قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

145 احادیث · #534–678

حدیث 624 — صحيح مسلم 2:91
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ فَقَالَ ‏ "‏ ادْنُهْ ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏
اعمش نے شقیق سےاور انہوں نے حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا ، آپ ایک خاندان کو کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو میں دور ہٹ گیا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ قریب آ جاؤ ۔ ‘ ‘ میں قریب ہو کر ( دوسری طرف رخ کر کے ) آپ کےپیچھے کھڑا ہو گیا ( فراغت کے بعد ) آپ نےوضو کیا اورموزوں پر مسح کیا ۔ ( قریب کھڑا کرنے کامقصد اس کی)
حدیث 625 — صحيح مسلم 2:92
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ أَبُو مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ وَيَبُولُ فِي قَارُورَةٍ وَيَقُولُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ ‏.‏ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لاَ يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَتَمَاشَى فَأَتَى سُبَاطَةً خَلْفَ حَائِطٍ فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَبَالَ فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ فَأَشَارَ إِلَىَّ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ ‏.‏
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے روایت کی ، انہوں نےکہاکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ پیشاب کے بارے میں سختی کرتے تھے اور بوتل میں پیشاب کرتے تھے اور کہتے تھے : بنی اسرائیل کے کسی آدمی کی جلد پر پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کے اتنےحصے کو قینچی سے کاٹ ڈالتا تھا ۔ تو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا صاحب ( استاد ) اس قدر سختی نہ کرے ، میں اور رسول اللہ ﷺساتھ ساتھ چل رہے تھے تو آپ دیوار کے پیچھے کوڑا پھینکنے کی جگہ پرآئے ، آپ اس طرح کھڑےہو گئے جس طرح تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے ، پھر آپ پیشاب کرنے لگے تو میں آپ سے دور ہو گیا ، آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آ گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا حتی کہ آپ فارغ ہو گئے ۔
حدیث 626 — صحيح مسلم 2:93
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ مَكَانَ حِينَ حَتَّى ‏.‏
مغیرہ ‌بن ‌شعبہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌كہ ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌اپنے ‌كام ‌كو ‌نكلے ‌ان ‌كی ‌پیچھے ‌مغیرہ ‌پانی ‌كا ‌ڈول ‌لے ‌كر ‌گۓ ‌اور ‌آپ ‌جب ‌حاجت ‌سے ‌فارغ ‌ہوۓ ‌تو ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ( ‌یعنی ‌وضو ‌كے ‌وقت ‌ ) پھر ‌وضو ‌كیا ‌اور ‌مسح ‌كیا ‌موزوں ‌پر ‌. ‌ابن ‌رمح ‌كی ‌روایت ‌میں ‌یوں ‌ہے ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ‌یہاں ‌تك ‌كہ ‌آپ ‌فارغ ‌ہوےء ‌حاجت ‌سے ( ‌یعنی ‌وضو ‌سے ‌)
حدیث 627 — صحيح مسلم 2:94
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏
یحییٰ بن سعید کےایک دوسرے شاگرد عبدالوہاب نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور کہا : آپﷺنے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، اپنے سر کامسح کیا ، پھر موزوں پر مسح کیا ۔
حدیث 628 — صحيح مسلم 2:95
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا مَعَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ نَزَلَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ كَانَتْ مَعِي فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏
اسود بن ھلال نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی ‘ انھو ں نے کہا ایک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جب آپﷺ ( سواری سے ) اترے اورقضائے حاجت کی آپﷺ واپس آئے تو میں نے اس برتن سے جو میر ے پاس تھا ’’پانی ڈالا ‘ ‘ آپﷺ نے وضو کیا اور آپنے موزوں پر مسح کیا ۔
حدیث 629 — صحيح مسلم 2:96
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَقَالَ ‏ "‏ يَا مُغِيرَةُ خُذِ الإِدَاوَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذْتُهَا ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا فَضَاقَتْ عَلَيْهِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى ‏.‏
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( بن صبیح ہمدانی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، انہوں نےکہا : میں ایک سفر میں نبی اکرمﷺکے ساتھ تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اے مغیرہ !پانی کا برتن لے لو ۔ ‘ ‘ میں نے برتن لے لیا ، پھر آپ کےساتھ نکلا ۔ رسول اللہ ﷺ چل پڑے یہاں تک کہ مجھ سے اوجھل ہو گئے ، قضائے حاجت کی ، پھر آپ واپس آئے ، آپ نے تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہنا ہوا تھا ، آپ اس کی آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرنے لگے ( مگر ) وہ ( جبہ ) تنگ ( ثابت ) ہوا ۔ آپ نے اپنا ہاتھ نیچے سے نکالا ، پھر میں نے پانی ڈالا تو آپ نے نماز جیسا وضو فرمایا ، پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا ، پھر ہمیں نماز پڑھی ۔
حدیث 630 — صحيح مسلم 2:97
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عِيسَى، - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالإِدَاوَةِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِنَا ‏.‏
اعمش سے ( ابو معاویہ کےبجائے ) عیسیٰ بن یونس ) نےباقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے ، جب واپس آئے تو میں پانی کا برتن لے کر آپ کو ملا ، میں نے پانی ڈالا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر چہرہ دھویا ، پھر ہاتھ دھونے لگے تو جبہ تنگ نکلا ، آپ نے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیے ، ان کو دھویا ، سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پرمسح کیا ، پھر ہمیں نماز پڑھائی ۔
حدیث 631 — صحيح مسلم 2:98
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ فَقَالَ لِي ‏"‏ أَمَعَكَ مَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ أَهْوَيْتُ لأَنْزِعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ ‏"‏ دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا ‏.‏
زکریا نےعامر ( شعبی ) سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد حضرت مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث بیان کی ، کہا : ایک رات میں سفر کےدوران میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، آپ نے پوچھا : ’’کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ ‘ ‘ میں نےکہا : جی ہاں ۔ تو آپ اپنی سواری سے اترے ، پھر پیدل چل دیےیہاں تک کہ رات کی سیاہی میں اوجھل ہو گئے ، پھر ( واپس ) آئے تو میں نے برتن سے آپ ( کے ہاتھوں ) پر پانی ڈالا ، آپ نے اپنا چہرہ دھویا ( اس وقت ) آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے ، آپ اس میں سے اپنے ہاتھ نہ نکال سکے حتی کہ دونوں ہاتھوں کو جبے کے نیچے سے نکالا اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا ، پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے چاہے تو آپ نے فرمایا : ’’ان کو چھوڑو ، میں نے باوضو ہو کر دونوں پاؤں ان میں ڈالے تھے ‘ ‘ اور ان پر مسح فرمایا ۔
حدیث 632 — صحيح مسلم 2:99
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ وَضَّأَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
عامر شعبی کے ایک دوسرے شاگرد عمر بن ابی زائدہ نےعروہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کی کہ انہوں ( مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرایا ، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔ مغیرہ نے آپﷺ سے ( اس بارے میں ) بات کی تو آپ نے فرمایا : ’’میں نے انہیں باوضو حالت میں ( موزوں میں ) داخل کیا تھا ۔ ‘ ‘
حدیث 633 — صحيح مسلم 2:100
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ قَالَ ‏ "‏ أَمَعَكَ مَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ بِمَطْهَرَةٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلاَةِ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقُمْتُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا ‏.‏
حمید الطویل نے کہا : ہمیں بکر بن عبد اللہ مزنی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ رسول اللہ ﷺ ( قافلے سے ) پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا ، جب آپ نے قضائے حاجت کر لی تو فرمایا : ’’کیاتمہارے ساتھ پانی ہے ؟ ‘ ‘ میں آپ کے پاس وضو کرنے کا برتن لایا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا ، پھر دونوں بازو کھولنے لگے تو جبے کی آستین تنگ پڑ گئی ، آپ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا اور جبہ کندھوں پر ڈال لیا ، اپنے دونوں بازودھوئے اور اپنے سر کے اگلے حصے ، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا ، پھر آپ سوار ہوئے اور میں ( بھی ) سوار ہوا ، ہم لوگوں کے پاس پہنچے تووہ نماز کے لیے کھڑے تھے ، عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ان کو نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے ۔ جب انہیں نبی اکرمﷺ ( کی تشریف آوری ) کا احساس ہوا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا ( کہ نماز پوری کرو ) تو انہوں نے نماز پڑھا دی ، جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی اکرمﷺ کھڑے ہو گئے ، میں بھی کھڑا ہو گیا اور ہم نے وہ رکعت پڑھی جوہم سے پہلے ہو چکی تھی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔