قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

145 احادیث · #534–678

حدیث 604 — صحيح مسلم 2:71
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زَكَرِيَّاءُ قَالَ مُصْعَبٌ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ ‏.‏ زَادَ قُتَيْبَةُ قَالَ وَكِيعٌ انْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الاِسْتِنْجَاءَ ‏.‏
قتیبہ بن سعید ، ابو بکر بن ابی شیبہ او رزہیر بن حرب نے کہا : ہمیں وکیع نے زکریا بن ابی زائدہ سےحدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے ، انہوں نے طلق بن حبیب سے ، انہوں نے عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دس چیزیں ( خصائل ) فطرت میں سے ہیں : مونچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسوک کرنا ، ناک میں پانی کھینچنا ، ناخن تراشنا ، انگلیوں کے جوڑوں کودھونا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا ، پانی سے استنجا کرنا ۔ ‘ ‘ زکریا نے کہا : مصعب نے بتایا : دسویں چیز میں بھول گیا ہوں لیکن وہ کلی کرنا ہو سکتا ہے ۔ قتیبہ نے یہ اضافہ کیا کہ وکیع نے کہا : انتقاض الماء کے معنی استنجا کرنا ہیں ۔
حدیث 605 — صحيح مسلم 2:72
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُوهُ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ ‏.‏
ابو کریب نے بیان کیا ، ہمیں ابو زائدہ کے بیٹے نے اپنے والد ( ابو زائدہ ) سے خبر دی ، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ، البتہ ابن ابی زائدہ نےکہا : ان کے والد نے کہا : میں دسویں بات بھول گیا ہوں
حدیث 606 — صحيح مسلم 2:73
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قِيلَ لَهُ قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم كُلَّ شَىْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَجَلْ لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ ‏.‏
اعمش کے دوشاگرد وکیع اور ابو معاویہ كی سندوں سے حضرت سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ( اور یہ الفاظ ابو معاویہ کےشاگردیحییٰ بن یحییٰ کے ہیں ) کہ ان ( سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے ( طنزاً ) کہا گیا : تمہارے نبی نے تم لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت ( کےطریقے ) کی بھی ۔ کہا : انہوں نے جواب دیا : ہاں ( ہمیں سب کچھ سکھایا ہے ، ) آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے ہم پاخانے یا پیشاب کے وقت قبلے کی طرف رخ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں یاہم کوپر یا ہڈی سے استنجا کریں ۔
حدیث 607 — صحيح مسلم 2:74
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قَالَ لَنَا الْمُشْرِكُونَ إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ ‏.‏ فَقَالَ أَجَلْ إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ ‏"‏ ‏.‏
اعمش کے ایک اور شاگرد سفیان نے ان سے اور منصور سے ، ان دونوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن یزید سے ، انہوں نے حضرت سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مشرکوں نے ہم سے کہا : میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا ساتھی ( ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتا ہے ۔ تو سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہاں ، انہوں ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلے کی طرف منہ کرے اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی ( سے استنجاکرنے ) سے روکا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے : ’’تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے ۔ ‘ ‘
حدیث 608 — صحيح مسلم 2:75
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بِبَعْرٍ ‏.‏
ابوزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہڈی یالید کے ذریعے سےاستنجا کرنے سے منع فرمایا ۔
حدیث 609 — صحيح مسلم 2:76
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ سَمِعْتَ الزُّهْرِيَّ، يَذْكُرُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلاَ تَسْتَدْبِرُوهَا بِبَوْلٍ وَلاَ غَائِطٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
زہیر بن حرب اور ابن نمیر دونوں نے کہا ، ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی ( الفاظ انہی کے ہیں ) کہا : میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا : کیا آپ نے زہری سے سنا کہ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابوایوب سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم قضائے حاجت کی جگہ پر آؤ تو نہ قبلے کی طرف منہ کرو اور نہ اس کی طرف پشت کرو ، پیشاب کرنا ہو یا پاخانہ ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو ۔ ‘ ‘ ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہم شام گئے تو ہم نے بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے پائے ، ہم اس سے رخ بدلتے اور اللہ سے معافی طلب کرتے تھے ؟ ( سفیان نے ) کہا : ہاں ۔
حدیث 610 — صحيح مسلم 2:77
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ عَلَى حَاجَتِهِ فَلاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ يَسْتَدْبِرْهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ پر بیٹھے تو نہ قبلے کی طرف منہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پشت کرے
حدیث 611 — صحيح مسلم 2:78
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلاَتِي انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ شِقِّي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ نَاسٌ إِذَا قَعَدْتَ لِلْحَاجَةِ تَكُونُ لَكَ فَلاَ تَقْعُدْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَلاَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - وَلَقَدْ رَقِيتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلاً بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ‏.‏
محمد بن یحییٰ بن حبان اپنے چچا واسع بن حبان سے اور وہ حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نےکہا : میں اپنی بہن ( ام المومنین ) حفصہ ؓ کے گھر ( کی چھت ) پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ رسو ل اللہ ﷺ اپنی قضائے حاجت کےلیے بیٹھے تھے ، شام کی طرف رخ ، قبلے کی جانب پشت کیے ہوئے ۔
حدیث 612 — صحيح مسلم 2:79
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَقِيتُ عَلَى بَيْتِ أُخْتِي حَفْصَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا لِحَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ ‏.‏
یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ سے ، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں مسجد میں نماز پڑھ رہاتھا اور عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اپنی پست قبلے کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی تو اپنا پہلو بدل کر ان کی طرف منہ کر لیا تو عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : کچھ لوگ کہتے ہیں : جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو ، جو بھی ہو ، قبلے کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو ۔ عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسو ل اللہ ﷺ کودیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے ۔
حدیث 613 — صحيح مسلم 2:80
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَهُوَ يَبُولُ وَلاَ يَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلاَءِ بِيَمِينِهِ وَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ ‏"‏ ‏.‏
ہمام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، ابو قتادہ نےکہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی پیشاب کرتے وقت اپنا عضو خاص دائیں ہاتھ میں نہ پکڑے ، نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ ( پانی پیتے وقت ) برتن میں سانس لے
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔