ابو اویس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کی ہے جس طرح مالک نے کی ہے البتہ اس نے ( حتی جازھا ) حتی کہ اس سے آگے نکل گئے کے بجائےئ ) حتی أنجزها ( حتی کہ اس کو مکمل کیا ) کہا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ انبیاء میں سے ہر ایک نبی کوایسی نشانیاں ( معجزے ) دی گئیں جن ( کو دیکھ کر ) لوگ ایمان لائے ، اور وحی مجھی کو دی گئی ، جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی ، ( وہ معجزہ بھی ہے ، اور نور بھی ’’ولكن جعلنه نورا ‘ ‘ ) اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکار میرے ہو ں گے ۔ ‘ ‘
ہشیم نے صالح بن صالح ہمدانی سے خبر دی ، انہوں نے شعبی سےروایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے اہل خراسان میں سے ایک آدمی کو دیکھا ، اس نے شعبی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا : اے ابو عمرو! ہماری طرف اہل خراسان اس آدمی کے متعلق جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے ، پھر اس سے شادی کر لے ( یہ ) کہتے ہیں کہ وہ اپنے قربانی کر کے جانور پر سوار ہونے والے کے مانند ہے ۔ شعبی رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اپنے والد سے حدیث سنایئ کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا : ’’تین آدمی ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا : اہل کتاب کاآدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور نبیﷺ ( کے دور ) کو پایا تو آپ پر بھی ایمان لایا ، آپ کی پیروی کی اور آپ کی تصدیق کی تو اس کےلیے دو اجر ہیں ۔ اور وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے ، اس نے اللہ کا جو حق اس پر ہے ، ادا کیا اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کیا تو اس کےلیے دو اجر ہیں ۔ اور ایک آدمی جس کی کوئی لونڈی تھی ، اس نے اسے خوراک دی تو بہترین خوراک مہیا کی ، پھر اسے تربیت دی تو بہت اچھی تربیت دی ، پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لی تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں ۔ پھر شعبی نے خراسانی سے کہا : یہ حدیث بلا مشقت لے لو ۔ پہلے ایک آدمی اس سے بھی چھوٹی حدیث کے لیے مدینہ کا سفر کرتا تھا ۔
حدیث 388 — صحيح مسلم 16:101
عبدہ بن سلیمان ، سفیان اور شعبہ نے صالح بن صالح کے واسطے سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔
حدیث 389 — صحيح مسلم 1:294
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ صلى الله عليه وسلم حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ " .
لیث نے ابن شہاب سے حدیث سنائی انہوں نے ابن مسیب سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم رضی اللہ عنہ تم میں اتریں گے ، انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے ، پس وہ صلیب کو توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ ختم کر دیں گے اور مال کی فراوانی ہو جائے گی حتی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا ۔ ‘ ‘
سفیان بن عیینہ ، یونس اور صالح نے ( ابن شہاب ) زہری سے ( ان کی ) اسی سند سے روایت نقل کی ۔ ابن عیینہ کی روایت میں ہے : ’’ انصاف کرنے والے پیشوا ، عادل حاکم ‘ ‘ اور یونس کی روایت میں : ’’عادل حاکم ‘ ‘ ہے ، انہوں نے ’’انصاف کرنے والے پیشوا ‘ ‘ کا تذکرہ نہیں کیا ۔ اور صالح کی روایت میں لیث کی طرح ہے : ’’انصاف کرنےوالے حاکم ‘ ‘ اور یہ اضافہ بھی ہے : ’’حتی کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا ۔ ‘ ‘ ( کیونکہ باقی انبیاء کےساتھ محمدرسول اللہ ﷺ پرمکمل ایمان ہو گا ، او راولو العزم نبی جو صاحب کتاب و شریعت تھا ۔ آپ کی امت میں شامل ہو گا اور اسی کے مطابق فیصلے فرما رہا ہو گا ۔ ) پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ( آخر میں ) کہتے ہیں : چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : ’’ اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہو گا مگر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا ( اور انہی کے ساتھ امت محمدیہ میں شامل ہو گا ۔ ) ‘ ‘
عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! یقیناً عیسیٰ بن مریم رضی اللہ عنہ عادل حاکم ( فیصلہ کرنےوالے ) بن کر اتریں گے ، ہر صورت میں صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے او رجزیہ موقوف کر دیں گے ، جو ان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے محنت و مشقت نہیں لی جائے گی ( دوسرے وسائل میسر آنے کی وجہ سے ان کی محنت کی ضرورت نہ ہو گی ) لوگوں کے دلوں سے عداوت ، باہمی بغض و حسد ختم ہو جائے گا ، لوگ مال ( لے جانے ) کے لیے بلائے جائیں گے لیکن کوئی اسے قبول نہ کرے گا ۔ ‘ ‘
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع نےمجھے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس وقت تم کیسے ( عمدہ حال میں ) ہو گےجب مریم کےبیٹے ( عیسیٰ رضی اللہ عنہ ) تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا؟ ‘ ‘ ( اترنے کےبعد پہلی نماز مقتدی کی حیثیت سے پڑھ کر امت محمدیہ میں شامل ہو جائیں گے ۔)
ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا ( ابن شہاب ) کے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم کیسے ہو گے جب مریم کے بیٹے تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہاری پیشوائی کریں گے ؟ ‘ ‘ ( جب امامت کرائیں گے تو بھی امت کے ایک فرد کی حیثیت سے کرائیں گے ۔)