ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہو ں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے باپ ( ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی بیت الخلا میں داخل ہو تو اپنا عضو خاص اپنے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے
ایوب نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ، انہو ننے ( اپنے والد ) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے منع فرمایاکہ کوئی برتن میں سانس لے یا اپنی شرم گاہ کو اپنا دائیاں ہاتھ لگائے یا اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے ۔
حدیث 616 — صحيح مسلم 2:83
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ إِذَا تَطَهَّرَ وَفِي تَرَجُّلِهِ إِذَا تَرَجَّلَ وَفِي انْتِعَالِهِ إِذَا انْتَعَلَ .
ابو احوص نے اشعث سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب وضو فرماتے تو وضو میں ، جب آپ کنگھی کرتے تو کنگھی کرنے میں اور جب آپ جوتا پہنتے تو جوتا پہننے میں دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند فرماتے تھے ۔
حدیث 617 — صحيح مسلم 2:84
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي نَعْلَيْهِ وَتَرَجُّلِهِ وَطُهُورِهِ .
اشعث کے ایک دوسرے شاگرد شعبہ نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ اپنے تمام معاملات میں ، اپنے جوتے پہننے ، اپنی کنگھی کرنے اور اپنے وضو کرنے میں دائیں طرف سے ابتدا کرنا پسند فرماتے تھے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تم دو سخت لعنت والے کاموں سے بچو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !سخت لعنت والے وہ دو کام کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’جو انسان لوگوں کی گزرگاہ میں یا ان کی سایہ دار جگہ میں ( جہاں وہ آرام کرتے ہیں ) قضائے حاجت کرتا ہے ( لوگ ان دونوں کاموں پر اس کو سخت برا بھلا کہتے ہیں ۔ ) ‘ ‘
حدیث 619 — صحيح مسلم 2:86
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ حَائِطًا وَتَبِعَهُ غُلاَمٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ هُوَ أَصْغَرُنَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجَتَهُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ .
خالد ( ھذاء ) نے عطاء بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک احاطے میں داخل ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا جس کے پاس وضو کا برتن تھا ، وہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا ، اس نے اسے ایک بیری کےدرخت کے پاس رکھ دیا ، رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کر کے ہمارے پاس تشریف لائے ۔
دو مختلف سندوں سے شعبہ سے روایت ہے ، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے خالی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاتے ( اور دور تک آپ کا ساتھ دیتے ) اور آپ پانی سے استنجا کرتے ۔
(شعبہ کے بجائے ) روح بن قاسم کی سند سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کےلیے کھلی جگہ تشریف لے جاتے تو میں آپ کے لیے پانی لے جاتا ، آپ اس سے استنجا کرتے
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہون نے ہمام سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت جریر ( بن عبد اللہ البجلی ) رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا تو ان سے کہاگیا : آپ یہ کرتے ہیں ؟ انہوں نےجواب دیا : ہاں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔ اعمش نے کہا : ابراہیم نے بتایا کہ لوگوں ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ کےشاگردوں ) کو یہ حدیث بہت پسند تھی کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔ ( سورہ مائدہ میں آیت وضو نازل ہوئی تھی ۔ اور آپ کا یہ عمل اس کے بعد کا تھا جو آیت سے منسوخ نہیں ہوا تھا)
(ابو معاویہ کے بجائے ) اعمش کے دیگر متعدد شاگردوں عیسیٰ بن یونس ، سفیان اور ابن مسہر نے بھی ابو معاویہ سے حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ عیسیٰ اور سفیان کی حدیث میں ہے ، ( ابراہیم نخعی نے ) کہا : عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے شاگردوں کو یہ حدیث بہت پسندتھی کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ سورۂ مائدہ کے اترنے کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔