنکھ پھوڑتاہے ۔ " اور ابن مہدی نے ( اپنی روایت میں ) کہا؛ " یہ ( کنکر ، روڑا ) دشمن کو ہلاک نہیں کرتا " ( انھو ں نے ) آنکھ پھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 5053 — صحيح مسلم 34:82
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ قَرِيبًا، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ - قَالَ - فَنَهَاهُ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ " إِنَّهَا لاَ تَصِيدُ صَيْدًا وَلاَ تَنْكَأُ عَدُوًّا وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ " . قَالَ فَعَادَ . فَقَالَ أُحَدِّثُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهُ ثُمَّ تَخْذِفُ لاَ أُكَلِّمُكَ أَبَدًا .
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی قریبی شخص نے کنکر سے نشانہ لگایا ۔ انھوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر کے ساتھ نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ نہ کسی جانور کو شکارکرتاہے ، نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، البتہ یہ دانت توڑتاہے ۔ اور آنکھ پھوڑتا ہے ۔ " ( سعیدنے ) کہا : اس شخص نے دوبارہ یہی کیا تو حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں نے تم کو حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر کنکر ماررہے ہو!میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔
اسماعیل بن علیہ نے خالد حذا ء سے ، انھوں نے ابوقلابہ سے ، انھوں نے ابو اشعث سے اور انھوں نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : دو باتیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سب سے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس لئے جب تم ( قصاص یاحد میں کسی کو ) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو ، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو ، تم میں سے ایک شخص ( جو ذبح کرنا چاہتا ہے ) وہ اپنی ( چھری کی ) دھار کو تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو اذیت سے بچائے ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ہشام بن زید بن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے ہاں آیا ، وہاں کچھ لوگ تھے ، انھوں نے ایک مرغی کو باندھ کر حدف بنایا ہوا تھا ( اور ) اس پر تیر اندازی کی مشق کررہے تھے ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر مارا جائے ۔
یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن مہدی ، خالد بن حارث اورابو اسامہ ، سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی ۔
حدیث 5059 — صحيح مسلم 34:88
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
عبیداللہ کے والد معاذ ( عنبری ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی ( بن ثابت انصاری ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی روح والی چیز کو ( نشانہ بازی کا ) ہد ف مت بناؤ ۔
ابو عوانہ نے ابو بشر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چند لوگوں کے قریب سے گزرا سے گزرا ہوا جو ایک مرغی کو سامنے باندھ کر اس پر تیر اندازی کررہے تھے ، جب انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو اسے چھوڑ کرمنتشر ہوگئے ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ کام کس کا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ایسا کام کرے ۔