ابو عمران اور ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دوزخ سے چار آدمی نکلیں گے ، انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا ۔ ان میں سے ایک متوجہ ہو گا اور کہے گا : اے میرے رب !جب تو نے مجھے اس سے نکال ہی دیا ہے تو اب دوبارہ اس میں نہ ڈالنا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے نجات دے دے گا ۔ ‘ ‘
ابو کامل فضیل بن حسین جحدری اور محمد بن عبید غبری نے کہا : ( الفاظ ابو کامل کے ہیں ) ہمیں ابو عوانہ نے قتادہ سےحدیث سنائی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نےکہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا اور وہ اس بات پر فکر مند ہوں گے ( کہ اس دن کی سختیوں سے کیسے نجات پائی جائے؟ ) ( ابن عبید نے کہا : ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی ) او ر وہ کہیں گے : اگر ہم اپنے رب کے حضور کوئی سفارش لائیں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ ( کی سختیوں ) سے راحت عطا کر دے ۔ آپ نے فرمایا : چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اورکہیں گے : آپ آدم ہیں ، تمام مخلوق کے والد ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ، آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں کہ وہ ہمیں اس ( اذیت ناک ) جگہ سے راحت دے ۔ وہ جواب دیں گے : میں اس مقام پر نہیں ، پھر وہ اپنی غلطی کو ، جو ان سے ہو گئی تھی ، یاد کر کے اس کی وجہ سے اپنےرب سے شرمندگی محسوس کریں گے ، ( اور کہیں گے : ) لیکن تم نوح رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ، وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ( لوگوں کی طرف ) مبعوث فرمایا ، آپ نے فرمایا : تو اس پر لوگ نوح رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں گے ۔ وہ کہیں گے : یہ میرا مقام نہیں اور وہ اپنی غلطی کو ، جس کا ارتکاب ان سے ہو گیا تھا ، یادکرکے اس پر اپنے رب کی شرمندگی محسوس کریں گے ، ( اور کہیں گے : ) لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل ( خالص دوست ) بنایا ہے ۔ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے : یہ میرا مقام نہیں ہے اور وہ اپنی غلطی کو یادکریں گےجو ان سے سرزد ہو گئی تھی اور اس پر اپنے رب سے شرمندہ ہوں گے ، ( اور کہیں گے : ) لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نےکلام کیا اور انہیں تورات عنایت کی ۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے ، وہ کہیں گے کہ میں اس مقام پر نہیں اور اپنی غلطی کو ، جو ان سے ہو گئی تھی ، یاد کر کے اس پر اپنے رب سے شرمندگی محسوس کریں گے ( او رکہیں گے : ) لیکن تم روح اللہ اور اس کے کلمے عیسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ۔ لوگ روح اللہ اور اس کے کلمے عیسیٰ رضی اللہ عنہ کےپاس آئیں گے ۔ وہ ( بھی یہ ) کہیں گے : یہ میرا مقام نہیں ہے ، تم محمدﷺ کے پاس جاؤ ، وہ ایسے برگزیدہ عبد ( بندت ) ہیں جس کے اگلے پچھلے گناہ ( اگر ہوتے تو بھی ) معاف کیے جا چکے ۔ ‘ ‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ پھر وہ میرے پاس آئیں گے ، میں اپنے رب ( کے پاس حاضری ) کی اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی ، اسے دیکھتے ہی میں سجدے میں گر جاؤں گا ، تو جب تک اللہ چاہے گا مجھے اس حالت ( سجدہ ) میں رہنے دے گا ۔ پھر کہا جائے گا : اے محمد! اپنا سر اٹھائیے ، کہیے : آپ کی بات سنی جائے گی ، مانگیے ، آپ کودیاجائے گا ، سفارش کیجیے ، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی ۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب تعالیٰ کی ایسی حمد وستائش بیان کروں گا جو میرا رب عز وجل خود مجھے سکھائے گا ، پھر میں سفارش کروں گا ۔ وہ میرے لیے حد مقرر کر دے گا ، میں ( اس کے مطابق ) لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا ، پھر میں واپس آکر سجدے میں گر جاؤں گا ۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا ، پھر کہا جائے گا : اپنا سر اٹھائیے ، اے محمدﷺ!کہیے : آپ کی بات سنی جائے گی ، مانگیے ، آپ کو ملے گا ، سفارش کیجیے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی ۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جومیرا رب مجھے سکھائے گا ، پھر میں سفارش کروں گا تووہ میرے لیے پھر ایک حد مقرر فرما دےگا ، میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا ۔ ‘ ‘ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ نےکہا : مجھے یاد نہیں ، آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا ) پھر میں کہوں گا : ’’اےمیرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں بچا جنہیں قرآن نے روک لیا ہے ، یعنی جن کا ( دوزخ میں ) ہمیشہ رہنا ( اللہ کی طرف سے ) لازمی ہو گیا ہے ۔ ‘ ‘ ابن عبید نےاپنی روایت میں کہا : قتادہ نے کہا : یعنی جس کا ہمیشہ رہنا لازمی ہو گیا ۔
دوسری سند سے جس میں ( ابو عوانہ کے بجائے ) سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے اور اس ( کی ہولناکیوں سے بچنے ) کی فکر میں مبتلا ہوں گے یا یہ بات ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی ۔ ‘ ‘ .... ( آگے ) ابو عوانہ کی حدیث کےمانند ہے ، البتہ انہوں نے اس حدیث میں یہ کہا : ’’پھر میں چوتھی بار اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گا ( یا چوتھی بار لوٹوں گا ) اور کہوں گا : اے میرے رب! ان کے سوا جنہیں قرآن ( کے فیصلے ) نے روک رکھاہے اور کوئی باقی نہیں بچا ۔ ‘ ‘
معاذ بن ہشام نے کہا : میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی ﷺ نےفرمایا : ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمع کرے گا ، پھر اس ( دن کی پریشانی سے بچنے ) کے لیے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی ۔ ‘ ‘ .... یہ حدیث بھی ان دونوں ( ابوعوانہ اور سعید ) کی حدیث کی طرح ہے ، چوتھی دفعہ کے بارے میں یہ کہا : ’’تو میں کہوں گا : اے میرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں جسے قرآن ( کے فیصلے ) نے روک لیا ہے ، یعنی جس کے لیے ( آگ میں ) ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے ۔
محمد بن منہال الضریر ( نابینا ) نے کہا : ہمیں یزید بن زریع نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں سعید بن ابی عروبہ اور دستوائی ( کپڑے ) والے ہشام نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسو ل اللہﷺ نے فرمایا .... ، اسی طرح ابوغسان مسمعی اور محمد بن مثنیٰ نےکہا : میرے والد نےمجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی ، ( انہوں نے کہا : ) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نےحدیث سنائی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’اس شخص کو آگ سے نکال لیا جائےگا جس نے لا اله الا الله کہا اور ا س کےدل میں ایک جوکے وزن کے برابر خیر ہوئی ، پھر ایسے شخص کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے لا اله الا الله کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر خیر ہوئی ، پھر اس کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے لا اله الا الله کہا اور اس کےدل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر ہوئی ۔ ‘ ‘ ( گزشتہ متعدد احادیث سے وضاحت ہوتی ہے کہ خیر سے مراد ایمان ہے ۔ ) ابن منہال نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ یزید نے کہا : میں شعبہ سے ملا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو شعبہ نےکہا : ہمیں یہ حدیث قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی ﷺ سے سنائی ، البتہ شعبہ نے ’’ایک ذرے ‘ ‘ کے بجائے ’’مکئی کا دانہ ‘ ‘ کہا ۔ یزید نے کہا : اس لفظ میں ابو بسطام ( شعبہ ) سے تصحیف ( حروف میں اشتباہ کی وجہ سے غلطی ) ہو گئی ۔
معبد بن ہلال عنزی نے کہا : ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت ( البنانی ) کو اپنا سفارشی بنایا ( ان کے ذریعے سے ملاقات کی اجازت حاصل کی ۔ ) ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے ۔ ثابت نے ہمارے لیے ( اندر آنے کی ) اجازت لی ۔ ہم اندر ان کے سامنے حاضر ہوئے ۔ انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ اپنی چارپائی پر بٹھالیا ۔ ثابت نے ان سے کہا : اے ابوحمزہ! بصرہ کےباشندوں میں سے آپ کو ( یہ ) بھائی آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ انہیں شفاعت کی حدیث سنائیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں حضرت محمدﷺ نے بتایا : ’’ جب قیامت کا دن ہو گا تولوگ موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے ۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے : اپنی اولاد کے حق میں سفارش کیجیے ( کہ وہ میدان حشر کے مصائب اور جاں گسل انتظار سے نجات پائیں ۔ ) وہ کہیں گے : میں اس کے لیے نہیں ہوں ۔ لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کا دامن تھام لو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل ( خالص دوست ) ہیں ۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے ۔ وہ جواب دیں گے : میں اس کے لیےنہیں ۔ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ جاؤ وہ کلیم اللہ ہیں ( جن سے اللہ نے براہ راست کلام کیا ) تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضری ہو گی ۔ وہ فرمائیں گے : میں اس کے لیے نہیں ۔ لیکن تم عیسیٰ رضی اللہ عنہ کےساتھ لگ جاؤ کیونکہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ۔ تو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آمد ہو گی ، وہ فرمائیں گے : میں اس کے لیے نہیں ۔ لیکن تم محمدﷺ کے پاس پہنچ جاؤ ، تو ( ان کی ) آمد میرے پاس ہو گی ۔ میں جواب دوں گا : اس ( کام ) کے لیے میں ہوں ۔ میں چل پڑوں گا اور اپنے رب کے سامنے حاضری کی اجازت چاہوں گا ، مجھے اجازت عطا کی جائے گی ، اس میں اس کے سامنے کھڑا ہوں گا اور تعریف کی ایسی باتوں کے ساتھ اس کی حمد کروں گا جس پر میں اب میں قادر نہیں ہوں ، اللہ تعالیٰ ہی یہ ( حمد ) میرے دل میں ڈالے گا ، پھر میں اس کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا ، پھر مجھ سے کہا جائے گا : اے محمد! اپنا سراٹھائیں اور کہیں ، آپ کی بات سنی جائے گی ، مانگیں ، آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں ، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی ۔ میں عرض کروں گا : اے میرے رب ! میری امت ! ، میری امت! تو مجھ سے کہاجائے گا : جائیں جس کےدل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے نکال لیں ، میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا ، پھر میں اپنے رب تعالیٰ کے حضور لوٹ آؤں گا اور حمد کے انہی اسلوبوں سے اس کی تعریف بیان کروں گا ، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا تو مجھے کہا جائے گا : اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں ، آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں ، آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں ، آپ کی سفارش قبول ہو گی ۔ میں عرض کروں گا : اے میرے رب ! میری امت ! میری امت! مجھے کہا جائے گا : جائیں ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو ، اسے نکال لیں ۔ تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا ، پھراپنے رب کے حضور لوٹ آؤں گا اور اس جیسی تعریف سے اس کی حمد کروں گا ، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا ۔ تو مجھ سے کہا جائے گا : اے محمد ! ا پنا سر اٹھائیں ، کہیں ، آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں ، آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں ، آپ کی سفارش قبول ہو گی ۔ تو میں کہوں گا : اے میرے رب ! میری امت ! میری امت !تو مجھ سے کہا جائے گا : جائیں ، جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم ، اس سے ( بھی ) کم ، اس سے ( اور بھی ) کم ایمان ہو اسے آگ سے نکال لیں تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا ۔ ‘ ‘ یہ حضرت انس کی روایت ہے جو انہوں نے ہمیں بیان کی ۔ ( معبدی بن ہلال عنزی نے ) کہا : چنانچہ ہم ان کے ہاں سے نکل آئے ، جب ہم چٹیل میدان کے بالائی حصے پر پہنچے تو ہم نے کہا : ( کیا ہی اچھاہو ) اگر ہم حسن بصری کا رخ کریں اور انہیں سلام کرتے جائیں ۔ وہ ( حجاج بن یوسف کے ڈر سے ) ابو خلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے ۔ انہوں نےکہا : جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں سلام کیا ۔ ہم نے کہا : جناب ابوسعید! ہم آپ کے بھائی ابو حمزہ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) کے پاس سے آرہے ہیں ۔ ہم نے کبھی اس جیسی حدیث نہیں سنی جو انہوں شفاعت کے بارے میں ہمیں سنائی ۔ حسن بصری نے کہا : لائیں سنائیں ۔ ہم نے انہیں حدیث سنائی تو انہوں نے کہا : آگے سنائیں ۔ ہم نے کہا : انہوں نےہمیں اس سے زیادہ نہیں سنایا ۔ انہوں ( حسن بصری ) نے کہا : ہمیں انہوں نے یہ حدیث بیس برس پہلے سنائی تھی ، اس وقت وہ پوری قوتوں کے مالک تھے ۔ انہوں نے کچھ حصہ چھوڑ دیا ہے ، معلوم نہیں ، شیخ بھول گئے یا انہوں نے تمہیں پوری حدیث سنانا پسند نہیں کیا کہ کہیں تم ( اس میں بیان کی ہوئی بات ہی پر ) بھروسا نہ کر لو ۔ ہم نےعرض کی : آپ ہمیں سنا دیں تو وہ ہنس پڑے اور کہا : انسان جلدباز پیدا کیاگیا ہے ، میں نے تمہارے سامنے اس بات کا تذکرہ اس کے سوا ( اور کسی وجہ سے ) نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ میں تمہیں یہ حدیث سنانا چاہتا تھا ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’پھر میں چوتھی بار اپنے رب کی طرف لوٹوں گا ، پھر انہی تعریفوں سے اس کی حمد بیان کروں گا ، پھر اس حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا : اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں ، آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں ، آپ کو دیاجائے گااور سفارش کریں آپ کی سفارش قبول ہو گی ۔ تو میں عرض کروں گا : اے میرے رب ! مجھے ان کےبارے میں ( بھی ) اجازت دیجیے جنہوں نے ( صرف ) لا الہ الا اللہ کہا ۔ اللہ فرمائے گا : یہ آپ کے لیے نہیں لیکن میری عزت کی قسم ، میری کبریائی ، میری عظمت اور میری بڑائی کی قسم ! میں ان کو ( بھی ) جہنم سے نکال لوں گا جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ۔ ‘ ‘ معبد کا بیان ہے : میں حسن بصری کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت سنی ۔ میرا خیال ہے ، انہوں نے کہا : بیس سال پہلے ، اور اس وقت ان کی صلاحتیں بھر پور تھیں ۔
ابو حیان نے ابو زرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : ایک دن رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دستی اٹھا کر آپ کو پیش کی گئی کیونکہ آپ آپ کو مرغوب تھی ، آپ نے اپنےدندان مبارک سے ایک بار اس میں سے تناول کیا اور فرمایا : ’’ میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا ۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اگلون اور پچھلوں کو ایک ہموار چٹیل میدان میں جمع کرے گا ۔ بلانے والا سب کو اپنی آواز سنائے گا اور ( اللہ کی ) نظر سب کے آر پار ( سب کو دیکھ رہی ) ہو گی ۔ سورج قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور کرب لاحق ہو گا جوان کی طاقت سے زیادہ اور ناقابل برداشت ہو گا ۔ لوگ ایک دوسرے کہیں گے : کیا دیکھتے نہیں تم کس حالت میں ہو ؟ کیا دیکھتے نہیں تم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے ؟ کیا تم کوئی ا یسا شخص تلاش نہیں کرتے جو تمہاری سفارش کردے؟ یعنی تمہارے رب کے حضور ۔ چنانچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے : آدم علیہ السلام کے پاس چلو تو وہ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے : اے آدم ! آپ سب انسانوں کے والد ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ میں اپنی ( طرف سے ) روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں ۔ آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے ؟ آدم علیہ السلام جواب دیں گے : میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اسے سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس کے بعد کبھی آئے گا اور یقیناً اس نے مجھے ایک خاص درخت ( کےقریب جانے ) سے روکا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی تھی ، مجھے اپنی جان کی فکر ہے ، مجھے اپنی جان بچانی ہے ۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ ، نوح رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ۔ لوگ نوح رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے : اے نوح! آپ ( اہل ) زمین کی طرف سے بھیجے گئے سب سے پہلے رسول ہیں اور ا للہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندے کا نام دیا ہے ۔ آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں ؟ آپ دیکھتے نہیں ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے ؟ وہ انہیں جوا ب دیں گے : آج میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں نہ وہ اس سے پہلے کبھی آیا نہ آیندہ کبھی آئے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے لیے ایک دعا ( خاص کی گئی ) تھی وہ میں نے اپنی قوم کےخلاف مانگ لی ۔ ( آج تو ) میری اپنی جان ( پر بنی ) ہے ۔ مجھے اپنی جان ( کی فکر ) ہے ۔ تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ ، چنانچہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض گزار ہوں گے : آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل ( صرف اس کے دوست ) ہیں ، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں ، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے ؟ تو ابراہیم علیہ السلام ان سے کہیں گے : میرارب اس قدر غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنے غصے میں نہیں آیا اور نہ آیندہ کبھی آئے گا اور اپنے ( تین ) جھوٹ یاد کریں گے ، ( اور کہیں ) مجھے اپنی جان کی فکر ہے ، مجھے تو اپنی جان کی بچانی ہے ۔ کسی اورکے پاس جاؤ ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے خدمت میں حاضر ہوں گے اورعرض کریں گے : اے موسیٰ!آپ اللہ کےرسول ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغام اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے سے فضیلت عطا کی ، اللہ کے حضور ہمارے لیے سفارش کیجیے ، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں ؟ آپ دیکھتے نہیں ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے ؟ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے : میرا ب آج اس قدر غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی اس قدر غصے میں آیا اور نہ اس کے بعد آئے گا ۔ میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں جس کے قتل کا مجھے حکم نہ دیا گیا تھا ۔ میری جان ( کا کیا ہو گا ) میری جان ( کیسے بچے گی؟ ) عیسیٰ رضی اللہ عنہ کے پا س جاؤ ۔ لوگ عیسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے : اے عیسیٰ! آپ اللہ کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم رضی اللہ عنہ کی طرف القاء کیا اور اس کی روح ہیں ، اس لیے آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں ، آپ ہماری حالت نہیں دیکھتے جس میں ہم ہیں ؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے ؟ تو عیسیٰ رضی اللہ عنہ انہیں جواب دیں گے : میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصےمیں نہ وہ اس سے پہلے آیا اور نہ آیندہ کبھی آئے گا ، وہ اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے ، ( کہیں گے مجھے ) اپنی جان کی فکر ہے ، مجھے اپنی جان بچانی ہے ۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ ، محمدﷺ کے پاس جاؤ ۔ لوگ میرے پاس ےئین گآ اور کہیں گے : اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ ( اگر ہوتے تو بھی ) معاف کر دیے ، اپنے رب کےحضور ہماری سفارش فرمائیں ، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں ؟ آپ دیکھتے نہیں ہم کیا مصیبت آن پڑی ہے ؟ تو میں چل پڑوں گا اور عرش کے نیچے آؤں گا اور اپنے رب کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا ، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی ایسی تعریفوں اوراپنی ایسی بہترین ثنا ( کے دروازے ) کھول دے گا اور انہیں میرے دل میں ڈالے گا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے نہیں کھولے گئے ، پھر ( اللہ ) فرمائےگا : اے محمد! اپنا سر اٹھائیے ، مانگیے ، آپ کو ملے گا ، سفارش کیجیے ، آپ کی سفارش قبول ہو گی ۔ تو میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا : اےمیرے رب ! میری امت ! میری امت ! توکہا جائے گا : اے محمد! آپ کی امت کے جن لوگوں کا حساب و کتاب نہیں ان کو جنت کے دروازے میں سے دائیں دروازے سے داخل کر دیجیے اور وہ جنت کے باقی دروازوں میں ( بھی ) لوگوں کے ساتھ شریک ہیں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! جنت کے دو کواڑوں کے درمیان اتنا ( فاصلہ ) ہے جتنامکہ اور ( شہر بجر ) یا مکہ اور بصری کے درمیان ہے ۔ ‘ ‘
(ایک دوسرے سند سے ) عمارہ بن قعقاع نے ابو زرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسو ل اللہﷺ کے سامنے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا گیا ، آپ نے دستی اٹھائی ، آپ کو بکری ( کے گوشت ) میں سب سے زیادہ یہی حصہ پسند تھا ، آپ نےاس میں سے ایک بار اپنے داندان مبارک سے تناول کیا اور فرمایا : ’’میں قیامت کےدن تمام لوگوں کاسردار ہوں گا ۔ ‘ ‘ پھر دوبارہ تناول کیا اور فرمایا : ’’میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں گا ۔ ‘ ‘ جب آپ نے دیکھا کہ آپ کے ساتھی ( اس کے بارےمیں ) آپ سے کچھ نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا : ’’ تم پوچھتے کیوں نہیں کہ یہ کیسے ہو گا؟ انہوں نے پوچھا : یہ کیسے ہو گا؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’لوگ رب العالمین کے سامنےکھڑے ہو ں گے..... ‘ ‘ ( عمارہ نے بھی ) ابوزرعہ کے حوالے سے ابو حیان کی بیان کردہ حدیث کی طرح بیان کی اور ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں یہ اضافہ کیا : ( آپﷺ نے ) فرمایا : ابراہیم علیہ السلام نےستارے کے بارے میں اپنا قول : ’’یہ میرا رب ہے ‘ ‘ اور ان کے معبودوں کے بارے میں یہ کہنا : ’’ بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے ‘ ‘ اور یہ کہنا : ’’میں بیمار ہوں ‘ ‘ یاد کیا ۔ ( رسول اللہ ﷺنے ) فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے ! چوکھٹ کےدونوں بازؤں تک جنت کے کواڑوں میں سے ( ہر ) دو کواڑوں کے درمیان : اتنا فاصلہ ہے کہ جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان ، یا ( فرمایا ) ہجر اور مکہ کےدرمیان ہے ۔
محمد بن فضیل نے کہا : ہمیں ابو مالک اشجعی نے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، نیز ابو مالک نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہاکہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا : ’’ اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا تو مومن کھڑے ہو جائیں گے یہاں تک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی اور وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر عرض کریں گے : اے والد بزرگ ! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے ۔ وہ جواب دیں گے : کیا جنت سے تمہیں نکالنے کا سبب تمہارے باپ آدم کی خطاکے علاوہ کوئی اور چیز بنی تھی! میں اس کام کا اہل نہیں ہوں ۔ میرے بیٹے ، اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ آپ نے فرمایا : ’’ابراہیم علیہ السلام کہیں گے : اس کام ( کو کرنے ) والا میں نہیں ہوں ، میں خلیل تھا ( مگر اولین شفاعت کے اس منصب سے ) پیچھے پیچھے ۔ تم موسیٰ علیہ السلام کا رخ کرو ، جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے ۔ وہ جواب دیں گے : اس کام ( کو کرنے ) والا میں نہیں ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کی روح اور اس کے کلمے عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے ، میں اس کام ( کو کرنے ) والا نہیں ہوں ۔ تو لوگ محمدﷺ کے پاس آئیں گے ۔ آپ اللہ کے سامنے قیام فرمائیں گے اور آپ کو ( شفاعت کی ) اجازت دی جائے گی ۔ امانت اور قرابت داری کو بھیجا جائے گا ، وہ پل صراط کی دونوں جانب دائیں اوربائیں کھڑی ہو جائیں گی ۔ تم میں سے اولین شخص بجلی کی طرح گزر جائے گا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : میرے ماں باپ آپ پر قربان! بجلی گزرنے کی طرح ’’کیا ہے ؟ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’تم نے کبھی بجلی کی طرف نہیں دیکھا ، کس طرح پلک جھپکنے میں گزرتی اور لوٹتی ہے ؟ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح ( تیزی سے ) پھر پرندہ گزرنے اورآدمی کے دوڑنے کی طرح ، ان کے اعمال ان کو لے کر دوڑیں گے اور تمہارا نبی پل صراط پر کھڑا ہوا کہہ رہا ہو گا : اے میرے رب ! بچا بچا ( میری امت کے ہر گزرنے والے کو سلامتی سے گزار دے ۔ ) حتی کہ بندوں کے اعمال ان کو لے کر گزر نہ سکیں گے یہاں تک کہ ایسا آدمی آئے گاجس میں گھسٹ گھسٹ کر چلنے سے زیادہ کی استطاعت نہ ہوگی ۔ آپ نے فرمایا : ( پل ) صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے معلق ہو ں گے ، وہ اس بات پر مامور ہوں گےکہ جن لوگوں کے بارے میں حکم ہو ان کو پکڑ لیں ، اس طرح بعض زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے اور بعض آگ میں دھکیل دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال ( کی مسافت ) کے برابر ہے ۔
جریر نےمختار بن فلفل سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’لوگوں میں سے سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جو جنت کے بارے میں سفارش کرے گا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے ۔ ‘ ‘