(خالد ) بن حارث ، یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر ، سب نے شعبہ سے اسی سند سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے بکریوں کی حفاظت ، شکار اور کھیتی کی رکھوالی کے لیے کتا رکھنے کی ا جازت دی ۔ یحییٰ کے سوا زرع ( کھیتی ) کا ذکر کسی روایت میں نہیں ۔
حدیث 655 — صحيح مسلم 2:121
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی کہ آپﷺ نےکھڑے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایاہے ۔
حدیث 656 — صحيح مسلم 2:122
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ " .
ابن سیرین نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’تم سے کوئی ہرگز ساکن پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر اس میں سے نہائے ۔ ‘ ‘
حدیث 657 — صحيح مسلم 2:123
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْهُ " .
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد ﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے کچھ احادیث سنائیں ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کھڑے ہوئے پانی میں ، جو چل نہ رہا ہو ، پیشاب نہ کرو کہ پھر تم اس میں نہاؤ ۔ ‘ ‘
بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ ہشام بن زہرہ کے آزادکردہ غلام ابو سائب نے انہیں حدیث سنائی کہ انہو ں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ۔ ‘ ‘ ( ابو سائب نے ) کہا : اے ابو ہریرہ ! وہ کیا کرے ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ ( اس میں سے ) پانی لے لے ۔
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ ایک بدوی نے مسجد میں پیشاب ( کرنا شروع ) کر دیا ، بعض لوگ اٹھ کر اس کی طرف لپکے تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے چھوڑ دو ، اسے ( پیشاب کے ) درمیان میں مت روکو ۔ ‘ ‘ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا ۔ ( پانی کے ساتھ وہ پیشاب زمین کےاندر چلا گیا ۔)
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کر رہے تھے کہ ایک بدوی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور وہاں پیشاب کرنے لگا ، لوگ اس پر چلائے تو رسول اللہ ﷺ فرمایا : ’’اسے چھوڑ دو ۔ ‘ ‘ جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے ﷺ ( پانی کا ) ایک بڑا ڈول لانے کا حکم دیا اور وہ ڈول اس ( پیشاب ) پر بہا دیا گیا ۔
حدیث 661 — صحيح مسلم 2:127
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، - وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاقَ - قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَهْ مَهْ . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ " . فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ . ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لاَ تَصْلُحُ لِشَىْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَلاَ الْقَذَرِ إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّلاَةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ " . أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَأَمَرَ رَجُلاً مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ .
اسحاق بن ابی طلحہ نے روایت کی ، کہا : مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نےبیان کیا ، وہ اسحاق کےچچا تھے ، کہا : ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران میں ایک بدوی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں نےکہا : کیا کر رہے ہو ؟ کیاکر رہے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( درمیان میں ) مت روکو ، اسے چھوڑ دو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نےاسے چھوڑ دیا حتی کہ اس نے پیشاب کر لیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایااور فرمایا : ’’یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں ، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں ۔ ‘ ‘ یا جو ( بھی ) الفاظ رسول اللہ ﷺ نے فرمائے ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک کو حکم دیا ، وہ پانی کا ڈول لایا اور اسے اس پر بہا دیا ۔
حدیث 662 — صحيح مسلم 2:128
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ بَوْلَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ .
عبداللہ بن نمیر نےہشام سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروج بن زبیر ) سے اور انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ ( اپنی خالہ ) حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا ، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کو گھٹی دیتے ۔ آپ کے پاس ایک بچہ لایا گیا ، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے ( رگڑ کر ) دھویا نہیں ۔
حدیث 663 — صحيح مسلم 2:129
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ يَرْضَعُ فَبَالَ فِي حِجْرِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ .
جریر نے ہشام سے روایت کی ، انہو نے اپنے والد سے اور انہو ں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا کہ رسول ا للہ ﷺ کی خدمت میں ایک شیر خوار بچہ لایا گیا ، اس نے آپ کی گود میں پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا ۔