وکیع اور ابو معاویہ کی سندوں سے اعمش سے روایت ہے ، انہوں نے ابو رزین اور ابو صالح سے اور ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت بیان کی ۔ ابو معاویہ کی روایت میں ہے : ( ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ( جبکہ ) وکیع کی روایت میں ( ہے ) کہا : ( اور ) اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ روایت ) کی طرح ہے ۔
جابر ( بن عبد اللہ ) رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے ان ( جابر رضی اللہ عنہ ) کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو ( وضو کاپانی نکالنے کے لیے ) اپنے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے تین بار اپنے ہاتھ پر پانی ڈالے ( اور ہاتھ دھوئے ) کیونکہ وہ نہیں جانتا اس کے ہاتھ نے کس ( حالت ) میں رات گزاری ۔ ‘ ‘
اعرج ، محمد ، علاء کے والد عبد الرحمان بن یعقوب ، ہمام بن منبہ اور ثابت بن عیاض ( سب ) نےکہا : ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےحدیث بیان کی ، سبھی نے اپنی ا پنی روایت میں ( ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ) نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کی ۔ سبھی کہتے ہیں : ’’ حتی کہ اس ( ہاتھ ) کو دھولے ‘ ‘ اور ان میں سے کسی نے بھی ’’تین بار ‘ ‘ کا لفظ نہیں بولا ، سوائے ان روایات کے جو ہم نے اوپر جابر رضی اللہ عنہ ، ابن مسیب ، ابو سلمہ ، عبد اللہ بن شقیق ، ابوصالح اور ابو زرین سے بیان کی ہیں کیونکہ ان سب کی احادیث میں ’’تین بار ‘ ‘ کا ذکر ہے ۔
علی بن مسہر نے حدیث بیان کی کہ ہمیں اعمش نے ابو زرین اور ابو صالح سے خبر دی ، ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا زبان کے ساتھ پی لے اور وہ اس چیز کو بہا دے ، پھربرتن کو سات دفعہ دھولے ۔ ‘ ‘
اسماعیل بن زکریا نے اعمش کےحوالے سے ، باقی ماندہ مذکورہ سند کے ساتھ ، یہی روایت بیان کی لیکن ’’اسے بہادے ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
حدیث 650 — صحيح مسلم 2:116
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں پی لے تو وہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘
محمد بن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تمہارے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی طہارت ( پاک ہونا ) یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے ، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ دھوئے ۔ ‘ ‘
حدیث 652 — صحيح مسلم 2:118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسو ل اللہ ﷺ سےسنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘
عبید اللہ بن معاذ نے ہمیں اپنےوالد سے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے ، انہیں شعبہ نے ابو التیاح سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی ۔ اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ سے سنا ، ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ، پھر فرمایا : ’’ان کا کتوں سے کیا واسطہ ہے ؟ ‘ ‘ پھر ( لوگوں سے ضروریات کی تفصیل سن کر ) شکار اور بکریوں ( کی حفاظت کرنے ) والے کتے ( رکھنے ) کی اجازت دی اور فرمایا : ’’جب کتا برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اورآٹھویں بار ( زیادہ روایات میں ہے ایک بار ) مٹی سے صاف کرو