قتیبہ بن سعید اور ابو کامل جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نمازیں تمھاری طرح ( اوقات میں ) پڑھتے تھے ، البتہ عشاء مؤخر کرکے تمھاری نماز سے کچھ دیر بعد پڑھتے تھے اور نماز میں تخفیف کرتےتھے ۔ اور ابو کامل کی روایت میں ( یخف فی الصلاۃ کے بجائے ) ’’یخفف کے الفاظ ہیں ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے ۔)
زہیر نے کہا : ہم سے سفیان بن عینہ نے ابو لبید سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’تمھاری نماز کے نام پر تمھارے گنوار لوگ غالب نہ آجائیں ، خبردار !یہ عشاء ہے ، وہ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے اندھیرا کر دیتے ہیں ( اور اندھیرے ( عتمہ ) کی بنا پر اس وقت پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ العتمہ ، یعنی اندھیرے کی نماز کہتےہیں
وکیع نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھاری صلاۃ عشاء کے نام پر بدوتم پر غالب نہ آجائیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں ا س کا نام عشاء ہے : اور بدو اونٹنیوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں ۔ ‘ ‘
سفیان بین عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سےاور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ مومن عورتیں صبح کی نماز نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتی تھیں ، پھر اپنی چادریں اوڑھے ہوئے واپس آتیں اور ( اندھیرے کی وجہ سے ) کوئی انھیں پہچان نہیں سکتا تھا ۔
حدیث 1458 — صحيح مسلم 5:291
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَقَدْ كَانَ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ الْفَجْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ وَمَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَغْلِيسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالصَّلاَةِ .
یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نےکہا : کچھ مومن عورتیں فجر کی نماز میں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوتی تھیں ، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ ﷺ کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر وپہچانی نہ جا سکتی تھیں
نصر بن علی جہضمی اور اسحاق بن موسیٰ انصاری نے کہا : ہمیں معن نے مالک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عمرہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایسا تھا کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھتے تو عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے گھروں کو لوٹتیں ، ( اور ) اندھیرےکی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں ۔ انصاری کی روایت میں ( متلفعات کے بجائے ) متلففات ( چادروں میں لپٹی ہوئی ) کے الفاظ ہیں ۔
محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے اور انھوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی ( بن ابی طالب ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب حجاج مدینہ منورہ آیا ( اور تاخیر سے نمازیں پڑھنے لگا ) تو ہم نے ( نماز کےاوقات کے بارے میں ) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نما دوپہر کو ( زوال کے فورا بعد ) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف ( اور روشن ہوتا ) تھا اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے اور عشاء کی نماز کو کبھی مؤخر کرتے اور کبھی جلدی ادا کرتے ، جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے ارو جب انھیں دیکھتے کہ دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے ۔ اور صبح ( کی نماز ) یہ لوگ ۔ ۔ یا کہا : نبی ﷺ اندھیرے میں پڑھتے تھے ۔
معاذ عنبری نے شعبہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حجاج نمازوں میں تاخیر کر دیتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) غندر کی روایت کی طرح ہے ۔
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سیار بن سلامہ نے خبر دی ، کہا : میں نے سنا کہ میرے والد ، حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں نے پوچھا : کیا آپ نے خود انھیں سنا ؟ انھوں نے کہا : ( اسی طرح ) جیسے میں ابھی تمھیں سن رہا ہوں ، کہا : میں نے سنا ، میرے والد ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کر رہے تھے ، انھوں نے بتایا کہ آپ اس ، یعنی عشاء کی نماز کو کچھ ( تقریباً ) آدھی رات تک مؤخر کرنے میں مضائقہ نہ سمجھتے تھے اور اس نماز سے پہلے سونے اور اس کے بات چیت کرنے کو نا پسند فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں بعد ازاں ( دوبارہ ) ان سے ملاتو میں نے ان سے ( پھر ) پوچھا تو انھوں ( سیار ) نے کہا : آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان نماز پڑھ کر مدینہ کے دور ترین حصے تک پہنچ جاتا اور سورج ( اسی طرح ) زندہ ( روشن اور گرم ) ہوتا تھا اور انھوں نے کہا : مغرب کے لیے میں نہیں جانتا ، انھوں نے کون سا وقت بتایا تھا ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں اس کے بعد ( پھر ) سیار سے ملا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا : ( آپ ﷺ ) صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان سلام پھیرتا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے انسان کے چہرے کو ، جسے وہ جانتا ہوتا ، دیکھتا تو اسے پہچان لیتا اور آپ اس ( نماز ) میں ساٹھ سے سو تک آیتیں تلاوت فرماتے تھے ۔
معاذ عنبری نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور انھوں نے سیار بن سلامہ سے روایت کی کہ میں نے ابو برزہ کو کہتے ہوئے سنا ، رسول اللہ عشاء کی نماز میں کچھ ( یعنی ) آدھی رات تک تا خیر کی پروانہ کرتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : پھر میں انھیں دوبارہ ملاتو انھوں نے کہا : یا تہائی رات تک ۔